.

فہرستِ مندرجات

دینِ اسلام ہی واحد حق ہے

علما کے اعلان کی شرعی حیثیت

اسلامی شریعت نے انسانی عقل کی اسی فطری ترتیب کو اپنے احکام کی بنیاد بنایا ہے۔ کوئی دینی فریضہ حقیقت کے ظہور، لزوم قرار نہیں دیا گیا، الّا یہ کہ انسانی استطاعت کی عدم موجودگی میں عمل لازم ٹھہرایا گیا اور موانع کے باقی رہنے کی حالت میں ذمے داری برقرار رکھی گئی ہو۔ دین جب انسانی شعور سے خطاب کرتا ہے تو اسی فطری منہاج کی رعایت کرتا ہے، یعنی اپنی ہر دعوت اور ہر تقاضے کو انسانی عقل کی ساخت کے مطابق ترتیب دیتا ہے۔چنانچہ جب دین کسی چیز کا حکم صادر کرتا ہے تو بالعموم اس کے پس منظر میں سبب کی صراحت کے ساتھ بیان کر دیتا ہے، یا خود حکم کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ اس سے علت بدیہی طور پر نمایاں ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ہر دینی مطالبے میں عمل کی استطاعت اور عملی موانع کا لحاظ بھی اصولی طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے، تاکہ کوئی ذمے داری انسانی طاقت اور عملی امکان کے حد سے باہر نہ ہو۔انہی اصولوں کی عملی تطبیق جہاد کے باب میں پوری وضاحت کے ساتھ دیکھی جا سکتی ہے۔ ظلم اور زیادتی کا ظہور جہاد کی مشروعیت کا بنیادی سبب ہے؛ مطلوبہ قوت، وسائل اور اجتماعی قیادت کی دستیابی اس کے وجوب کے لیے لازم شرط ہے؛ اور فساد یا یقینی ہلاکت کا اندیشہ اس ابلاغ سے جو اس فرضیت کو ساقط کر دیتا ہے۔چنانچہ جہاد کا وجوب ان تمام عناصر کی تکمیل پر موقوف ہے۔ محض ظلم اور عدوان کا واقعہ بہ ذات خود قتال کو لازم نہیں کرتا، جب تک کہ عمل کی صلاحیت میسر نہ ہو اور راہ کی رکاوٹیں دور نہ کر دی گئی ہوں۔فقہ اسلامی کے جلیل القدر عالم امام شافعیؒ نے اسی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا ہے:

“وجود السبب لا يستلزم الحكم حتى توجد الشروط وتنتفي الموانع”

(الموافقات، 2/10)

کسی حکم کا سبب موجود ہو جانا، خود اس کے لازم ہونے کو مستلزم نہیں ہوتا جب تک کہ تمام شرائط پوری نہ ہو جائیں اور تمام موانع دور نہ ہو جائیں۔

اسی اصولی ترتیب کی روشنی میں قرآن مجید قتال کے معاملے میں بھی مطلوبہ استطاعت پر بار بار زور دیتا ہے۔

:بدر کے موقع پر مومنین کو قتال پر ابھارتے ہوئے فرمایا
“اے نبیؐ! جب مومن عورتیں (اِس) جنگل پر ایمان لائیں (جس کا حکم نیچے دیا گیا ہے) اگر تمہارے لوگوں میں ہیں آدمی ثابت قدم ہوں گے تو وہ سوہرب غائب ہو جائیں گے اور اگر تمہارے سروں ہوں گے تو ہزار شکلوں پر بھاری ہوں گے۔ اس لیے کہ یہ لوگ ہیں جو بصیرت نہیں رکھتے۔” (65:8 انفال)
:تاہم جب مسلمانوں کی عملی قوت کو مدنظر رکھا گیا تو اللہ تعالیٰ نے تخفیف کا اعلان فرمایا
“اس وقت اللہ نے کھلا ہوا چمکا کر دیا ہے۔ اس لیے کہ اس نے جان لیا کہ تم میں کچھ کمزوری ہے۔ سو تمہارے قدم ثابت ہوں گے تو وہ پر عذاب بھیجیں گے اور اگر تمہارے ہزار پاؤں گے تو اللہ کے حکم سے دومزید پر عذاب بھیجیں گے۔” (الانفال 66:8)
تیسری چیز موانع ہیں۔

یہی اصول قتال کے نتائج پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر قتال کے نتیجے میں فساد کا غلبہ یا یقینی ناکامی کا اندیشہ ہو تو یہ مانع قرار پاتا ہے، اور اس صورت میں جہاد کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے۔ امام ابن تیمیہ نے اس حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا ہے

فَإِذَا تَعَيَّنَ الْجِهَادُ، وَلَمْ يَكُنْ فِي الْخُرُوجِ مَصْلَحَةٌ رَاجِحَةٌ عَلَى الْمَفْسَدَةِ ، لَمْ يَجِبُ الْخُرُوجُ ، بَلْ قَدْ يَحْرُم .

