تباہی کی راکھ سے اٹھنے والی دنیا نے دوسری عالمی جنگ کے بعد جو پُر امن، خواب ناک اور نئی تہذیبی اقدار پر مبنی عالمی عرف تراشا تھا، انسانوں کے اس رومانوی عقد کا ہنی مون اب اختتام کو پہنچ رہا ہے۔
یہ وہ بندھن تھا جس کی ابتدا محبت، انصاف اور باہمی احترام کے وعدوں سے ہوئی تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ طاقت کی جبلت، مفاد کی حرص اور غلبے کی پیاس نے اس کے چہرے سے وہ تمام نقاب نوچ دیے جو اسے انسانی عظمت کا خواب اور تہذیبی ارتقا کا استعارہ بناتے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے منشور، انسانی حقوق کے اعلانات، عالمی عدالتوں کے قیام،قانون کی حکمرانی کے دعوےاور قومی خودمختاری کے نعروں نے ایک ایسے عالمی توازن کا تصور پیش کیا جس میں طاقت کی جگہ اصول، مفاد کی جگہ آدرش اور تسلط کی جگہ انصاف حکمرانی کرے گا۔ ایسا محسوس ہوا کہ شاید تاریخ ایک نئے تہذیبی احساس کی طرف رجوع کر رہی ہے۔
وقت نے اس دل فریب سراب کی حقیقت بے نقاب کر دی۔ جو کچھ اصول، انصاف اور عالمی ضمیر کے نام پر تعمیر کیا گیا تھا، وہ آخرکار محض ایک مہلتِ فریب ثابت ہوا۔
تہذیبی خودفریبی کا وہ جمالیاتی نقاب طاقت کی جبلت، مفاد کی وحشت اور غلبے کی ازلی پیاس کے سامنے زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔
كُلُّ شَيْءٍ يَرْجِعُ إِلَىٰ أَصْلِهِ.
دنیااپنی اصل کی طرف لوٹنے لگی ہے اور انسانیت ایک بار پھر اس مقام پر آن کھڑی ہوئی جہاں طاقت ہی اب معیارِ حق ہے۔
ایسے میں امتِ مسلمہ کی حالت اور بھی عبرت ناک ہے۔ یہ وہی امت تھی جو فکری انحطاط، تہذیبی شکست اور استعماری غلامی کی پاتال میں جا گری تھی؛وہ امت جس کے ہزار سالہ اقتدار کا سورج غروب ہو چکا تھا۔ صفوی ہوں، مغل یا عثمانی! تینوں عظیم سلطنتیں تاریخ کے افق سے رخصت ہو چکی تھیں اور ان کی عظمت کی لاش پر کھڑا ہونے والا نیا عالمی تمدن امت کو ایک شکست خوردہ تماشائی کے درجے سے آگے بڑھنے نہ دے ۔
اسی تاریخی راکھ، اسی تہذیبی مایوسی اور شکست کی انھی گہرائیوں میں، خدا نے محض اپنے اذن سے مسلمانوں کو ایک نئی مہلت عطا کی۔ خود فاتحین باہم برسرِ پیکار ہو گئے اور ہم جو نہ کسی بیدار فکر کے وارث تھے، نہ کسی منظم قافلے کے مسافر،ایک کے بعد ایک خطے میں نیم خودمختاری کو حاصل کرنے لگے، یہاں تک کہ تدریجاً ریاستی وجود کی شکل میں امت کو عالمی منظرنامے پر ایک نئی سیاسی موجودگی عطا ہو گئی۔
وطن، وسائل، آبادی، ثقافت اور ایمان جیسی معنوی قوت کے ساتھ، ستاون جغرافیائی اکائیاں امت کے ہاتھ آئیں۔ یہ کسی تدبر یا سیاسی بصیرت کا حاصل نہ تھا، بلکہ ایک معجزاتی تنبیہ تھی؛ ایک الہٰی اشارہ اور نصرت کے قانون پر مشتمل ایک نیا عہد نامہ۔ پھر سن لیں، یہ عطا نہ کسی فکری و عملی یک سوئی کی علامت تھی، نہ کسی اندرونی بیداری کا عکس، بلکہ محض ایک خدائی مہلت تھی، جو شکست کی راکھ سے ایک نئی چنگاری اٹھانے کا امکان بن سکتی تھی!
