.

فہرستِ مندرجات

تصنیف و تالیف میں مصنوعی ذہانت کا استعمال

(المورد امریکہ کی مطبوعات کے بارے میں ادارے کے موقف کی وضاحت)

‘چیٹ جی پی ٹی’ مصنوعی ذہانت کا ایک سافٹ ویئر ہے، جو افکار کو تشکیل دے کر انھیں تحریر کے قالب میں ڈھال سکتا ہے اور پھر ترتیب و تدوین کے عمل سے گزار کر مضامین، مقالات اور کتب کی صورت میں پیش کر سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے یہ انٹرنیٹ پر دستیاب تحریر و تقریر کے مواد کو استعمال کرتا ہے۔ اس کی جانچ پرکھ، تنقیح و تحقیق کے بعد مطلوب نتائج کو لمحوں میں سامنے لے آتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ گفتگو کو مضمون کی صورت میں لکھ سکتا ہے، مفصل عبارت کو مختصر، مختصر کو مفصل بنا سکتا، زبان و بیان کی اصلاح کر سکتا اور کسی بڑے مصنف کے اسلوب نگارش میں منعکس کر سکتا ہے۔

اس ایجاد سے جہاں کہنہ مشق مصنفین کی معاونت کے وسیع الاطراف اسباب پیدا ہوئے ہیں، وہاں نوآموز مصنفین کے لیے مشق و مزاولت اور تخلیق و تجدید کی جستجو کے امکانات میں کمی آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ارباب علم و دانش اس کے نفع و نقصان اور عمومی استعمال کے بارے میں متردد ہیں۔ تاہم، امکان یہی ہے کہ تصنیف و تالیف کے میدان میں بہت جلد یہ اور اس جیسے سافٹ ویئرز کو حتمی اور مرکزی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔

:اصولی موقف

سوال یہ ہے کہ تصنیف و تالیف کے میدان میں مصنوعی ذہانت جب تک پوری طرح مستعمل اور مسلم نہیں ہو جاتی ، اُس وقت تک کیا لائحہ عمل اختیار جائے؟ کیا اس کو مثبت طور پر قبول کرتے ہوئے مصنفین کو اس کے استعمال کی ترغیب دی جائے ؟ یا بر عکس طور پر اس کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اس کی مدد سے لکھی گئی تحریروں کو مسروق سمجھ کر رد کر دیا جائے؟ مزید بر آں، اگر قبول کیا جائے تو کیا کچھ حدود و قیود عائد کیے جائیں یا ان کے بغیر دیگر تحریروں کی طرحقابل اشاعت سمجھ لیا جائے ؟

ان سوالوں کے جواب میں ہمارا اصولی موقف درج ذیل نکات پر مبنی ہے: 1۔ ماہر اور کہنہ مشق مصنفین کو چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کی ترغیب دی جائے کہ وہ اسے معاون محقق اور معاون مدیر (assistant editor) کے طور پر استعمال کریں اور اس کی مدد سے اپنی نگارشات کو مزید وسعت، کثرت اور سرعت کے ساتھ پیش کریں۔ تاہم، اُنھیں اس معاونت کا بر ملا اعتراف لازما کرنا چاہیے۔۔

:لائحۂ عمل

اس موقف کی روشنی میں غامدی سینٹر آف اسلامک لرنگ، المورد امریکہ “ کی مطبوعات کتب و جرائد کے لیے درج ذیل لائحۂ عمل اختیار کیا گیا ہے
اُن سے گزارش کی جائے کہ اگر انھوں نے کسی مضمون یا مقالے کی تحقیق و تدوین میں ماہنامہ اشراق امریکہ چیٹ جی پی ٹی سے مدد حاصل کی ہے تو نمایاں طور پر اس کی تصریح کریں۔
ادارے کا شعبہ ادارت اس بارے میں مصنفین سے استفسار کرے تاکہ اگر سہواً صراحت نہیں ہو سکی تو صراحت کر دی جائے۔
دے کر یا موقف بتا کر لکھوائی گئی تحریروں کی اشاعت سے عموماً اجتناب کیا جائ (idea) چیٹ جی پی ٹی کو خیال
تاہم اگر مصلحتا ایسا کر ناضروری ہو تو اس پر مصنف کے نام کو اس طرح لکھا جائے
فکر و خیال: زید / بکر
تصنیف و تالیف: چیٹ جی پی ٹی

