دجال کے واقعات
مندرجہ ذیل واقعات حدیث میں تاریخی ترتیب سے بیان ہوئے ہیں:
دجال کے ستر ہزار اصفہان کے یہودی پیروکارــــ
ولنا کے یہودیوں میں سوشلسٹ رجحانات (بیسویں صدی کے اوائل میں)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق دجال کے پیروکاروں میں اصفہان کے ستر ہزار یہودی شامل ہوں گے، جنھوں نے چادریں (طیالسہ) لی ہوں گے۔
اصفہان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں یہودیوں کا ایک معروف علمی و مذہبی مرکز تھا، جہاں کی یہودی برادری تلمودی علم، فقہی بصیرت اور مذہبی قیادت کے حوالے سے خاصی بااثر سمجھی جاتی تھی۔ اگرچہ بیسویں صدی کے آغاز میں اصفہان میں یہودی کمیونٹی موجود تھی، لیکن وہ علمی و فکری لحاظ سے اس حیثیت کی حامل نہ تھی جس کے لیے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں معروف تھی۔ اسی طرح کی ایک فکری روایت ہمیں بیسویں صدی کے اوائل میں ولنا (ولنیئس) میں بھی نظر آتی ہے، جسے ’’شمال کا یروشلم‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہاں کی یہودی برادری مدارس، کتب خانوں اور فکری مجالس کے مضبوط نظام کے ذریعے سے علم و ثقافت کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ ساتویں صدی کے اصفہان کے یہودی اور بیسویں صدی کے اوائل میں ولنا کے یہودی، اگرچہ مختلف ادوار اور ماحول سے تعلق رکھتے تھے، مگر ایک ملتی جلتی روایت — یعنی علم و دانش، مذہبی قیادت اور فکری سرگرمی — میں شریک نظر آتے ہیں۔ ان دونوں ادوار و مقامات میں مذہبی اور ثقافتی شناخت کے اظہار کا ایک خاص اسلوب تھا — اصفہان میں چادر کی صورت میں تو ولنا میں یدیش زبان و ادب کی روایت کے طور پر۔ حدیث میں مذکور ’’چادر‘‘ ایسی ہی روایات کا علامتی حوالہ ہے جو ان کی تہذیبی و دینی وابستگی کی نمایندگی کرتی ہے۔
حدیث میں مذکور ’’ستر ہزار‘‘ کا عدد ولنا میں بیسویں صدی کے آغاز میں موجود یہودی آبادی کی طرف اشارہ ہے، جو 1897ء میں 63,000 تھی اور 1901ء میں بڑھ کر 76,000 ہو گئی۔ اسی دور میں ولنا کی یہودی برادری انقلابی تحریکوں، بالخصوص سوشلسٹ اور مارکسی نظریات میں بھرپور طور پر متحرک تھی۔ خاص طور پر 1897ء میں ’’جنرل یہودی مزدور پارٹی‘‘ کا ولنا میں قیام اور 1905ء کے ناکام روسی انقلاب میں ان کی شرکت قابلِ ذکر ہے، جہاں ولنا کے یہودیوں نے واضح طور پر ایک سوشلسٹ ایجنڈے کے تحت انقلابی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
مشرق کی سمت سے آنا اور شام اور عراق کے درمیان ظاہر ہونا ــــ
سوویت یونین کا مغرب کے مقابل نئی عالمی طاقت کے طور پر ظہور (1922ء)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شام اور عراق کے درمیان کا خطہ بازنطینی اور ساسانی سلطنتوں کے درمیان ایک متنازع سرحدی علاقہ تھا، جہاں کسی ایک طاقت کو مستقل اور بلامزاحمت غلبہ حاصل نہ تھا۔ احادیث میں دجال کے اسی علاقے میں ظاہر ہونے کا ذکر، دو اہم علامتی مفاہیم رکھتا ہے: اول، یہ کہ دجال کسی موجودہ طاقت کا تسلسل نہیں ہوگا، بلکہ ایک نئی اور خودمختار قوت کے طور پر اُبھرے گا۔ دوم، یہ کہ اس کا ظہور مدینہ کے مشرق کی جانب سے ہوگا۔
