]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق
ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [
اس کے بعد ڈاکٹر منصورالحمید نے دریافت کیا کہ آپ پہلے ہی مولانا مودودی سے بہت سے معاملات میں اختلاف رکھتے تھے اور اس کے باوجود جماعت میں شامل رہے،لیکن اس دفعہ آپ نے فوری طور پر استعفا دے دیا۔ اس کی کیا وجہ تھی ؟
تب مولانا نے اس ’’ فوری وجہ‘‘ کی حقیقت سے پردہ اٹھایا جس نے انھیں غضب ناک کر دیا تھا:
’’مولانامودودی صاحب نے ایک خط چودھری غلام محمد صاحب کو لکھا اور اس میں میرے متعلق یہ لکھا کہ میں نے جتنی ناز برداری مولانا اصلاحی کی کی ہے اتنی کسی اور کی نہیں کی۔ لیکن کچھ عرصہ سے مولانا کا یہ رویہ ہے کہ وہ میرے خاص احباب پر برابر دل شکن فقرے کستے رہتے ہیں۔ اس خط کو مجھے بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن مولانا مودودی صاحب نے اس کی ایک نقل مجھے بھی بھیج دی۔ اسے پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ میں نے استعفا دینے میں دیر لگائی ہے، چنانچہ میں نے استعفا لکھا اور اس خط کے جواب میں یہ بھی لکھا کہ اگر آپ نے ناز برداری ایسے شخص کی کی جو اس کا اہل نہیں تھا تو آپ اپنے آپ کو کوسیے، اور اگر وہ اس کا اہل تھا تو آپ نے کوئی احسان نہیں کیا۔ اس لیے اس ناز برداری کو جتلا کر مجھ سے یہ توقع نہ رکھیں کہ میں اس کے بدلے میں ضمیر فروشی کروں گا۔‘‘ (سہ ماہی تدبر، اپریل 1998ء، 53)
اوپر کے اقتباسات میں بہت سے ایسے حقائق کی طرف مولانا اصلاحی نے محض اشارے کیے ہیں ۔ اس اجمالی گفتگو کی وضاحت یہاں ضروری محسوس ہوتی ہے ۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ جائزہ کمیٹی کے ارکان ، جن کا شمار جماعت کے انتہائی سینئر لو گوں میں ہوتا تھا اور جن کا انتخاب خود مولانا مودودی کی رضامندی سے ہوا تھا ، ان کی ’’کردار کشی‘‘ کی گئی ۔ لیکن اس ایک لفظ سے اس سنگینی کا احساس واضح نہیں ہوتا جو اس وقت جما عت کی فضا میں پائی جاتی تھی، لیکن جائزہ کمیٹی کےساتھ تلخ رویوں کی داستان کو مولانا نے اپنےاس خط میں ان الفاظ میں بیان کیا :
’’آپ نے جائزہ کمیٹی کی رپورٹ کے بارے میں جو روش اختیار کی وہ ابتدا ہی سے ارکانِ شوریٰ کے سامنے اس نوعیت سے آئی کہ یہ جماعت کی بالکل یک رخی تصویر ہے۔ اس میں حدودِ کار سے تجاوز کیا گیا ہے ۔اس میں جماعت میں پھیلی ہوئی گندگیوں کو اکٹھا کر دیا گیا ہے جس کے سبب سے یہ غلاظت کے ایک ٹوکرے کی شکل میں نظر آتی ہے وغیرہ وغیرہ۔‘‘ (مقالات اصلاحی 1/ 63)
جماعت جے بزرگ اراکین پر ان تلخ اور غیر منصفانہ رویوں کا کیا اثر ہوا، اس حوالے سے مولانا نے لکھا :
’’سلطان صاحب ( حکیم سلطان احمد اصلاحی )کو تقریر کرتے وقت میں نے پہلی بار جماعت کی حالت پر پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھا اور ان کے رونے نے بہتوں کو رلایا ۔ غازی صاحب اس قدر روئے کہ اسی حالت میں ان پر دل کا دورہ پڑا ، اور ان پر تشنج کے ایسے سخت دورے پڑے کہ ہم ان کی زندگی ہی سے مایوس ہو گئے ۔ شب کے بارہ بجے ڈاکٹر کو بلانا پڑا۔ یہ ماجرا شوریٰ کی تاریخ میں پہلی بار دیکھا ۔ میری اور میری طرح شوریٰ کے اکثر ارکان کی راے یہی تھی کہ یہ تاثر اس صورت حال کا پیدا کردہ ہے جو جائزہ کمیٹی کی رپورٹ سے سامنے آئی تھی ۔ لیکن آپ کے فرمانے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ آپ کا منہ بند کرنے کے لیے ایک ڈراما کھیلا گیا تھا۔ اب اس کا فیصلہ کون کرے گا یہ سب کچھ ایک ڈراما تھا یا حقیقت؟‘‘ ( مقالات ِ اصلاحی1/ 63-64)
