ڈاڑھی : غامدی موقف پر نقد

مزید پوسٹس

شئیر کریں

Subscribe to Newsletter

ڈاڑھی : غامدی موقف پر نقد

ناقد :شیخ عثمان ابن فاروق

تلخیص : زید حسن 

غامدی صاحب کا دعوی ہے کہ وہ منکرِ حدیث نہیں ہیں ۔ ان سے ڈاڑھی کی بابت سوال کیا گیا تو فرمایا: یہ ایک اچھی  چیز ہے اور نبی علیہ السلام نے ڈاڑھی رکھی ہے لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس امر کو نبی ﷺ نے امت میں بحیثیت دین جاری کیا ہے تو ایسا ہرگز نہیں ہے  ۔

ہم غامدی صاحب سے عرض کرتے ہیں کہ  مسلمانوں کے تمام  فرقے حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی ، ظاہری اسے سنت سمجھتے ہیں اور آپ کا  موقف ان سب سے جداگانہ ہے ۔ بدایہ والنھایۃ کی چوتھی جلد صفحہ 260 میں ابنِ  کثیر نے ایک روایت نقل کی ہے جو حسن ہے کہ آپ ﷺ کے پاس کسری کے قاصدین آئے جنہوں نے مونچھیں بڑھائی ہوئی تھیں اور ڈاڑھیاں کٹوا رکھی تھیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ہلاکت ہو یہ تم نے کیا کر رکھا ہے ؟ انہوں نے کہا ہمارے رب ( کسری) نے اسکا حکم دیا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : میرے رب نے تو ڈاڑھی بڑھانے کا حکم دیا ہے ۔ او کما قال

آپ اس امر کو صرف عرب کا کلچر نہیں کہہ سکتے کیونکہ احادیث میں صرف آپ ﷺ کے ڈاڑھی  رکھنے کا ذکر نہیں ہے بلکہ آپ ﷺ کی طرف سے ڈاڑھی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ چنانچہ صحیح بخاری کے ” اعفاء اللحی” باب باندھا ہے جسکے تحت قولی احادیث لائے ہیں جیسے  اعفوا اللحی

ویڈیو ذیل میں ملاحظہ ہو

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!