تاریخی طور پر، سوویت یونین کا بیش تر حصہ مدینہ کے مشرق میں واقع تھا اور جب یہ 1922ء میں وجود میں آیا تو دنیا بھر میں اسے مشرق سے اُبھرنے والی ایک نئی طاقت کے طور پر دیکھا گیا — نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے، بلکہ نظریاتی اعتبار سے بھی۔ کمیونزم، سرمایہ دارانہ مغربی دنیا کے مقابل ایک انقلابی نظام کے طور پر پیش کیا گیا، جس نے مذہب، معاشرت اور سیاست میں ایک نئی جہت متعارف کرائی۔ اس لحاظ سے، دجال کے مشرق سے ظہور کی علامت اور سوویت یونین کا قیام ایک گہری معنوی مماثلت رکھتے ہیں۔
دجال کا رزق دینا اور لوگوں کا ایمان لاناــــ
سوویت یونین کی مصنوعی خوش حالی اور پروپیگنڈا (1928 ء –1932 ء)
حدیث کے مطابق، دجال لوگوں کو بلائے گا اور وہ اس پر ایمان لے آئیں گے۔ دجال حکم دے گا، آسمان بارش برسائے گا، اور زمین فصلیں اگائے گی اور جانور دودھ سے بھرے ہوں گے۔
یہ منظر سوویت یونین کے ابتدائی دور، خاص طور پر پہلے پانچ سالہ منصوبے (1928ء–1932ء) کے دوران میں علامتی طور پر دجال کے فریب کی عکاسی کرتا ہے—لوگوں نے اس نظام کو مذہبی عقیدے جیسی یقین دہانی کے ساتھ قبول کیا اور ریاست نے بہ ظاہر معجزاتی نتائج دیے: گونجتے کارخانے، بھرپور فصلیں اور خوش حالی کا ایک مصنوعی تاثر۔ ’’اسٹاخانوف تحریک‘‘ جیسے اقدامات میں مزدوروں کو ناقابلِ یقین اہداف سے بھی آگے بڑھتے ہوئے دکھایا گیا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ کمیونزم فطرت کو قابو میں لا سکتا ہے اور لامحدود ترقی لا سکتا ہے، بالکل ویسے ہی، جیسے دجال بارش اور مال و دولت لا کر لوگوں کو متاثر کرے گا۔
لوگوں کا دجال کی دعوت کو رد کرنا، اور دجال کا ان کو قحط اور مفلسی میں مبتلا کرنا ــــ ہولودومور قحط (1932 ء –1933 ء)
حدیث کے مطابق، دجال ان لوگوں کے پاس جائے گا جو اس کی دعوت کو رد کریں گے، اور وہ قحط، بھوک اور مال و دولت کے نقصان کا شکار ہوں گے، یہاں تک کہ ان کے پاس کوئی مال و دولت باقی نہیں رہے گا۔
یہ منظر یوکرین کے کسانوں سے مشابہت رکھتا ہے، جنھوں نے کمیونسٹ اجتماعی زراعت کی مخالفت کی۔ ریاست نے خوراک ضبط کر لی، رسد بند کر دی اور مزاحمت کو کچل دیا، جس کے نتیجے میں ہولودومور (1932ء–1933ء) جیسا انسان ساختہ قحط پیدا ہوا۔ قدرتی قحط نہ ہونے کے باوجود، پالیسیوں نے کھیتوں کو ویران، مویشیوں کو ہلاک اور عوام کو بھوک کا شکار کر دیا۔ جیسے دجال انکار کرنے والوں کو تباہی میں چھوڑ دیتا ہے، ویسے ہی ریاست نے ان لوگوں کو مکمل بربادی میں چھوڑ دیا، جس کے نتیجے میں پینتیس سے پچاس لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔
دجال کا ویران زمین سے خزانے کو نکالنا ــــ
سوویت یونین کا دور دراز علاقوں سے معدنیات کو نکالنا (1933 ء کے بعد)
حدیث کے مطابق، دجال ایک ویران زمین سے گزرے گا اور کہے گا: ’’اپنے خزانے نکالو‘‘، تو زمین کے خزانے نکل کر مکھیوں کے جھرمٹ کی طرح اس کے گرد جمع ہو جائیں گے۔
یہ منظر اس دور سے مشابہ ہے جب سوویت یونین نے نظریاتی گرفت مضبوط کرنے کے بعد سائبریا، وسطی ایشیا اور یورال جیسے دور افتادہ اور ویران علاقوں کا رخ کیا اور وہاں سے قدرتی وسائل نکالنے کا وسیع عمل شروع ہوا۔ خصوصاً دوسرے پانچ سالہ منصوبے (1933ء–1937ء) کے دوران میں، سونا، کوئلہ، تیل اور دیگر معدنیات جبری مشقت اور ریاستی صنعت کاری کے ذریعے سے حاصل کی گئیں اور ان قیمتی وسائل کو یوں مرکز میں جمع کیا گیا، جیسے دجال کے ایک حکم پر خزانے زمین سے نکل کر اس کے گرد سمٹ آئے ہوں۔ یہ عمل صرف ایک منصوبے تک محدود نہ رہا، بلکہ بعد کے سالوں میں بھی سوویت معیشت کا مرکز و محور یہی وسائل رہے۔
