]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
حضرت عبداللہ بن مسعودسے مروی حدیث
امام بخاری فرماتے ہیں:
حدثناابوالولید ثنا شعبۃ: قال عبدالملک بن میسرۃ أخبرنی قال: سمعت النزال بن سبرۃ قال: سمعت عبداللّٰہ یقول: سمعت رجلاًقرأ آیۃ سمعت من رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خلافہا. فاخذت بیدہ فاتیت بہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال: کلاکما محسن. قال شعبۃ: اظنہ قال: لاتختلفوافان من کان قبلکم اختلفوا فہلکوا.(صحيح البخاری، ص 523 كتاب الخصومات، ص 494، اول كتاب الانبياء، ص 757، آخر كتاب فضائل القرآن – طبع الہند)
امام بخاری نے یہ حدیث صحیح میں تین جگہ ذکرکی ہے۔اور امام احمد نے بھی اس کی روایت کی ہے (مسنداحمد1/ 393، 114، 214، 654)۔
شعبہ نے عبدالملک بن میسرہ ہلالی کوفی سے، اس نے نزال سبرہ کوفی سے روایت کی ہے کہ عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے اسے بتایاتھا کہ میں نے ایک شخص کوایک آیت پڑھتے ہوئے سنا جو اس کے خلاف پڑھ رہاتھاجومیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی قراءت سنی تھی۔(اورآپ نے مجھے سکھائی تھی)میں اس کا ہاتھ پکڑکررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور ماجرا عرض کیا۔ (آپ نے اس سے بھی وہ آیت سنی اورمجھ سے بھی)پس فرمایا: تم دونوں صحیح پڑھنے والے ہو۔شعبہ کا بیان ہے کہ میراغالب گمان یہ ہے کہ عبدالملک بن میسرہ نے اس کے بعدیہ کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعدفرمایاتھا: اختلاف نہ کرو۔ کیونکہ تم سے پہلے جولوگ گزرے ہیں، انھوں نے اختلاف کیا تھا تووہ تباہ ہوگئے۔وہ شخص کون تھا؟کسی روایت میں اس کا نام مذکورنہیں ہے۔ مسنداحمدمیں ہے کہ شعبہ نے کہاکہ میں نے یہ حدیث مسعربن کدام سے بھی سنی تھی۔مجھے اچھی طرح یادہے کہ مسعرنے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد:’لاتختلفوافان من کان قبلکم اختلفوا فہلکوا‘نقل کیاتھا۔(مسند 1/654)
لیکن یہ حدیث توبتارہی ہے کہ خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو اوراس شخص کوجس کا نام مذکورنہیں ہے، اختلاف میں ڈالاتھا۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ کوجس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ آیت سکھائی تھی، دوسرے شخص کواس کے برخلاف سکھائی اوردونوں سے کہہ دیا:’کلاکمامحسن‘، حالاں کہ دومختلف باتوں میں سے صحیح بات جواللہ کی طرف سے نازل شدہ تھی ایک ہی ہوسکتی تھی،عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اوراس شخص کواختلاف میں ڈال کراختلاف نہ کرنے کی نصیحت فرمانے میں کیامعقولیت ہے؟
اور ظاہرہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اوراس شخص کے درمیان وصل وفصل کا اختلاف نہ تھا، ورنہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ اس شخص کوپکڑ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ لے جاتے۔عام مسلمانوں کا بھی حال یہ ہے کہ اگرکوئی شخص ’الحمدللّٰہ رب العالمین، الرحمٰن الرحیم، مالک یوم الدین‘ وصل کے ساتھ پڑھے اوردوسراشخص ’الحمد للّٰہ رب العالمین، الرحمٰن الرحیم، مالک یوم الدین‘ فصل کے ساتھ پڑھے تواسے کوئی اختلاف قرارنہیں دیتااور اس پر معترض نہیں ہوتا۔شعبہ کی روایت کردہ یہ حدیث کوفی قاریوں کا تراشیدہ افسانہ ہی معلوم ہوتاہے۔ابووائل،زربن حبیش اورعبدالرحمٰن بن عابس کے طریق سے بھی اختلاف ِقراءت کے متعلق حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث مروی ہے، جوقطعاً موضوع اورابن مسعود رضی اللہ عنہ پر بہتان ہے۔یہ سب روایات مسنداحمدمیں ہیں( بخاری کا مطالعہ اردو 2/ 55 )۔
