ناقد : مولانا طارق مسعود صاحب
تلخیص : زید حسن
غامدی صاحب سے ایک خاتون نے رجم کی بابت سوال کیا کہ ” امتِ مسلمہ کی روایت میں تمام بڑے آئمہ محصن کے زنا کی سزا رجم بتاتے ہیں لیکن آپ کہتے ہیں کہ اسکی سزا رجم نہیں بلکہ کوڑے ہیں ۔ تو کیا انہیں قرآن سمجھ میں نہیں آیا تھا” اسکا جواب غامدی صاحب نے اس طرح دیا کہ اصل سوال کو گھما کر اس بات کی طرف لے گئے جو سوال تھا ہی نہیں اور فرمایا” ہم اپنے تمام آئمہ کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ایک طرف قرآن و سنت ہو اور دوسری طرف آئمہ کی رائے ہو تو ہم قرآن و سنت کے مطابق عمل کرنے کے مکلف ہیں ” حالانکہ اس عورت نے یہ سوال نہیں کیا کہ آئمہ اور قرآن آمنے سامنے آ جائیں تو کس پر عمل ہو گا ؟ یہ تو ساری دنیا جانتی ہے کہ قرآن کے مقابلے پر فقہاء و محدثین کیا پورا عالمِ اسلام بھی آ جائے تو اصل دین وہی ہے جو قرآن بیان کر رہا ہے ۔ اس عورت نے دراصل سوال یہ پوچھا تھا کہ پوری سابقہ امت کی قرآن فہمی کی روایت ایک طرف کھڑی ہے اور آپ دوسری طرف کھڑے ہیں ؟ ایسا کیوں ہے ؟ لیکن غامدی صاحب نے اس سوال کو پلٹ دیا اور قرآن اور فقہاء کو مقابل کھڑا کر کے جواب دے دیا ۔
اختلاف کا سب کو حق ہے جیسے غامدی صاحب کو اگر حق حاصل ہے کہ وہ فقہاء سے اختلاف کریں تو ہمیں بھی حق حاصل ہے کہ حضرت آپ سے پوچھا کچھ جاتا ہے اور آپ جواب کچھ دیتے ہیں ۔
ویڈیو درج ذیل لنک کے ذریعے ملاحظہ فرمائیں ۔