دجّال کا مدینہ میں داخل ہونے سے قاصر رہنا ــــ
مسلم دنیا میں سوویت اثر و رسوخ کی ناکامیاں (بیسویں صدی کا دوسرا حصہ)
حدیث میں ذکر ہے کہ دجال مدینہ کے قریب قیام کرے گا، لیکن مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا، کیونکہ فرشتے اس کی حفاظت کریں گے۔ پھر فرشتے اس کا رخ شام کی طرف موڑ دیں گے اور وہیں وہ ہلاک ہو جائے گا۔
’’مدینہ‘‘ یہاں صرف ایک شہر نہیں، بلکہ پوری مسلم امت کی نمایندگی کرتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مدینہ مسلمانوں کی ریاست کا مرکز تھا۔ دوسری جانب، شام اس وقت بازنطینی عیسائیوں کا علاقہ تھا، جو عیسائی دنیا کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس حدیث کو علامتی طور پر سویت یونین کے مسلم دنیا میں اپنے قدم جمانے میں ناکامی کے بعد اپنے اختتام سے پہلے عیسائی دنیا کی طرف رخ کرنے کے طور پر تعبیر کیا گیا ہے۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد سوویت یونین ایک عالمی طاقت کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا اور دنیا بھر میں اپنے اثر و رسوخ کو پھیلایا، جس میں مسلمانوں کو سوویت بلاک میں شامل کرنے اور کمیونزم اختیار کرنے کی کوششیں بھی شامل تھیں۔ تاہم، سوویت حکومت کا دہریہ نظریہ مسلم دنیا کے قدامت پسند اور گہرے مذہبی ماحول سے شدید طور پر متصادم تھا۔ یہی نظریاتی اختلاف مسلمانوں کی دنیا میں کمیونزم کی قبولیت اور اثر و رسوخ کو محدود رکھنے کا باعث بنا۔—اور یوں، دجال مدینہ میں داخل نہ ہو سکا۔
مدینہ میں تین جھٹکےــــ امتِ مسلمہ کو درپیش عالمی سیاسی و فکری بحران
حدیث کے مطابق مدینہ تین بار لرزے گا، جس کے بعد ہر منافق اور کافر مدینہ سے باہر نکل کر دجال کی طرف چلا جائے گا۔ اس کی تشریح غالباً درج ذیل میں بیان تین تاریخی واقعات ہیں:
• 1948ء میں اسرائیل کا قیام اور نکبہ–1948ء میں اسرائیل کے قیام کے بعد لاکھوں فلسطینی بے دخل کر دیے گئے، جسے نکبہ (یعنی تباہی) کہا جاتا ہے۔ سینکڑوں دیہات تباہ ہوئے اور فلسطینی پناہ گزین بن گئے۔ مسلم دنیا نے اسے مغربی طاقتوں کی پشت پناہی سے ہونے والا بڑا ظلم سمجھا۔ اس سانحے نے عرب معاشروں کو ہلا کر رکھ دیا اور کئی نوجوانوں اور دانش وروں کو کمیونسٹ تحریکوں کی طرف راغب کیا تاکہ مزاحمت کی راہ اپنائی جا سکے۔
• 1956 کا سویز بحران – جب 1956ء میں برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے سویز نہر پر حملہ کیا تو مصر نے اس جارحیت کے خلاف سوویت یونین سے سفارتی اور سیاسی مدد حاصل کی۔ یہ پہلا بڑا موقع تھا جب کسی عرب ریاست نے کھلے عام سوویت طاقت پر انحصار کیا۔ اس واقعے نے مشرقِ وسطیٰ میں بائیں بازو کے نظریات کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں عراق اور شام میں بعث پارٹی جیسے قوم پرست اور سوشلسٹ گروہ اقتدار میں آئے، جب کہ جنوبی یمن میں ایک باقاعدہ کمیونسٹ ریاست قائم ہوئی۔
