ناقد :شیخ عثمان صفدر
تلخیص : زید حسن
مورگیج ایک صورت ہے جس میں گھر کو خریدا جاتا ہے اور اسکی بابت علماء کا موقف یہی ہے کہ یہ حرام ہے لیکن جاوید غامدی صاحب نے اسکی بابت موقف اختیار کیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ یہ سود نہیں بلکہ یہ احسان ہے ۔ انکا موقف ہے کہ “جب پیسہ یوز ایبل چیز میں بدل جائے تو اس میں سود نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف کنیوم ایبل اشیاء میں ممکن ہے ۔ جب آپ گھر لیتے ہیں تو آپ اسکا کرایہ دیتے ہیں اور آخر میں مکان آپ کے نام ہو جانا سراسر احسان ہے ۔”
شریعت کے لحاظ سے تو یہ غلط ہے ہی کیونکہ اس میں ” لا تبع ما لیس عندک ” کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے ۔ علاوہ ازیں یہ باقاعدہ سود بھی ہے ۔
غامدی صاحب کی بات اقتصادیات اور اسکی اصطلاحات کے اعتبار سے بھی غلط ہے ۔ وہ یہ باور کروا رہے ہیں کہ گویا یہ لین دین کا معاملہ ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ اگر آپ ” مورگیج” کی تعریف دیکھیں تو پتا چلے گا کہ وہ ایک قسم کا قرض ہے ۔ اور اس ” مورگیج ” کا کوئی ایگریمنٹ دیکھیں تو اس میں واضح طور پر اس کی صراحت ہوتی ہے کہ آپ کو کتنا سود ادا کرنا ہے اور شرائط پر پورا نہ اترنے کی صورت میں کیا کیا پینلٹیز ہوں گی ۔
ویڈیو ذیل میں ملاحظہ ہو



