مقرر : مفتی منیر اخون
تلخیص : زید حسن
سائل : ڈاڑھی کے بارے میں غامدی صاحب کہتے ہیں کہ وہ دین کا حصہ نہیں ہے اور انکا استدلال یہ ہے کہ اسکا قرآن میں تذکرہ نہیں ہے ۔
مفتی منیر اخوان : قرآن شرعی قانون کی کتاب ہے جس میں اصول بیان ہوتے ہیں ، جزئیات و فروعات نہیں ۔ وحی صرف وحی جلی نہیں بلکہ خفی بھی ہے جس کی تابعداری کا حکم خود قرآن نے دیا ہے ” ما ینطق عن الھدی ” اور ” وما آتکم الرسول فخذوہ” اور وہ احادیثِ مبارکہ ہی ہیں ۔ اور حدیث میں واضح حکم ہے کہ ڈاڑھی کٹاو اور مونچھیں بڑھاو ۔
باقی یہ کہنا کہ ڈاڑھی اس زمانے میں کلچر کا حصہ تھی اور پہلے سے چلی آ رہی تھی اس لئے حضورﷺ نے ڈاڑھی رکھی تو اولا اہلِ فارس کے وفد پر حضورﷺ کی ناراضگی اسکی تردید ہے اور ثانیا پہلے سے اور بھی بہت سی چیزیں چلتی آ رہی تھیں جنہیں باقی رکھا گیا لیکن لوگ انہیں سنت سمجھ کر ہی کرتے ہیں کیونکہ حضورﷺ کا ویسا ہی عمل منقول ہے جیسے معانقہ اور دائیں ہاتھ سے کھانا وغیرہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویڈیو درج ذیل لنک سے ملاحظہ فرمائیں



