ناقد : مولانا اسحق صاحب
تلخیص : زید حسن
اول ۔ یہ کہنا کہ جمعہ کا منبر علماء سے واپس لے لینا چائیے کیونکہ اسلامی تاریخی میں جمعہ کے منبر کا علماء کے پاس ہونا کہیں ثابت نہیں ہے ، یہ سربراہِ مملکت کا حق ہے اور علماء غداری کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔ ان ظالموں کی منطق بالکل الٹ ہے ۔
انہیں اولا یہ کہنا چاہئیے تھا کہ جو نااہل ظالم کرسیء صدارت پہ براجمان ہیں انہیں ہٹانے کی کوشش کی جائے ۔ اگر کوئی اہل انسان کرسی پر بیٹھتا ہے تو ابوبکر اور عمر رض کی طرح وہ اور اسکے نمائندے جمعہ کا خطبہ خود دیں ، کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے ؟ لیکن یہ احباب چاہتے ہیں کہ مولوی جو جمعہ کا منبر پاس ہونے کے بعد تھوڑی بہت حق کی بات کہہ سکتا ہے ، معاشرہ اس سے بھی خالی ہو جائے ۔ یہ دین کے نام پر بہت بڑی سازش ہے ۔
دوم ۔ جہاد کو حرام کرنا ، ابن مریم کی آمد اور انکے تلوار اٹھانے کے نظریے کی نفی کرنا اور مسلمانوں میں ایسے تصورات پیدا کرنا کہ کافر حکمران کے تحت بھی گردن جھکا کر رہیں ، اسلام کے نام پر گورے آقاوں کی غلامی ہے ۔ قادیانیوں نے بھی یہی کام کیا تھا ۔
غامدی صاحب ساری زندگی اسلامی نظام کی بات کرتے رہے اور آخر میں کہنے لگے ” مجھ سے سمجھنے میں غلطی ہو گئی ہے ” ۔
اقبال کی نظم مجلسِ شوری کے اشعار غور سے پڑھنے چاہئیں کہ جن میں انہوں نے اسے ابلیس کا کام لکھا ہے کہ مسلمانوں میں جہاد سے متعلق تصورات کو ماند کرنے کے لئے بحثیں چھیڑ دی جائیں ۔
ابن مریم مر گیا یا زندۂ جاوید ہے
ہیں صفاتِ ذاتِ حق، حق سے جُدا یا عینِ ذات
اور مسلمانوں کو غلام رہنے کی تلقین کی جائے ۔
خیر اسی میں ہے، قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اَوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات
ویڈیو دیکھنے کے لئے لنک کو کلک کریں ۔

دینِ اسلام ہی واحد حق ہے
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کے دامادِ عزیز مذہب “شرک” کےلیے ان حقوق کی بات کررہے ہیں جو ایک


