ناقد : شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی
تلخیص : زید حسن
غامدی صاحب کا عموم پر رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ ” حقوق العباد” معاف ہی نہیں ہوتے ، درست نہیں ہے ۔ اللہ اگر چاہے تو حقوق العباد بھی معاف کر سکتا ہے ۔” ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا ” میں عموم ہے ۔ البتہ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک ” آیت سے پتا چلتا ہے کہ شرک کے علاوہ خدا کچھ بھی معاف کر سکتا ہے ۔
بخاری کی حدیث ہے کہ بنی اسرائیل کے سو انسانوں کے قاتل کو خدا نے معاف فرما دیا ۔ اسی طرح حج کی بابت حدیث ہے ۔
قیامت میں خدا تصفیے اور عدل کی بنا پر فیصلہ فرمائے گا ۔ احادیث سے پتا چلتا ہے کہ بعض دفعہ انسان کا کوئی عمل خدا کو پسند آ جاتا ہے تو اس سے ہونے والی حقوق العباد کے متعلق کوتاہی کا بدلہ اللہ اپنے ذمہ لے لیتا ہے ۔ قیامت میں دونوں صورتوں سے تصفیہ ممکن ہے ۔ ایک یہ ہے کہ ظالم سے مظلوم کو اسکی نیکیوں کے ذریعے بدلہ دلوایا جائے اگر اللہ نے اسے معاف نہیں کیا اور اس نے توبۃ النصوح نہیں کی ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس نے توبہ کر لی تھی یا اللہ کو اسکا کوئی عمل پسند آگیا ہے تو اللہ مظلوم کو اپنے انعامات سے نواز کر خوش کرے گا ۔
مسند احمد کی حدیث ہے کہ ظالم اور مظلوم کھڑے ہوں گے ، اللہ مظلوم کو جنت کی نعمتیں دیکھائے گا اور کہے گا : یہ میں تجھے دینا چاہتا ہوں بشرطیکہ تو اسے معاف کر دے ۔اور یہ اس وجہ سے ہو گا کیونکہ اللہ ظالم کو معاف کر چکا ہو گا ۔
لہذا غامدی صاحب نے جو عموم قائم کیا ہے وہ درست نہیں ہے ۔
ویڈیو دیکھنے کے لئے لنک کو کلک کریں ۔

دینِ اسلام ہی واحد حق ہے
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کے دامادِ عزیز مذہب “شرک” کےلیے ان حقوق کی بات کررہے ہیں جو ایک