لیکن ہر مہلت، اگر بصیرت سے محروم ہاتھوں میں آ جائے تو وہ نعمت کے بجاے ایک آزمایش اور ایک عبرت بن جاتی ہے۔ یہی ہمارے ساتھ بھی ہوا۔ ہم نے اس نعمت غیر مترقبہ کو نہ شکر کے ساتھ اپنایا، نہ قناعت کے ساتھ سنبھالا اور نہ حکمت کے ساتھ برتا۔
یوں داخلی محاذ پر ہم فکری یکجہتی کے بجاے فرقہ دارانہ کشاکش میں مبتلا ہوئے اور خارجی سطح پر غیر حقیقی تصادم کا راستہ چنا۔
اشتغالِ بالادنیٰ کی اس مہم میں پیش قدمی کا شرف مذہبی قیادت کو حاصل رہا؛ وہ قیادت جو فکری احیا کے بجاے جزوی معرکوں اور ماضی پرستی میں الجھی رہی۔ وہ قیادت جسے اندھیروں میں چراغ جلانے تھے، اس عنایتِ خسروانہ کو تدریجی حکمت کے دروازے پر دستک کے طور پر لینے کے بجاے عظمتِ رفتہ کی بازیافت کے خوابوں میں گم ہو گئی۔گویا صدیوں پر محیط زوال یکایک پلٹ جائے گا، اور عالمی غلبہ، محض جوشیلے خطبوں، احتجاجی نعروں اور جذباتی دہائیوں سے واپس آ جائے گا۔ یا للعجب۔
ایسی قیادت کے زیرِ اثر ہم نہ اپنے فکری زوال کی تہوں کو پار کرنے کا آغاز کر سکے، نہ روحِ عصر کی گونج سن سکے، اور نہ ہی اس علم و حکمت سے جڑ سکے جو اقوام کو ماضی کے خوابوں سے نکال کر حال کے حقائق سے ہم آہنگ کرتا ہے۔
اسی قیادت نے نیم خودمختاری کو اگلے مرحلے کی بنیاد بنانے کے بجاے اسے ناانصافی تصور کرتے ہوئے یوں دھتکارا، جیسے کوئی یتیم، جسے وقت نے شفقت، آغوش اور تحفظ عطا کر دیا ہو، محض ایک کھلونے کے ٹوٹنے پر پوری عطا کو ٹھکرا دینے پر آمادہ ہو جائے۔
ہمیں جو سیاسی آزادی عطا ہوئی تھی، وہ اگرچہ مکمل نہ تھی، مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اس عالمی شکست کے بعد ملی تھی، جہاں ہماری آنکھوں نے ماضی میں اپنی ماؤں کو اغیار کی لونڈیاں بنتے دیکھا تھا۔ ایسے پس منظر میں یہ آزادی، چاہے جتنی بھی محدود ہو، ایک تدریجی سفر کی ابتدائی سیڑھی ضرور تھی ، ایک ایسا مرحلہ، جس سے آگے بڑھ کر ہم اپنی خودمختاری کو حقیقت میں ڈھال سکتے تھے۔
مگر ہم نے اس عطا کو صرف اس لیے رد کر دیا کہ وہ ہمارے خوابوں کے عین مطابق نہ تھی۔ ہم نے اسے ’’نامکمل‘‘ کہہ کر ٹھکرا دیا، جیسے کوئی پیاسا، آدھا جام پیش کیے جانے پر، پورا پانی زمین پر انڈیل دے۔
اس ردِ عمل نے صرف ایک موقع کو ضائع نہیں کیا، بلکہ ہمیں خود فریبی کے اُس راستے پر ڈال دیا جہاں ہم نے حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجاے دوسروں پر الزام دھرنے کو شعار بنا لیا۔
طاقت کی کشمکش میں ہم نہ زادِ راہ لے کر اترے، نہ عقل و حکمت کا ساز و سامان۔ اور جب شکست نے ہماری خامی کو بے نقاب کیا تو ہم نے اسے دانائی کا غلاف پہنا کر، اپنی ہی کم زوری کو استقامت کا نام دے دیا۔ یہ تضادِ فکر ہر سطح پر نمایاں ہونے لگا۔
ہم نے حق تو مانگا، مگر صبر، فہم اور تدبر جیسے وہ لوازم جو اس کی راہ کے ناگزیر سنگِ میل تھے، انھیں اختیار کرنے سے گریز کیا۔ شہادت کو تو ہم نے ایمانی زیور کی طرح سینے سے لگائے رکھا، مگر زندگی کی پیچیدہ راہوں میں تعمیر اور تدریجی پیش قدمی کو ہمیشہ شکست کی نظر سے دیکھا۔ ہم نے نعرے ضرور سیکھے، مگر ان نعروں کی پشت پر کوئی حکمتِ عملی نہ تراشی۔ ہم نے احتجاج کو تو گلے لگایا، مگر خود احتسابی کو ایسا زہر سمجھا جس سے سامنا کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ ہم بار بار جذبات کے شعلے تو بھڑکاتے رہے، مگر ان شعلوں سے چراغ بنانے کا حوصلہ کبھی پیدا نہ کر سکے۔
اور جب کسی نے اس فکری روش سے ہٹ کر تعمیر و تجدید کی بات کی تو اسے مغرب کا آلۂ کار اور ملت کا غدار گردانا ۔
مذہبی قیادت کے تحت شکست کا یہ سفر جاری ہے۔
فلسطین، لبنان، شام، یمن، اور اب ایران ––ہر جگہ وہی دعواے مزاحمت، وہی بے بصیرتی اور وہی نتیجہ: داخلی تباہی، خارجی تنہائی، اور ایک بار پھر وہی سناٹا جو ہر نعرے کو نگل جاتا ہے۔
گویا ہر شکست کے بعد ہم صرف ملبہ سمیٹنے کے لیے زندہ رہ گئے ہیں، اور ہر امید محض ایک نوحے میں دفن ہو جاتی ہے۔ ان تمام بربادیوں کے بعد، مذہبی قیادت پچھلی ہزیمت کا روگ اٹھائے اگلے محاذ پر روانہ ہو جاتی ہے؛ دائرے کے اس سفر میں جذبات سے تباہی، تباہی سے جذبات اور ہر نئی ہزیمت کو عزیمت کا استعارہ بنانا تاکہ اگلی بربادی کے لیے جذبہ سلامت رہے۔
شکست ہماری تقدیر نہیں، مگر اسے فتح سمجھنے کا فریب ہی ہماری سب سے بڑی شکست ہے!
ـــــــــــــــــــــــــ