مولانا کے مزاج کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ یہ مولانا کا وقتی غصہ تھا ۔ اصل وجہ یہ تھی کہ ان کے نزدیک نئے دستور کے تحت امیر جماعت کو جو اختیار ات مل چکے تھے، وہ نری آمریت تھی۔ مولانا اصلاحی شورائیت کا جو تصور رکھتے تھے، وہ مولانا مودودی کے تصور سے خا صا مختلف تھا ۔ اس بات کا اظہار انھوں نے کئی مرتبہ اپنے احباب کے ساتھ کیا ۔ ایسے ہی کسی موقع پر انھوں نے جو اظہار خیال کیا، اسے ان کے سب سے سینئر ترین شاگرد جناب خالد مسعود ( صاحب ِ ’’حیات رسول ِ اُمی‘‘ )نے ان الفاظ میں بیان کیا :
’’اپنی آمریت قائم کرنے کے لیے انھوں نے دستور اور نظام جماعت کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔جائزہ کمیٹی کے خلاف غیر اخلاقی اور غیر دستوری اقدام سے انھوں نے جماعت میں بحران پید ا کردیا اور جب اس کے خلاف آواز بلند کی گئی تو انھوں نے معترضین کی کردار کشی کے ساتھ ساتھ یہ اصول بھی پیش کردیا کہ نظریاتی حکمت اور ہوتی ہے،عملی حکمت اور۔اسلام میں امیر کو دیکھنا پڑتا ہے کہ دین کے نفاذ میں اسے کیا حکمت عملی اختیار کرنی ہے۔اس کے لیے بعض اصولوں کو وہ قربان بھی کرسکتا ہے۔ ان تجربات سے گزرنے کے بعدمیں کس مقصد کے لیے جماعت میں پڑارہتا ؟میں نہ تو انقلاب ِقیادت کے نعرہ کو اسلام سمجھتا ہوں اور نہ ووٹ حاصل کرنے کی بھاگ دوڑ کواصلاح معاشرہ کا واسطہ۔ جماعت کا موجودہ دستور میر ے نزدیک شورائی ہے نہ جمہوری…( جماعت سے وابستگی کی) لے دے کے صرف ایک چیز رہ جاتی ہے،وہ یہ کہ اس جماعت میں بہت سے نیک دل اور خداترس مسلمان شامل ہیں۔ جماعت کی یہ چیز میری نگاہوں میں بڑی قابل قدر ہے۔میں ان سب بھائیوں سے محبت کرتا اور ان کے لیے دعا ے خیر کرتا ہوں، لیکن اس محبت اور دعا گوئی کے لیے میرا جماعت کے ساتھ بندھے رہنا کو ئی ضروری نہیں تھا۔یہ خدمت میں باہر رہ کر بھی انجام دیتا رہوں گا۔‘‘ (سہ ماہی تدبر، اکتوبر 1997ء، 11- 12)
خود مولانا اصلاحی نے ان حقائق کو اپنے اُس خط میں زیادہ شدت سے بیان کیا جو انھوں نے مولانا مودودی کو لکھا تھا :
’’میں نے آپ کے مذکورہ نوٹس( جائزہ کمیٹی کو استعفا دینے کا نوٹس ) جس کو اس کے مزاج اور انداز کے لحاظ سے ایک فرمان کہنا شاید زیادہ بہتر ہو ، گھر پر آکر دوبارہ پڑھا اور اس کے تمام پہلوؤں پر غور کیا ، بار بار غور کیا۔ اس کے بعد بھی میری راے وہی ہے جو میں آ پ سے زبانی عرض کر چکا ہوں۔ میرے نزدیک آ پ کا یہ پورا نوٹس استدلال کے لحاظ سے بالکل غلط ، مصالح کے اعتبار سے جماعت کے لیے نہایت مہلک، عدل و انصاف کے لحاظ سے یہ ان کے ابتدائی تقاضوں کے احترام سے بھی خالی ہے اور دستوری اور آئینی نقطۂ نظر سے تو جب اس پر غور کرتا ہوں تو مجھے ایسا نظرآتا ہے کہ ہم جو اسلامی جمہوریت اور شورائیت کی مثال قائم کرنے کا حوصلہ لے کر اٹھے تھے ،ابھی اس کی پہلی جھلک بھی ہم کو دیکھنی نصیب نہیں ہوئی کہ ہمارے جی اس سے بھر چکے ہیں کہ ہم اس کی جگہ ایسی فسطائیت کا تجربہ کرنے کا شوق رکھتے ہیں جس کی نظیر کم از کم ماضی وحاضر میں تو کوئی نہیں مل سکے گی۔ جب میں آپ کے نوٹس کے اس پہلو پر غور کرتا ہوں تو دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ شاید اسلامی جمہوریت اور شورائیت کی شان میں اپنی تحریروں میں ہم اب تک جو قصیدہ خوانیاں کرتے رہے ہیں وہ محض مشق سخن کے طور پر تھیں یا محض اپنے ملک کے اربابِ اقتدار کو ہدفِ ملامت بنانے کے لیے ۔ ورنہ اس اقدام سے پہلے آپ اس سوال پر ضرور غور کریں کہ آپ کے اس اقدام کے بعد اس شوریٰ اور دستور کا کیا حشر ہوگا جس پر ہم نے جماعت کی عمارت کھڑی کی تھی ۔‘‘ (سہ ماہی تدبر، اکتوبر 1997ء، 54)
ہم نے اس موضوع کا بہت اختصار سے جائزہ لیا ہے ۔ اس کی وجہ یقیناً یہ ہے کہ یہ تاریخ کی بہت ہی تلخ یادیں ہیں ۔ جن احباب کو اس کی تفصیل جاننی ہو، وہ مولانا کا یہ خط اور دیگر تحریریں ان کے مقالہ جات کی پہلی جلد میں ملاحظہ کر سکتا ہے ۔
مولانا کے استعفے کے بعدمولانا مودودی کا رنجیدہ ہونا بالکل فطری امر تھا۔ انھوں نے مولانا کو ایک تفصیلی خط لکھا۔ اس میں انھوں نے لکھا:
’’میر ی اس راے کو آپ چاہیں تو غلط کہہ سکتے ہیں۔ اس کے خلاف دلائل دینے کی آپ کو پوری آزادی ہے، حتیٰ کہ آپ کو یہ بھی اختیار ہے کہ اس کو جو بدتر سے بدتر معنی چاہیں پہنائیں۔ مگر آپ یہ الزام مجھ پر نہیں لگا سکتے کہ ایک بدنیتی کی بلی مدتوں سے مجرم ضمیر کے تھیلے میں چھپائے پھرتا رہا تھا، اور پہلی مرتبہ اسے موقع تاک کر کوٹ شیر سنگھ میں باہر نکال لایا۔ میں اس راے کو حق سمجھتا ہوں، ہمیشہ اس کو ظاہر کیا ہے اور تشکیل ِجماعت کے بعد سے آج تک اس پر عملاً کام کرتا رہا ہوں۔ آپ کو پورا حق ہے کہ اسے غلط ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ اس کی وجہ سے جماعت کو چھوڑنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ جماعت میں رہتے ہوئے آپ مجلس شوریٰ کے ذہن کو اس سے مختلف جس راے کے حق میں بھی ہموار کرنا چاہیں، پوری آزادی کے ساتھ کرسکتے ہیں۔‘‘ (ماہنامہ اشراق، جنوری 1998 ء، 22)
مولانا نے اس کے جواب میں لکھا:
’’آپ نے اپنی ’’بلی‘‘ کی تاریخ پیدایش ناحق بیان کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ میں اس بات سے ناواقف نہیں ہوں کہ یہ بلی آپ کے تھیلے میں روزِ اول سے موجود ہے، لیکن آپ کویاد ہوگا کہ تقسیم سے پہلے الٰہ آباد کی شوریٰ کے اجلاس میں، میں نے اس کا گلا دبانے کی کوشش کی۔ یاد نہ ہو تو مذکورہ شوریٰ کی روداد پڑھ لیجیے۔ اس وقت تو یہ مر نہ سکی، لیکن میں اور جماعت کے دوسرے اہل نظر برابر اس کی فکر میں رہے اور شوریٰ میں اس کی موت و حیات کا مسئلہ بار بار چھڑتا رہا، یہاں تک کہ تقسیم کے بعد ہم نے جو دستور بنایا، اس میں اس کی موت کا آخری فیصلہ ہو گیا۔ واضح رہے کہ جب اس کے قتل کا فیصلہ ہوا تھا تو اس وقت شرع شریف، مصلحت زمانہ اور اسلامی جمہوریت، سب کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر ہوا تھا۔ اس کی تائید میں علما کے فیصلے بھی حاصل کیے گئے تھے اور اہل نظر کی رائیں بھی جمع کی گئی تھیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ آپ اپنے عمل سے وقتاً فوقتاً اس کو زندہ بھی کرتے رہے، لیکن ہمارے دستور نے اس کی زندگی تسلیم نہیں کی۔ اس سلسلہ میں جب کبھی آپ نے دستور کی مخالفت کی تو عموماً اپنے اقدامات میں بے بصیرتی کا ثبوت دیا جس سے جماعت کے اہل الراے اس بارہ میں یک سو ہو گئے کہ یہ ’’بلی‘‘ مردہ ہی رہے تو اچھا ہے، لیکن آپ پر اس کی موت بڑی شاق تھی۔آپ اس کو حیاتِ تازہ بخشنے کے لیے برابر بے چین رہے۔ اسی کے عشق میں آپ نے استعفا دیا۔ ماچھی گوٹھ میں آپ نے اس کے لیے رازداروں کو خلوت میں بلا کر سازش کی۔ پھر کوٹ شیر سنگھ میں اس پر مسیحائی کا آخری افسوں پڑھا اور یہ واقعی زندہ ہو گئی۔ اب آپ مجھے دعوت دیتے ہیں کہ میں پھر شوریٰ میں آؤں اور اس کے اندر رہ کر اس کو مارنے کی کوشش کروں تو میں اس سے معافی چاہتا ہوں۔ ایک ’’بلی‘‘ برسوں کی محنت سے میں نے ماری، آپ نے وہ پھر زندہ کر دی اور اب آپ کی مجلس عاملہ نے اس کی رضاعت و پرورش کی ذمہ داری بھی اٹھا لی۔ اب میں پھر اس کو مارنے میں لگوں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ میں اپنی ساری زندگی اس ’’گربہ کشی‘‘ ہی کی نذر کر دوں۔ آخر یہ کون سا شریفانہ پیشہ ہے۔‘‘ (جاوید احمد غامدی، مقامات 120)
ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ مولانا اصلاحی کو جماعت سے علیحدگی کے فیصلے پر بہت سے سوالوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی ضمن میں ان سے بہت سے صحافیوں اور ان کے بہی خواہوں نے انٹرویوز کیے ۔ سب سے بہترین انٹرویو ڈاکٹر منصورالحمید صاحب نے کیا ۔ انھوں نے تمام ممکنہ سوالات تفصیل سے پوچھے ۔ اس انٹرویو کے بعض اہم سوالات ہم یہاں نقل کرتے ہیں ۔ اس سے ان واقعات کا تفصیلی علم ہوتا ہے جو اس ناخوش گوار واقعے پر منتج ہوئے :
’’سوال:کیامولانامودودی صاحب کودستور کے تحت یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ جائزہ کمیٹی کے ارکان سے استعفیٰ کا مطالبہ کر سکیں ؟
جواب : مولانا مودودی صاحب نے استعفے کا مطالبہ دستور کے تحت نہیں کیا تھا، بلکہ یہ ایک مطلق العنانہ حکم تھا۔ اور اس کی دلیل انھوں نے یہ دی تھی کہ چونکہ میں امیر جماعت ہوں اس لیے مجھ پر یہ عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ میں جماعت کو کسی سازش کا شکار ہونے سے بچاؤں۔ اور چونکہ یہ چاروں حضرات ایک نادانستہ سازش کے مرتکب ہوئے ہیں، لہٰذا میں ان کو حکم دیتا ہوں کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔ یہ حکم وہ دستور کے تحت نہیں دے سکتے تھے۔ میں نے اسی پر احتجاج کیا تھا کہ یہ حکم دستور ہی کے نہیں، عدل و انصاف کے بھی خلاف ہے۔ ان کے بعض سادہ لوح معتقدین یہ کہنے لگے کہ اگر امیر جماعت کسی سے مستعفی ہونے کے لیے کہیں تو مستعفی ہو جانا چاہیے۔ میں نے کہا اگر کسی سے یہ کہا جائے کہ آپ نے سازش کی ہے اس لیے مستعفی ہو جائیں تب تو یہ ایک جرم بنتا ہے۔ پہلے جرم ثابت کرنا چاہیے پھر یہ حکم دینا چاہیے۔ اصل میں شخصی آمریتوں کے دور میں جس طرح دستور بھی موجودہوتا ہے اور ایک بالاتر قانون بھی چل رہا ہوتا ہے جو آمریت کے ہر فعل کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے اسی طرح یہ قدم بھی دستور کے تحت نہیں، بلکہ اسی بالاتر قانون کے تحت اٹھایا گیا تھا جسے دنیا کے ہر آمر اور ڈکٹیٹر نے اپنے مفاد کے لیے وضع کر رکھا ہے۔
