اللہ نے ،اُس کے فرشتو ں نے ،اور(اِس دنیا میں)علم حقیقی کے سب حاملین نے گواہی دی ہے کہ اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، وہ انصاف پرقائم ہے، اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ،زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔18
(یہ حقیقت ہے تو پھر اِس میں بھی کوئی شک نہیں کہ )اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے،
(اِس لیے کہ وہی اللہ کو ا ِس طرح ماننے کی دعوت دیتا ہے)، اور جنھیں کتاب دی گئی ، اُنھوں نے تو(اللہ کی طرف سے) اِس حقیقت کا علم اُن کے پاس آجانے کے بعد محض آپس کے ضدم ضدا کی وجہ سے اِس میں اختلاف کیا ہے۔ (یہ صریح انکارہے )، اورجو اللہ کی آیتوں کے اِس طرح منکر ہوں، وہ اُس سے بے خوف نہ رہیں ،اِس لیے کہ اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ چنانچہ وہ اگر تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ میں نے اور میرے پیرووں نے تو اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردیاہے۔ اور اہل کتاب سے اور(بنی اسمٰعیل کے) اِن امیوں سے پوچھو کہ کیا تم بھی اِسی طرح اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرتے ہو؟ پھر اگر کریں تو راستہ پاگئے اور اگر منہ موڑیں تو تم پر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ اپنے بندوں کو تواللہ خود دیکھنے والا ہے۔19-20
رہے یہ لوگ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے رہے ہیں اور اُس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں، نیز خدا کے اُن بندوں کو قتل کرتے رہے ہیں جو لوگوں میں سے انصاف پر قائم رہنے کی دعوت دیتے تھے تو اِنھیں ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔ یہی ہیں کہ جن کے اعمال دنیا اور آخرت ، دونوں میں ضائع ہوئے اوراب اِن کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔21-22
تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جو کتاب سے بہرہ یاب ہوئے، اُنھیں اللہ کی کتاب ہی کی طرف
بلایا جارہا ہے کہ اُن کے درمیان (اختلافات کا ) فیصلہ کر دے۔ پھر دیکھا نہیں کہ اُنھی میں سے ایک گروہ اُس سے منہ پھیر لیتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ منہ پھیرلینے والے لوگ ہی ہیں۔ اِن کے اِس رویے کی وجہ یہ ہے کہ اِن کا کہنا ہے کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز نہ چھوئے گی۔ ہاں، گنتی کے چند دنوں کی تکلیف، البتہ ہو سکتی ہے۔اِس طرح یہ جو کچھ گھڑتے رہے ہیں، اُسی نے اپنے دین کے معاملے میں اِنھیں دھوکے میں ڈال دیا ہے۔ لیکن کیا بنے گی اُس وقت جب اِن کو ہم ایک ایسے دن کی پیشی کے لیے اکٹھا کریں گے جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں اورجس میں ہر شخص کی کمائی کا بدلہ اُسے پورا دے دیا جائے گا اور لوگوں پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔23-25
( اِن کا عہد تمام ہوا،اِ س لیے اب ) تم دعا کرو کہ اے اللہ، بادشاہی کے مالک، توجس کو چاہے، بادشاہی دے اور جس سے چاہے، یہ بادشاہی چھین لے؛ اور جس کوچاہے، عزت دے اورجس کو چاہے،ذلیل کردے۔ تمام خیر تیرے ہی اختیار میں ہے۔ بے شک، توہرچیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (ہم جانتے ہیں کہ )تو رات کودن میں اور دن کو رات میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور (جانتے ہیں کہ) تو مردے سے زندہ کو اور زندہ سے مردے کو نکالتا ہے اورجس کو چاہتا ہے، بے حساب روزی عطا فرماتا ہے۔26-27
(یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اِن اہل کتاب کے لیے عنقریب صادر ہو جائے گا، اِس لیے ) ایمان والے اب مسلمانوں کو چھوڑ کر اِن منکروں کواپنا دوست نہ بنائیں اور (یاد رکھیں کہ ) جو یہ کریں گے، اللہ سے اُن کو کوئی تعلق نہیں ہے ، الاّ یہ کہ تم اُن سے بچو ، جیسا کہ بچنے کا حق ہے۔ اللہ تمھیں اپنے آپ سے ڈراتاہے اوراِس لیے ڈراتا ہے کہ (ایک دن) تمھیں اللہ ہی کی طرف لوٹناہے۔ (اے پیغمبر )، اِن (مسلمانوں) سے کہہ دو کہ جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے، تم اُسے چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ اُسے جانتا ہے، اور زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، اُسے بھی جانتا ہے، اوراللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ جس دن ہر نفس اپنی کی ہوئی نیکی سامنے پائے گا اور اُس نے جو برائی کی ہوگی، اُسے بھی دیکھے گا، اُ س دن وہ تمنا کرے گا کہ کاش اُس کے اور اِس دن کی پیشی کے درمیان ایک لمبی مدت حائل ہوجاتی۔ (یہ اللہ کی نصیحت ہے) اور اللہ تمھیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور اِس لیے ڈراتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے لیے بڑا مہربان ہے۔28-30
اِن سے کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہوتومیری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اورتمھارے گناہوں کو بخش دے گا، اور اللہ بخشنے والاہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ کہہ دو کہ اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو۔ پھر اِس کے بعد بھی یہ منہ موڑیں تو( اِنھیں بتادو کہ ) اِس طرح کے منکروں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔31-32
[باقی]