ناقد : شیخ عبد الجبار بلال
تلخیص : زید حسن
ایک سوال کیا گیا کہ بیرون ملک مقیم افراد کے لئے جمعہ کا کیا حکم ہے ؟
غامدی صاحب نے جو جواب عنایت فرمایا اس پر ہمارے کچھ ملاحظات ہیں ۔
غامدی صاحب نے تین باتیں کیں جو درج ذیل ہیں ۔
اول ۔ ” جمعہ ریاست پر فرض ہے “۔
اگر اس سے انکی یہ مراد ہے کہ ریاست فرائض کی ادائیگی میں شہریوں کی مدد اور خدمت کرے تو یہ بات بالکل درست ہے ۔ سورۃ نور آیت نمبر 55 ، 56 میں خلافت کی بات کی گئی ہے اور ساتھ ہی حکم دیا گیا ہے کہ شرک نہ کرو، نماز قائم کرو ، زکوۃ دو ۔اسلئے جب ریاست قائم ہو جائے تو تمام احکامات کو لاگو کرنا ریاست ہی کی ذمہ داری ہے ۔ اس میں جمعہ کی تخصیص نہیں ہے ۔
لیکن اگر انکی مراد یہ ہے کہ جمعہ فرض ہی ریاست پر ہے تو یہ بات درست نہیں ہے ۔ ابو داود اور ابن ماجہ میں مذکور ہے کہ سب سے پہلا جمعہ سیدنا اسد بن ضرارہ نے مدینہ میں پڑھایا لیکن آپﷺ اس وقت مکہ میں تھے اور وہاں بھی جمعہ فرض کر دیا گیا تھا ۔ ابن عباس رض فرماتے ہیں جمعہ مکہ میں فرض کر دیا گیا تھا لیکن اسے دشمن کے خوف سے قائم نہیں کیا گیا تھا (دارقطنی) عمر بن خطاب رض کے دور میں انہیں ایک خط ملا جس میں پوچھا گیا کہ ہم جمعہ کیسے قائم کریں ؟ تو آپ نے فرمایا ” تم جہاں ہو اسے قائم کرو”۔
دوم ۔ ” جمعے کا خطبہ سربراہِ ریاست دے سکتا ہے ،علماء اس بارے میں شدید غداری کے مرتکب ہیں “۔
یہ عقلا اور شرعا ممتنع ہے ۔ہمارے پاس احادیث کی کتب موجود ہیں جن میں جمعہ کی شرائط مذکور ہیں ۔ کسی کتاب میں یہ شرط لاگو نہیں کی گئی کہ جمعے کا خطبہ صرف ریاست کا سربراہ دے گا ۔ عقلا اس کا امتناع اسلئے ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک خلیفہ کے پیچھے ساری آبادی جمعہ ادا کرے ۔ انکی اقتدا میں چند لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں ۔ کیا جمعہ کے فضائل انہیں لوگوں کے لئے ہیں اور کیا اس قدر ترغیب صرف چند لوگوں کے لئے دی گئی ہے ؟
غامدی صاحب فرماتے ہیں : کیا آپ نے کبھی سنا کہ امام ابوحنیفہ یا شافعی ، مالک یا احمد بن حنبل نے جمعہ کا خطبہ دیا ہو ؟
عرض ہے کہ سنا تو ہم نے انکی بابت یہ بھی نہیں کہ انہوں نے عام دنوں کی نمازوں کی امامت کروائی ہو ؟ کیا انکی امامت کا علم نہ ہونا ان نمازوں کی جماعت کے ساتھ فرضیت ساقط کر دے گا ؟
سوم ۔ “اگر کہیں کسی کو جمعہ مل جائے تو پڑھ لینے میں حرج نہیں کیونکہ مسلمانوں کے غلط فیصلوں بھی انکے ساتھ شامل رہنا چاہئیے “۔
اس بات سے غامدی صاحب نے اپنے پہلے دونوں مقدمات کی خود تردید کر دی ہے جس پر ہم انکے شکر گزار ہیں ۔
ویڈیو دیکھنے کے لئے درج ذیل لنک کو کلک کریں ۔