سوال : ماچھی گوٹھ کے اجتماع ارکان میں کیا پالیسی طے ہوئی تھی ؟
جواب: دراصل مولانا مودودی صاحب نے اپنا استعفااس شرط پر واپس لیا تھا کہ وہ اس کو اجتماع ارکان میں رکھیں گے۔ اس استعفے کی وجہ سے ارکان پر شدید دباؤ تھا اور ان کی اکثریت کے ذہن مفلوج تھے۔ اسی صورت حال میں مولانا مودودی صاحب جماعت کی پالیسی کے بارے میں ایک قرار داد استصواب کے لیے پیش کرنا چاہتے تھے۔ اجتماع عام سے پہلے شوریٰ کے اجلاس میں جب یہ قرار داد میرے سامنے آئی تو میں نے اس پر شدید تنقید کی جس پر شوریٰ کے اجلاس میں تعطل پیدا ہو گیا۔ بالآخر چوبیس گھنٹوں کے بعد مولانا باقر خان صاحب میرے پاس قرار داد لے کر آئے اور کہا کہ امیر جماعت فرماتے ہیں کہ اگر تم اس میں کوئی لفظی ترمیم کرنا چاہتے ہو تو کردو۔ اگرچہ کسی لفظی ترمیم سے میرا مدعا حاصل نہیں ہوتا تھا، تاہم محض اس خیال سے کہ جماعت میں انتشار نہ پیدا ہو، میں نے اس قرار داد میں ذرا سی لفظی ترمیم کر کے اسے جماعت کے اصل مقصد کے قریب تر لانے کی کوشش کی اور بعد میں یہ کثرت راے سے منظور ہو گئی۔ اس قرار داد کے چار جزو تھے اور فیصلہ کیا گیا تھا کہ جماعتی سرگرمیوں کے ان چاروں اجزا میں توازن رکھا جائے گا۔ اس قرار داد کا بنیادی فلسفہ بھی یہی تھا کہ اصلاح معاشرہ ہی ملک میں صحیح سیاسی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ لیکن مولانا مودودی صاحب نے اس قرار داد پر وفاداری سے عمل نہیں کیا اور ان کی روش یہی رہی کہ جماعت کی تمام سرگرمیاں انتخابات کے لیے مخصوص رہیں۔
سوال: کیا مولانا مودودی صاحب سے اختلاف رکھنے والے حضرات جماعت کے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے خلاف تھے ؟
جواب : اختلاف رکھنے والے حضرات جماعت کے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے خلاف نہیں تھے۔ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ جماعت کبھی بھی سیاست میں حصہ نہ لے، بلکہ ان کی خواہش یہ تھی، اور یہی شوریٰ نے طے کیا تھا کہ فی الحال سیاسی سرگرمیاں معطل کر دی جائیں۔ واقعہ یہ ہے کہ اس بات کی اس وقت کوئی گنجایش بھی نہیں تھی۔ جماعت کی طاقت اتنی نہیں تھی کہ وہ ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے میدان میں اتر جائے۔ ہمارا خیال یہ تھا کہ فی الحال سیاسی سرگرمیوں کو کم کر کے، تعلیم، تربیت اور تنظیم کے کام کو آگے بڑھایا جائے تاکہ جماعت کی قوت اتنی بڑھ جائے کہ یہ ملکی سیاست پر موثر طریقے سے اثر انداز ہو سکے۔ پھر اگر ممکن ہو تو سیاست میں براہ راست حصہ بھی لیا جائے۔ جماعت کے سیاست میں حصہ لینے پر کبھی بھی کسی کو اعتراض نہیں رہا۔ یہ تو محض مجرم بنانے کے لیے کہا جانے لگا کہ یہ حضرات اس کو تبلیغی جماعت بنانا چاہتے تھے۔
سوال : جب آپ جماعت میں شامل ہوئے تو اس وقت جماعت کا نصب العین کیا تھا؟