حضرت عمر اور ہشام بن حکیم کے درمیان سورۂ فرقان کی قراءت میں اختلاف کی حدیث
زہری کا بیان ہے:حدثنی عروۃ بن الزبیر ان المسور بن مخرمۃ وعبد الرحمن بن عبدالقاری حدثاہ أنہماسمعا عمربن الخطاب یقول: سمعت ہشام بن حکیم یقرء سورۃ الفرقان فی حیاۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاستمعت لقرائتہ فاذاهو یقرء علی حروف کثیرۃ لم یقرئنیہا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فکدت أساورہ فی الصلاۃ فتصبرت حتی سلم فلببتہ بردائه، فقلت: من أقرئک ہذہ السورۃ التی سمعتک تقرء؟ قال: اقرأنیہا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فقلت: کذبت فان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اقرأنیہا علی غیرماقرأت فانطلقت بہ أقودہ الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقلت: انی سمعت هذایقرء بسورۃ الفرقان علی حروف لم تقرئنیہا فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’اَرسِلہ. اقرأیاہشام‘‘ فقرأعلیہ القراء ۃ التی سمعتہ یقرء،فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’کذلک انزلت‘‘، ثم قال اقرأیاعمر،فقرأت القراءۃ التی اقرأنی فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’کذلک انزلت، ان هذالقرآن انزل علی سبعۃ احرف فاقروا ماتیسرمنہ‘‘. (صحيح البخاری، ص 623، كتاب الخصومات، ص 747، كتاب فضائل القرآن، ص 457، ص 5301، كتاب استتابۃ المعاندين والمرتدين، ص 6211، كتاب التوحيد)
امام بخاری نے متقارب الفاظ کے ساتھ یہ حدیث پانچ جگہ ذکرفرمائی ہے۔
ابن شہاب زہری نے بتایاکہ مجھ سے عروہ بن زبیرنے بیان کیا،اس سے مسوربن مخرمہ اور عبد الرحمٰن بن عبد القاری نے بیان کیا،ان دونوں نے حضر ت عمر سے یہ قصہ سنا۔حضرت عمر نے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں میں نے ہشام بن حکیم کونمازمیں سورۂ فرقان پڑھتے ہوئے سنا،وہ اونچی آواز میں پڑھ رہے تھے۔ میں کان لگاکرسننے لگاتومیں نے سناکہ وہ بہت سے ایسے کلمات پڑھ رہے ہیں جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائے تھے، حالاں کہ مجھے سورۂ فرقان آپ ہی نے پڑھائی تھی۔ مجھے سخت غصہ آیا(کہ یہ شخص قرآن کریم میں تحریف کر رہاہے؛ کچھ کا کچھ پڑھ رہاہے،قریب تھاکہ میں نمازہی میں اُس پر جھپٹ پڑوں، لیکن میں نے ضبط کیا۔ جب اس نے سلام پھیر دیا تومیں نے اسی کی چادراس کے گلے میں ڈال کر کھینچی اورڈپٹ کرپوچھاکہ یہ سورت تجھے کس نے پڑھائی؟ اس نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔تب میں اُسے کھینچتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیااورآپ کو ماجرا بتایا۔ فرمایا: اسے چھوڑو توسہی۔اے ہشام، سورۂ فرقان پڑھو،ہشام نے اسی طرح پڑھی جس طرح میں نے اس سے سنی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، یہ سورت اسی طرح اتاری گئی ہے۔ پھر فرمایا: اے عمر،تم پڑھو،میں نے اسی طرح پڑھی، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھائی تھی اورمیں نے یادکی تھی۔فرمایا: ٹھیک ہے، یہ سورت اسی طرح اتاری گئی ہے۔بے شک، یہ قرآن سات حرفوں پر اتاراگیاہے تواس میں سے تمھیں جو آسان ہو، پڑھو۔اس حدیث کے متعلق تین باتیں عرض کروں گا:
اول:اس سے لازم آتاہے کہ خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمروہشام، دونوں کو اختلاف اورغلط فہمی میں ڈالاتھا۔(معاذ اللہ)جب آپ نے عمرکوسورۂ فرقان پڑھائی تھی تویہ نہیں بتایاکہ اس سورہ کی فلاں فلاں آیت کوتم اِس اِس طرح بھی پڑھ سکتے ہو۔عمر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن حروف سے بے خبررکھا جن حروف پر اُسے پڑھنے کی تعلیم ہشام بن حکیم کو دی تھی۔ اگر عمر رضی اللہ عنہ کو وہ حروف معلوم ہوتے تواُنھیں ہشام پر غصہ نہ آتا اور جب آپ نے ہشام کویہ سورت پڑھائی تواُنھیں یہ نہیں بتایاکہ اس کی فلاں فلاں آیت کوتم اِس اِس طرح بھی پڑھ سکتے ہو۔ ہشام کوآپ نے ان حروف سے بے خبررکھاجن حروف پر اُسے پڑھنے کی تعلیم عمر رضی اللہ عنہ کو دی تھی، حالاں کہ وہ حروف جن سے آپ نے عمررضی اللہ عنہ کو بے خبررکھا، اللہ کے اتارے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے نازل فرمودہ کچھ حروف عمر رضی اللہ عنہ سے بھی چھپائے اورہشام سے بھی۔اتفاقیہ حضرت عمرہشام سے سورۂ فرقان نہ سن لیتے توان حروف کا علم نہ عمررضی اللہ عنہ کوہوتا،نہ ہشام رضی اللہ عنہ کو۔
سوال یہ ہے کہ کسی عقل مندمسلمان سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اس لازم آنے والی بات کوباطل نہ سمجھے؟ہرگزنہیں۔ہرمسلمان یہی عقیدہ رکھتاہے اوریہی حقیقت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے کم وکاست اللہ کی نازل فرمودہ آیات بندوں کوپہنچائی ہیں۔کوئی حرف یاکلمہ نہیں چھپایا۔اورجس بات سے کوئی غلط بات لازم آئے، وہ فی الواقع خودغلط ہوتی ہے۔بنابریں حضرت عمر اور حضرت ہشام رضی اللہ عنہماکے متعلق یہ قصہ جوزہری نے بیا ن کیاہے قطعاً غلط اوربے اصل ہے۔
دوم: معلوم ہے کہ حضرت ابوبکروحضرت عمررضی اللہ عنہماکی شدیدنگرانی میں پوراقرآن مجید ایک مصحف میں لکھاگیاتوسورۂ فرقان میں وہ حروف کہاں ہیں جوعمر رضی اللہ عنہ کومعلوم نہ تھے یاجن کا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کوعلم نہ تھا؟ اِس کی ایک توجیہ یہ کی گئی ہے کہ حضرت ہشام بعدمیں ایمان لائے تھے، اس لیے بعض اعرابيوں کوایک ہی لفظ کومختلف لہجوں پر پڑھنے کی اجازت کی وجہ سے ان کو بعض لہجے غیرقریش کے یادہوگئے ہوں گے، مگراِس حدیث میں خودیہ الفاظ آئے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کی جرح کے جواب میں ہشام کہتے ہیں کہ ’أقرأنیہا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘ (مجھے اس طرح خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی اس کی تعلیم دی ہے)، لہٰذایہ توجیہ تکلف باردلگتی ہے اورپاؤں چلنے والی نہیں۔
سوم:اس حدیث کے آخرمیں زہری نے بتایاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن سات حرفوں پر اتاراگیاہے۔’فاقرؤاما تیسر منہ‘ اس میں ’منہ‘ کی ضمیر مجرور ’سبعۃ أحرف‘ کی طرف راجع ہے، لہٰذا’منہا‘ ہونا چاہیے، نہ کہ ’منہ‘،حالاں کہ ’فاقرؤا ما تیسر منہ‘ میں اللہ تعالیٰ کا قول ہے جوسورۂ مزمل کے اواخرمیں مذکورہے۔اس میں ضمیرمجرور یقیناً قرآن کی طرف راجع ہے۔زہری نے اللہ تعالیٰ کے قول کواس حدیث کے آخرمیں پیوندکرکے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قراردے دیا۔زہری کا خیال ہوگاکہ اس کی یہ تلبیس کسی پر نہ کھلے گی۔
الغرض یہ حدیث سراسرباطل ہے۔زہری پربے جااعتمادکرکے اورغوروفکرسے کام لیے بغیر امام بخاری رحمہ الله نے اسے صحیح کا درجہ دے دیاہے۔مسلم ،ترمذی،نسائی اوراحمدنے بھی اس کی تخریج کی ہے۔لیکن زہری کے علاوہ کسی اورشخص نے عروہ بن زبیرسے اس کی روایت نہیں کی۔ میں سمجھتاہوں کہ زہری نے یہ حدیث عروہ سے نہیں سنی، نہ عروہ نے بیان کی۔کسی یاوہ گونے عروہ کی طرف منسوب کرکے زہری کوسنادی تھی۔زہری نے اس کا نام نہیں ذکر کیا۔ اسناد میں ’عن عروۃ‘ کہاتھا، جیساکہ امام مالک کی اسنادمیں ہے۔زہری کے دیگرشاگردوں نے غلطی سے ’عن عروۃ‘ کے بجاے ’أخبرنی عروۃ ‘یا ’حدثنی عروۃ‘ کہہ دیاہے (صحیح بخاری ص 623 طبع الہند)۔