( منهاج السنة النبوية 314/4)

“اگرچہ جہاد فرض ہو چکا ہو، لیکن جب فساد کا اندیشہ غالب آ جائے اور مصلحت مغلوب ہو جائے ت قتال نہ صرف واجب نہیں رہتا بلکہ بعض اوقات ممنوع ہو جاتا ہے۔”
(منہاج السنۃ النبویہ، 4/314) اور قتال کی تیاری کے باب میں واضح ہدایت دی گئی:
“اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔”
(البقرہ 286)

اور ان کے مقابلے کے لیے جس حد تک قوت فراہم کر سکتے ہو، فراہم کرو۔ “ (الانفال 60:8)

مکہ کے ابتدائی دور میں جب اہل ایمان ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے تھے، تب قتال کی اجازت نہیں دی گئی، بلکہ انھیں صبر اور نماز پر استقامت کی تلقین کی گئی
“اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم رکھو۔”
(النساء 77)

اور ان کے مقابلے کے لیے جس حد تک قوت فراہم کر سکتے ہو، فراہم کرو۔ “ (الانفال 60:8)

بعض لوگ نماز میں تیمم کی رعایت سے یہ قیاس کرتے ہیں کہ جس طرح پانی نہ ہونے پر نماز ساقط نہیں ہوتی، اسی طرح استطاعت نہ ہونے کے باوجود قتال بھی فرض رہتا ہے، لیکن یہ قیاس محل نظر ہے۔ نماز ایک انفرادی عبادت ہے، جس میں پانی کی عدم موجودگی پر تمیم کا بدل مقرر ہے، جب کہ قتال ایک اجتماعی فریضہ ہے، جو امت کی مجموعی طاقت پر موقوف ہے۔ اگر استطاعت اور قوت موجود نہ ہو تو قتال کی فرضیت عملاً معلق ہو جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے ایسی حالت میں اہل ایمان کو صبر ، ہجرت اور صلح کا راستہ اختیار کرنے کی ہدایت دی، اور دشمن کے مقابلے میں قوت کی تیاری پر زور دیا تا کہ جب مطلوبہ استطاعت حاصل ہو تو قتال کی ذمہ داری ادا کی جاسکے۔ چنانچہ قتال کا فیصلہ کسی فرد یا گروہ کے سپرد نہیں کیا گیا، بلکہ اسے اجتماعی قیادت اور ریاست کے اختیار میں رکھا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں۔”
(النساء 59)
مزید فرمایا:

“اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو وہ اسے اڑا دیتے ہیں، حالانکہ اگر وہ اسے رسول اور اپنے میں سے اہل امر کے حوالے کر دیتے تو ان میں سے وہ لوگ جو استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں، اسے جان لیتے۔” (النساء 4: 83)

یہ آیات اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ قال جیسے نازک معاملات میں اقدام کا اختیار صرف اہل حل و عقد کو حاصل ہونا چاہیے تاکہ فیصلے حکمت، تدبر اور اجتماعی مصلحت کی بنیاد پر کیے جائیں۔
اسی اصول پر شریعت نے قتال کے وجوب کو بھی سخت شرائط کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ ظلم اور زیادتی اگرچہ جہاد کی غایت کا بیان اور مشروعیت کا بنیادی سبب ہیں، لیکن قتال کا وجوب محض سبب کے ظہور پر موقوف نہیں رکھا گیا۔ اس کے لیے مطلوبہ استطاعت کا تحقق، موانع کا ازالہ، حالات کی رعایت اور غالب مصلحت کی موجودگی ناگزیر شرط قرار دی گئی ہے۔
اسی اصول پر شریعت نے قتال کے وجوب کو بھی سخت شرائط کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ ظلم اور زیادتی اگرچہ جہاد کی غایت کا بیان اور مشروعیت کا بنیادی سبب ہیں، لیکن قتال کا وجوب محض سبب کے ظہور پر موقوف نہیں رکھا گیا۔ اس کے لیے مطلوبہ استطاعت کا تحقق، موانع کا ازالہ، حالات کی رعایت اور غالب مصلحت کی موجودگی ناگزیر شرط قرار دی گئی ہے۔
شریعت نے یہ اہتمام اس لیے کیا ہے کہ امت انتشار اور ہلاکت سے محفوظ رہے اور دین کا عملی نظام حکمت، عدل اور توازن پر استوار ہو۔ اس طے شدہ نظم کے برخلاف، علما کی طرف سے انفرادی رائے یا محض فتوے کی بنیاد پر جہاد کی فرضیت کا اعلان نہ صرف شریعت کے مقرر کردہ ضوابط کے صریح خلاف ورزی ہے، بلکہ دینی معاملات میں ایسا غیر شرعی اقدام جماعت کو مزید افتراق اور فساد کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

دینِ اسلام ہی واحد حق ہے

زیادہ پڑھے جانے والے مضامین