جواب : اس وقت، واقعہ یہ ہے کہ ہم انبیا کے طریقے پر اقامت دین کرنے کے لیے ہی اٹھے تھے۔ اس وقت ہماری تحریروں میں، تقریروں میں، قول میں، عمل میں ہرچیز میں واضح طور پر بیان کیا جاتا تھا کہ ہمارا طریقہ اور ہمارا کام انبیا کے طریقے پر اقامت دین ہے۔ لیکن ملک تقسیم ہونے کے بعد مولانا مودودی صاحب میں بعض تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو گئیں اور مجھے یہ محسوس ہونے لگا کہ وہ جو جتھہ بندی کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں اب اس کی قیمت وصول کرنا چاہتے ہیں۔ پھر جائزہ کمیٹی کے ارکان کے خلاف ان کے اقدام اور ماچھی گوٹھ کے اجتماع ارکان کے بعد ہر چیز نمایاں ہو گئی کہ اب وہ خالصۃً سیاسی پارٹی کی حیثیت سے کام کرنا چاہتے ہیں۔ انبیا کے طریقے پر اقامت دین کی بساط اب لپیٹ دی گئی ہے۔
سوال : کیا نصب العین میں انحراف کا اندازہ، جائزہ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہوا تھا؟
جواب : جائزہ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد وہ چیزیں جو نصب العین میں انحراف کا سبب بن سکتی تھیں اور زیادہ نمایاں ہو گئی تھیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ الیکشن نے یہ واضح کر دیا کہ ہم جو وعدے کرتے تھے وہ یونہی محض کہنے کی حد تک تھے ۔ اس لیے کہ الیکشن میں وہ تمام ہتھکنڈے جو ناجائز سمجھے جاتے تھے ،استعمال کیے گئے۔ اس وجہ سے جماعت پر پہلی بار یہ انکشاف ہوا کہ ہمارے دعوے کیا تھے اور ہم نے عمل کے میدان میں کیا کیا ہے۔
سوال : جماعت میں ان رجحانات کی اصلاح کے لیے، جو بالآخر اسے اپنے نصب العین سے ہٹانے کا سبب بنے، آپ نے کیا کوششیں کیں ؟
جواب: جماعت میں نصب العین سے انحراف کو روکنے کے لیے، واقعہ یہ ہے کہ میں سب سے موثر شخص تھا۔ چنانچہ جب بھی کوئی ایسی بات ہوئی جسے میں نے محسوس کیا کہ یہ امیر جماعت یا جماعت کے ارکان میں غلط رجحان پیدا کر سکتی ہے تو میں نے اس پر فوراً توجہ دلائی۔ قیام پاکستان سے پہلے ہی جب جماعت کی دینی دعوت کو ایک دنیوی تحریک کی صورت دی جانے لگی اور بے تکلفی سے یہ لکھا جانے لگا کہ اسلام ایک تحریک ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ایک لیڈر ہیں، تو میں نے اس پر اعتراض کیا تھا اور مولانا مودودی صاحب سے کہا تھا کہ یہ اصطلاحات نہ صرف عام آدمی کے ذہن کو خراب کرنے والی ہیں، بلکہ دین کے وقار کو بھی بڑھانے کی بجاے گھٹانے کا باعث ہوں گی۔ کیونکہ تحریکیں تو دنیا میں بہت سی ہیں اور ان میں کئی شیطانی تحریکیں بھی ہیں، لیکن دین تو ایک ہی ہے۔ اسی طرح لیڈر تو نجانے کتنے لوگ ہوئے ہیں، لیکن خاتم الانبیاء تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس لیے یہ چیزیں دین کی دعوت کے بارے میں عام آدمی کے ذہن کو خراب کرنے کا باعث ہو سکتی ہیں۔ مولانا مودودی صاحب کہتے رہے کہ میرے اور تمھارے نقطۂ نظر میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، لیکن وہ اور ان کے ہم خیال ساتھی اسی طرح لکھتے رہے۔ ان الفاظ کے کثرت استعمال سے چونکہ یہ اشتباہ پیدا ہوتا تھا کہ لوگوں کے ذہن دین کی دعوت کے بارے میں عام طرز کی دنیوی تحریکوں کی طرف منتقل نہ ہو جائیں اور وہ لائحۂ عمل کے لیے اسی نہج پر سوچنا شروع نہ کر دیں ـ اس لیے میں نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس پر بہت توجہ دلائی کہ ہمارا اصل فرض اقامتِ دین اور شہادت ِحق کا ہے اور ہمیں اس چیز سے بے پروا ہوجانا چاہیے کہ ہماری جدوجہد کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ جماعت میں یہ اصطلاحات درحقیقت میرے توجہ دلانے ہی سے زیادہ فروغ پائی ہیں۔ اس زمانے میں میں نے خاص اسی لیے اپنی کتاب ’’دعوت دین اور اس کا طریق کار‘‘ لکھی۔اس میں میں نے یہ واضح کیا کہ شہادت حق اور اقامت دین کی جو اصطلاحات قرآن مجید میں بیان ہوئی ہیں، ان کا مفہوم کیا ہے اور اس شہادت حق کی دعوت کے لیے قرآن مجید نے عام دنیوی تحریکوں سے ہٹ کر جو راہ متعین کی ہے وہ کیا ہے ؟
اسی طرح جب میں نے یہ دیکھا کہ یہ فلسفہ بنا لیا گیا ہے کہ تحریکیں اصول سے نہیں، بلکہ شخصیت سے چلتی ہیں اور جب تک شخصیت نہیں بنائی جائے گی تب تک یہ کام آگے نہیں بڑھ سکتا۔ تب میں نے مولانا سے کہا کہ اوّل تو دین کے تحریک ہونے کے ہی مخالف ہوں، تاہم اگر یہ بات صحیح بھی ہو تو شخصیت اپنے عمل سے آپ سے آپ پیدا ہوتی ہے، مصنوعی طریقے سے نہیں بنائی جاتی، اور اگر مصنوعی طریقے سے بنائی گئی تو لیڈروں والے وہ تمام لوازم اختیار کرنے پڑیں گے جنھیں عام دنیا دار لیڈر اختیار کرتے ہیں اور جنھیں آپ حرام سمجھتے ہیں۔ یہ چیزیں جماعت کی دینی دعوت کے مزاج کے سخت خلاف ہیں اور یہ رجحان صحیح نہیں ہے۔ افسوس یہ ہے کہ مولانا مودودی صاحب نے یہ چیز نہیں مانی، بلکہ یہ قبول کر لیا کہ انھیں لیڈر ہی بننا ہے۔ چنانچہ لیڈروں والے وہ تمام لوازم اختیار کیے گئے جنھیں وہ خود حرام قرار دے چکے تھے۔ حرمت ِتصویر کا معاملہ اس کی ایک مثال ہے۔ انھوں نے تصویر کے حرا م ہو نے کا فتویٰ دیا تھا۔ اگرچہ میں ا س کو ناجائز نہیں سمجھتا، لیکن انھوں نے فتویٰ دیا کہ تصویر کھنچوانا حرام ہے، لیکن لیڈر بننے کے لیے بلاجھجھک تصویریں کھنچواتے رہے۔اسی طرح جماعت کے کسی رسالے میں کوئی مضمون نکلتا جس میں قابل ِاعتراض بات ہوتی اور مجھے توجہ دلائی جاتی تو میں صاحب مضمون کو بلا کر تنبیہ کرتا۔ اگر باہر سے کوئی اطلاع آتی کہ فلاں رکن نے ایسی تقریر کی ہے اور ان خیالات کا اظہار کیا ہے تو میں ان سے بھی باز پرس کرتا۔ اصلاح کے لیے یہی کچھ تھا جو میں کر سکتا تھا۔ بلکہ میری مسلسل تنقید اور اصلاح کی ان کوششوں سے تنگ آ کر مولانا مودودی صاحب کے بعض معتقدین نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ میں شاید رشک اور رقابت کی آگ میں جل رہا ہوں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مجھے زندگی بھر کسی چھوٹی سے چھوٹی ذمہ داری لینے کا شوق بھی نہیں رہا۔ البتہ جو ذمہ داری مجھے سونپ دی جاتی ہے میں پورے احساس ذمہ داری سے اسے ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
سوال : کیا ایسی چیزیں شوریٰ میں بھی زیر بحث آتی تھیں ؟
جواب : جی ہاں، شوریٰ میں ان پر بحث ہوتی تھی لیکن شوریٰ کی ان چیزوں پر تنقید زیادہ موثر نہیں ہوتی تھی، کیونکہ ایسے حضرات کی تحریریں یا تقریریں جب بھی زیر بحث آتیں، وہ احتیاط کا وعدہ کر لیتے۔ جب شوریٰ ختم ہوتی تو وہی کچھ دوبارہ ہونے لگتا۔
سوال :جماعت سے نکل جانے والوں پر بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انھوں نے کوئی جماعت کیوں نہیں بنائی ؟
