مقرر : مولانا طارق مسعود
تلخیص : زید حسن
غامدی صاحب نے جمعے کی نماز کی فرضیت کا بھی انکار کر دیا ہے ۔ اور روزے کی رخصت میں بھی توسیع فرما دی ہے ۔
جمعے کی نماز کی عدمِ فرضیت پر جناب کا استدلال ہے کہ مسلم ریاست میں خطبہ سربراہِ ریاست یا اسکے حکم سے اسکے نمائندے کا حق ہے اور اسی طرح ساری مسلم تاریخ میں ہوتا آیا ہے ۔
ہم مانتے ہیں کہ ایسا ہوتا آیا ہے لیکن مسلم ریاست کے سربراہ کو جمعے پڑھانے کا علم تھا تو وہ پڑھا رہے تھے لیکن یہ کہاں لکھا ہے کہ اگر مملکت کا سربراہ پڑھانے کی استعداد نہ رکھتا ہو تو امام بھی نہیں پڑھائے گا اور فرضیت ساقط ہو جائے گی ؟
قرآن تو کہہ رہا ہے کہ تم پر جمعے کی نماز فرض کی گئی ہے اور اسکے لئے اہتمام کرو، کاروبار بند کر دو، جمعے کے لئے دوڑو ۔
جہاں تک روزے میں رخصت کی بات ہے تو قرآن نے صرف سفر اور علالت میں روزے کی رخصت دی ہے اور وہ سفر بھی جہاد کا تھا ۔ اب اگر ایک یا دو جگہ رخصت دی گئی ہے تو اپنی طرف سے اسے پھیلا دینا دین میں تحریف ہے۔
بشکریہ
Massage TV
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویڈیو درج ذیل لنک سے ملاحظہ فرمائیں
[/et_pb_text][/et_pb_column][/et_pb_row][/et_pb_section]

دینِ اسلام ہی واحد حق ہے
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کے دامادِ عزیز مذہب “شرک” کےلیے ان حقوق کی بات کررہے ہیں جو ایک