• 1967ء کی چھ روزہ جنگ – 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل کی فتح نے عرب قوم پرستی کو شدید دھچکا پہنچایا، جس کے نتیجے میں بائیں بازو کے نظریات کی ایک نئی لہر اُٹھی۔ اس کے اثرات سے فلسطینی مزاحمتی تحریکوں میں مارکسی دھڑوں کا ظہور ہوا، جن میں پی ایل ایف پی (پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین) نمایاں تھا، جس نے کھلے عام سوویت حمایت یافتہ انقلابی راستے کو اپنایا۔
بنی تمیم کی دجال کے خلاف مزاحمت ــــ آلِ شیخ اور کمیونزم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی تمیم قبیلے کے دجال کے خلاف ثابت قدم رہنے کی پیش گوئی فرمائی۔ یہ قبیلہ، جو تاریخی طور پر سعودی عرب، عراق اور خلیجی ریاستوں میں آباد ہے، بعد ازاں کمیونزم کے خلاف فکری و سماجی مزاحمت کی علامت بن کر سامنے آیا۔ بنی تمیم نے اسلامی روایات، عقائد اور قبائلی اقدار کو فروغ دے کر کمیونزم کے مادّی اور لادینی نظریات کو رد کیا۔ اس پیش گوئی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ آلِ شیخ—جو شیخ محمد بن عبد الوہاب کی نسل سے ہیں—اسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ سعودی عرب میں آلِ شیخ کے فکری اثر کے تحت کمیونزم کو نہ صرف لادین، بلکہ اسلام کے صریح مخالف تصور کیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ سوویت یونین سے کسی بھی قسم کا اتحاد عقیدے کے منافی اور ناقابل قبول سمجھا گیا۔
دجال کا ایک مسلمان کو قتل اور زندہ کرنا اور دوبارہ قتل نہ کر پانا ــــ
سوویت یونین اور افغانستان (1977 ء –1992 ء)
حدیث میں بیان ہوا ہے کہ ایک مسلمان جو مدینہ سے نکلے گا، اسے دجال کے پاس لے جایا جائے گا، جہاں دجال اسے قتل کرے گا اور دوبارہ زندہ کرے گا، لیکن دجال اس شخص کو دوبارہ قتل کرنے پر قادر نہیں ہوگا۔ ایک اور حدیث اس واقعے کی تفصیلات کو بیان کرتی ہے کہ دجال ظاہر ہوگا اور ایک مومن اس کا سامنا کرے گا۔ دجال کے فوجی اسے روک کر اس کی نیت کے بارے میں سوال کریں گے۔ جب وہ دجال کو اپنا رب ماننے سے انکار کرے گا تو وہ کہیں گے: ’’اسے قتل کر دو‘‘، مگر ان میں سے کچھ کہیں گے: ’’کیا تمھارے آقا (دجال) نے بغیر اس کی اجازت کے کسی کو قتل کرنے سے منع نہیں کیا؟‘‘ پھر وہ اسے دجال کے پاس لے جائیں گے۔ مومن اسے پہچان کر پکار اٹھے گا: ’’یہی دجال ہے!‘‘ دجال اس کے قتل کا حکم دے گا، اور اسے آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جائے گا، پھر دجال اسے زندہ کر دے گا۔ لیکن مومن دوبارہ دجال کو جھٹلائے گا اور اس کے فریب کو ظاہر کرے گا۔ دجال جب اسے دوبارہ قتل نہ کر سکے گا تو اسے اٹھا کر پھینک دے گا، ایسا محسوس ہوگا جیسے وہ جہنم میں جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اللہ کے نزدیک سب سے عظیم شہید ہوگا۔
یہاں ’’مدینہ‘‘ صرف ایک شہر نہیں، بلکہ پوری مسلم امت کی نمایندگی کرتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مدینہ مسلمانوں کی ریاست کا مرکز تھا۔ ’’مومن‘‘ افغانستان کی علامت ہے، جب کہ ’’دجال‘‘ سوویت یونین کی، اور دجال کے فوجی افغانستان میں موجود کمیونسٹ دھڑوں (پرچم اور خلق) کی نمایندگی کرتے ہیں۔ ’’قتل اور زندہ کرنا‘‘ کمیونسٹ انقلابات کی علامت ہے، جنھوں نے پرانے حکومتی اور سماجی ڈھانچوں کو ختم کرکے نئے نظام قائم کیے۔ ’’زندہ کرنا‘‘ ایک نئے کمیونسٹ نظام کے تحت سماجی تنظیم نو کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو اکثر انسانی مصائب کی بھاری قیمت پر مکمل ہوا۔ یہ حدیث افغانستان میں کمیونسٹ دھڑوں کے اقتدار، سوویت مداخلت اور اس کے خلاف مزاحمت کی ایک علامتی تعبیر کے طور پر سمجھی جا سکتی ہے:
1۔ مومن کا دجال کو رب نہ ماننا- 1977ء میں کمیونسٹ دھڑے کی بے دخلی: 1970ء کی دہائی میں، افغان حکومت میں کمیونسٹ جماعت کا دھڑا ’’پرچم‘‘ شامل تھا۔ تاہم، 1977ء میں صدر محمد داؤد خان نے کمیونسٹوں کی بغاوت کی منصوبہ بندی کا پتا لگا کر انھیں حکومت سے بے دخل کر دیا۔ یہ واقعہ حدیث میں دجال کے محافظوں کا سوال کرنا اور مومن کے دجال کو اپنا رب ماننے سے انکار کے مترادف ہے۔
2۔ دجال کے فوجی کا مومن کو قتل کرنے کی کوشش کرنا- 1978ء میں خلق کا انقلاب اور ظلم و جبر: 1978ء میں ثور انقلاب کے ذریعے سے ’’خلق‘‘ دھڑے نے زبردستی اقتدار پر قبضہ کر لیا، جس میں صدر داؤد خان کو قتل کر دیا گیا۔ یہ حدیث میں دجال کے فوجی کے مومن کو قتل کرنے کی کوشش کی تعبیر ہے۔ یہ سوویت یونین کے لیے بھی حیران کن تھا، کیونکہ وہ غیر متوقع انقلابات سے عدم استحکام سے بچنا چاہتا تھا۔ سوویت یونین کی یہ پالیسی حدیث کی اس بات سے مطابقت رکھتی ہے کہ ’’کیا تمھارے آقا (دجال) نے بغیر اس کی اجازت کے کسی کو قتل کرنے سے منع نہیں کیا‘‘۔
3۔ دجال کا مومن کو قتل اور زندہ کرنا- 1979ء میں سوویت مداخلت اور خلق کا صفایا: 1979ء میں سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کر کے خلق کے حکمران حافظ اللہ امین کو قتل کیا اور پرچم دھڑے کو اقتدار میں بٹھایا۔ یہ تبدیلی آپریشن اسٹورم333 کے ذریعے سے ممکن ہوئی، جس میں سوویت فورسز نے خلق قیادت کو قتل کیا، مزاحمت کو کچلا اور بڑے پیمانے پر قتل و غارت کی۔ یہ حدیث میں مومن کے اوپر تشدد اور قتل اور دوبارہ زندہ ہونے سے مماثلت رکھتا ہے، کیونکہ خلق دھڑے کو تشدد سے ہٹایا گیا اور پرچم دھڑا مسلط کر دیا گیا۔ اگرچہ ماضی میں خلق دھڑا کمیونسٹ نظریات کا حامی تھا، لیکن سوویت یونین کے طرزِ عمل نے اس کے کئی رہنماؤں کو بدظن کر دیا، جس کا خمیازہ انھیں بھاری نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑا۔
4۔ دجال کا مومن کو دوبارہ قتل نہ کر پانا- مجاہدین کی مزاحمت اور سوویت ناکامی: سوویت یونین نے افغانستان میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی، مگر مجاہدین کی مزاحمت بڑھتی ہی چلی گئی۔ حدیث میں مومن کی گردن کا تانبے میں بدل جانا، جس کی وجہ سے اسے دوبارہ قتل کرنا ممکن نہ رہا، سوویت فوجی کارروائیوں کی شدت اور ناکامی کا اشارہ دیتا ہے۔ 1989ء میں سوویت فوجوں کا انخلا حدیث میں دجال کے مومن کو دور پھینکنے کے مترادف ہے۔
5۔ مومن کی شہادت- 1992ء میں کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کے بعد شدید خانہ جنگی: 1992ء میں کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ اور شدید خانہ جنگی حدیث میں مومن کی شہادت کے مترادف ہے۔ اسی طرح، مومن کا جنت میں داخل ہونا ان مجاہدین کی خلوص نیتی کو ظاہر کرتا ہے، جنھوں نے سوویت یونین کے خلاف جنگ کو الحاد اور ظلم کے خلاف جہاد سمجھا۔
] باقی[