:موقف کا استدلال

درج بالا موقف میں ہمارا استدلال تصنیف و تالیف کی جس مسلمہ حقیقت پر مبنی ہے، وہ اجمالی طور پر یہ ہے کہ ایک مصنف اپنا مضمون یا مقالہ تحریر کرتے ہوئے بالعموم پانچ چیزوں کا التزام کرتا ہے
اول ” فکر و خیال” ہے۔ یعنی وہ کسی موضوع پر غور کر کے اپنے موقف اور اُس کے استدلال کو متعین کرتا ہے اور اس کی تنقیح و توضیح کے لیے بنیادی مواد کا مطالعہ کرتا ہے۔
– دوم جمع مواد ہے۔ یعنی وہ اساتذہ، ماہرین، لائبریریوں اور انٹرنیٹ سے رجوع کر کےعلمی مواد کو جمع کرتا ہے
سوم تصنیف و تالیف ہے۔ یعنی وہ اپنے فکر و خیال کو جمع شدہ علمی مواد کی آمیزش سے تحریر کے قالب میں ڈھالتا ہے۔
چهارم ترتیب و تدوین ے۔ یعنی تحریری کام مکمل ہونے کے بعد وہ اُس کی ترتیب بیان کو بہتر کرتا، سرخیاں قائم کرتا، پیراگرافنگ کرتا، زبان کی اصلاح کرتا، اوقاف لگاتا، حوالوں کی پڑتال کرتا اور اس نوعیت کے دیگر کام انجام دیتا ہے۔
پنجم ” پروف ریڈنگ” ہے۔ یعنی وہ اشاعت کے لیے بھیجنے سے پہلے تحریر کو لفظی طور پر پڑھ کر پروف کی غلطیوں کی اصلاح کرتا ہے۔
ان میں سے پہلی اور تیسری چیز ، یعنی ”فکر و خیال “ اور ”تصنیف و تالیف اصلاً تخلیقی نوعیت کی ہیں اور مصنف کی ذاتی کاوش پر مبنی ہوتی ہیں۔ انھی کی بنا پر کوئی شخص مصنف کہلاتا اور تحریر کی ملکیت کا حق دار سمجھا جاتا ہے۔ اس کام میں اگر کوئی دوسرا شریک ہو تو معاون مصنف کے طور پر اس کے لیے بھی نسبت اور ملکیت کے جملہ حقوق تسلیم کیے جاتے ہیں۔

ان میں سے پہلی اور تیسری چیز ، یعنی ”فکر و خیال “ اور ”تصنیف و تالیف اصلاً تخلیقی نوعیت کی ہیں اور مصنف کی ذاتی کاوش پر مبنی ہوتی ہیں۔ انھی کی بنا پر کوئی شخص مصنف کہلاتا اور تحریر کی ملکیت کا حق دار سمجھا جاتا ہے۔ اس کام میں اگر کوئی دوسرا شریک ہو تو معاون مصنف کے طور پر اس کے لیے بھی نسبت اور ملکیت کے جملہ حقوق تسلیم کیے جاتے ہیں۔

باقی تین چیزیں ”جمع مواد “، ”ترتیب و تدوین “ اور ” پروف ریڈنگ“۔ اصلاً تکنیکی ہیں۔ ان میں مصنف بالعموم بعض افراد یا سافٹ ویئرز کی خدمات حاصل کرتا ہے۔ کتاب کی صورت میں ان کا ذکر عام طور پر دیباچے یا خاتمے میں کر دیا جاتا ہے۔ رسائل و جرائد میں اس کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ اُن کے ٹائیٹل اور سب ٹائیٹل پر مدیر ان کا نام درج ہوتا ہے۔

تصنیف و تالیف میں مصنوعی ذہانت کا استعمال

زیادہ پڑھے جانے والے مضامین