بہرحال حدیث ضعیف ہے اوراستدلال کے قابل نہیں (بخاری کا مطالعہ اردو2/45–85)۔
سات حرفوں کے متعلق حضرت ابن عباس کی طرف منسوب حدیث
عن ابن شهاب عن عبید اللّٰہ بن عبداللّٰہ بن عتبہ بن مسعودعن ابن عباس ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:’’اقرأنی جبریل علی حرف فلم أستزیدہ فیزیدنی حتی انتہی الی سبعۃ أحرف‘‘ (صحيح بخاری، ص 744، بدء الخلق، ذكر الملائکۃ،ص 372 كتاب الصلاة – طبع الہند، و مسند احمد 1/362، 992)
زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، اس نے حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جبریل نے مجھے قرآن ایک حرف پر پڑھایا تو میں برابرایک سے زائدحرف پر پڑھنے کی ان سے خواہش کرتارہا(جبریل نے کہا: دو حرف پر پڑھ لیا کریں، پھر میرے اصرارپر تین، پھرچار،پھرپانچ، پھر چھ حروف پر پڑھ لینے کوکہا)آخرمیں سات حروف پر پڑھنے کی اجازت دی۔
یہ حدیث شروع سے آخرتک غلط ہے۔ اسے روایت کرنے والوں میں سے کسی نے بھی یہ نہ سوچاکہ:
1۔ ایک سے زائدحرف پر پڑھنے کی خواہش رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوکیوں ہوئی، جس حرف پر جبریل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوقرآن پڑھایاتھا، اسی پر آپ نے قناعت کیوں نہ فرمائی؟
2۔ کوئی پڑھنے والاکسی کتاب کوایک ہی طرزپر پڑھے تویہ آسان ہے بہ نسبت اس کے کہ اسے سات یاچھ یاپانچ یاچاریاتین یادواندازسے پڑھے۔ اس طرح کہ مثلاً ایک بار ’اَنعمتَ علیہم‘ پڑھا پھر ’نَعمتَ‘ پڑھ دیا، تیسری بار’اِنعمتَ‘ اورچوتھی بار’اُنعمتَ‘ اور پانچویں بار ’نُعمتَ‘،چھٹی بار ’اُنعُمتَ‘ اورساتویں بار ’اِنعمتَ‘ پڑھ دیا۔(اوراِس سے معانی ومفاہيم میں بهی تبديلی ہوجاتی ہے)۔
یہ توشدیدحرج اورتکلف وتکلیف اوراغلاط میں مبتلاکردینے والی صورت ہے۔ظاہرہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خواہش نہ ہوسکتی تھی کہ قرآن کے متعلق آپ کی امت ضیق وحرج، تکلیف و تکلف میں مبتلاہو۔
3۔ پھرکوئی بتائے توسہی کہ قرآن کریم کی کس آیت،کس جملے اورکس کلمہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کوبتایاتھاکہ اِسے تم اِس طرح بھی پڑھ سکتے ہواوراِس طرح بھی۔ صحیح تو کیا، کسی ضعیف حدیث میں بھی یہ بات نہیں مل سکتی۔رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو قرآن کریم سکھایا۔صحابہ سے بے شمارتابعین نے سیکھااوراُن سے بے شماراتباع تابعین نے۔ اسی طرح ہردورمیں تواتروتسلسل کے ساتھ قرآن کریم جملہ آیات وکلمات سمیت نقل ہوتا ہوا ہم تک پہنچا ہے۔ امیرحجاج بن یوسف ثقفی کے عہدتک مصاحف شریفہ کی کتابت اعراب و حرکات کے بغیرہوتی رہی۔پھرتمام موجودہ اورآیندہ مسلمانوں کی سہولت کے لیے امیرحجاج نے ستر نہایت ثقہ و معتبرعلماے کرام کوآیات ِقرآن کواعراب وحرکات سے آراستہ کرنے پر مامور کیا۔ وہی مصحف پوری دنیامیں پڑھاجاتا، یادکیاجاتا اور چھاپا جاتاہے۔مگربرا ہو اختلاف سے گرویدگی و شغف رکھنے والوں کا، انھوں نے قرآن کریم کوبھی اختلاف کی آماج گاہ بنادینے کی بھرپورکوششیں کی ہیں۔ اور اس اختلاف کوحق ثابت کرنے کے لیے مرفوع حدیثیں بھی گھڑیں،صحابۂ کرام کی طرف منسوب کر کے آثاربھی تصنیف کیے۔جاہل اوراللہ سے نہ ڈرنے والے راویوں نے ان موضوع احادیث و آثار کو روایت کرکے مسلمانوں میں پھیلایااورمحدث مصنفین نے سادہ لوحی و عدم بصیرت کی وجہ سے انھیں اپنی کتابوں میں درج کردیا۔(ہماری تحقیق میں)انھی موضوع احادیث میں سے یہ زیربحث حدیث بھی ہے جس کی زہری نے عبیداللہ سے اوراس نے عبداللہ بن عباس سے روایت کی ہے(صحیح بخاری کامطالعہ اردو2/ 49)۔