ناقد : مفتی یاسر ندیم
تلخیص : زید حسن
ایک میوزیک کمپوزر ( جو موسیقی کے جواز و عدمِ جواز کی بابت جاننے کے متمنی تھے)کے سوال کے جواب میں سپیکر نے غامدی صاحب کے موسیقی کی بابت جواز کے تصور پر نقد کیا ہے ۔ سپیکر نے اشراق میں غامدی صاحب کے مضامین کا حوالہ دیتے ہوئے قائلینِ جوازِ موسیقی پر نقد کیا ہے اور اس کے ذیل میں دو ان احادیث کو بیان کیا ہے جن سے قائلینِ جواز استدلال کرتے ہیں۔
اول ـ حدیث ِ ابو موسی اشعری جس میں آپﷺ نے فرمایا ” لقد اوتیت مزمارا من مزامیر آل داود” لیکن سپیکر کے بقول دوسری حدیث اس حدیث کی تشریح کرتی ہے جہاں مزمار کی جگہ ” صوت” کا لفظ ذکر کیا گیا ہے ۔ لیکن اگر اسی حدیث کو بھی دیکھا جائے تو اس قولِ رسول ﷺ سے جواز ثابت نہیں ہوتا ۔ دو افراد حضور ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے فصاحت و بلاغت کے ساتھ تقریر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا ” ان من البیان لسحرۃ” جیسے اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ جادو حلال ہے اسی طرح مزمار کا لفظ استعمال کرنے سے موسیقی جائز نہیں ہو جاتی بلکہ لہجے کی خوبصورتی کو بیان کرنے کے لئے بطور استعارہ یہ لفظ استعمال ہوئے ہیں ۔
دوم ـ عید اور مدینہ آمدِ رسول پر دف کا بجایا جانا اور رسول ﷺ کی طرف سے اسکی اجازت ملنا بھی موسیقی کو جواز فراہم نہیں کرتا کیونکہ آلاتِ موسیقی میں فرق ہے ۔ ایسا کوئی آلہ جائز نہیں جس سے آواز میں اتار چڑھاو پیدا ہوتا ہو ۔
اس کے بعد سپیکر نے حدیثِ ابو موسی اشعری رض کی بنیاد پرایک الزامی سوال کیا ہے ۔
ویڈیو درج ذیل لنک میں ملاحظہ فرمائیں