جواب : یہ ایک احمقانہ خیال ہے کہ جماعت سے نکل جانے والوں کو ضرور ایک علیحدہ جماعت بنانی چاہیے تھی۔جماعت بنا دینا اور اس کے نتیجہ میں ایک فتنہ اٹھا کھڑا کرنا کوئی سعادتِ دارین کمانا نہیں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے اس تجربے سے تمام لوگوں کو بڑی تنبہ ہو گئی کہ کسی جماعت کو صحیح مقصد کے لیے چلانا کس قدر مشکل کام ہے۔ بڑے ہم ہمہ، دعووں اور بڑے نیک ارادوں کے ساتھ یہ کام شروع کیا گیا تھا۔ بڑی اچھی صلاحیتیں بھی جمع ہو گئی تھیں، لیکن یہ معاملہ جس طرح بگڑا وہ آپ کے سامنے ہے۔ اس تجربے کے بعد لوگوں کو اندازہ ہوا کہ ہم ایک شدید غلطی کر بیٹھے تھے۔ چنانچہ اس کے بعد انھوں نے اپنے لیے ایسے مفید کام نکال لیے جن سے پوری امت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ میں خود یہ محسوس کرتا ہوں کہ میں نے جماعت سے الگ ہونے کے بعد دین کی اور اس امت کی جو خدمت کی ہے وہ میں جماعت میں رہ کر نہیں کر سکتاتھا۔ دوسرے لوگوں کے بارے میں بھی میری راے یہ ہے کہ انھوں نے بہت سے تعلیمی، مذہبی اور علمی کام کیے ہیں جن سے پوری امت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
جن لوگوں کو جماعتیں بنانے کا شوق تھا ان کا حال بھی آپ کے سامنے ہے۔ یہ لوگ جماعتیں بناتے ہیں نیک مقاصد کے لیے، لیکن پھر جلد ہی اس فتنے میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ جو جتھا بندی کر چکے ہیں اس کی قیمت وصول کی جائے ۔ہمارے پیش نظر ایسا کوئی مقصد نہیں تھا، اس لیے ہم نے اس خطرے کو مول نہیں لینا چاہا۔ اپنی صلاحیتوں کی حد تک ہم نے پوری ملت کی خدمت کی ہے۔ پوری ملت ہماری جماعت ہے، ہم اس کے خادم ہیں۔
سوال : بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کسی اسلامی طرز کی اجتماعیت سے وابستہ ہونا، واجبات دینی میں سے ہے۔ آپ کی اس بارے میں کیا راے ہے ؟
جواب : یہ بات بالکل غلط ہے۔ پوری امت مسلمہ ہماری جماعت ہے اور اس جماعت کی خدمت کرنا ہمارے فرائض و واجبات میں سے ہے۔ آج تک اس ملت کے اندر جتنی جماعتیں بنی ہیں انھوں نے درحقیقت جسد ملت سے گوشت کا ایک ٹکڑا کاٹا ہے اور اپنی دکان جسے وہ اپنی جماعت کہتے ہیں ،بنا لی ہے۔ پھر ملت سے بالکل بے پروا ہو کر اپنی اسی دکان کو چلانا چاہتے ہیں۔ مجھے جماعت اسلامی میں شامل ہونے کے بعد یہ احساس ہوا کہ جماعت بنانا اور پھر اس کے ذریعہ سے ملت کی خدمت کرنا نہایت مشکل کام ہے اور ہر ایک کا یہ ظرف بھی نہیں ہے۔ لوگ جماعتیں بناتے ہیں، پھر ملت کی خدمت کے بجاے اپنی جماعت ہی کی خدمت مد نظر رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جماعتیں ملت کے لیے فائدہ مند ہونے کی بجاے اس کے لیے فتنہ بن جاتی ہیں۔ اس لیے میری راے یہ ہے کہ یہ کام فائدہ مند نہیں، بلکہ خطرناک اور مہلک ہے۔ کسی جماعت کے کڑے ڈسپلن میں جکڑ کر اس کے مخصوص اغراض کے لیے استعمال ہونے سے بہتر ہے کہ آپ پوری ملت کو پیش نظر رکھ کر اس کی خدمت کریں۔ اپنی صلاحیت کے مطابق جو بھی مذہبی، سیاسی یا تعلیمی کام کیا جا سکتا ہے، اسے کرنا چاہیے۔ یہی ہمارا دینی فرض ہے اور بس اتنا ہی ہم پر واجب ہے۔ ‘‘ (سہ ماہی تدبر، اپریل 1998ء ، 55- 58)
اس سب کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ مولانا اصلاحی کو جماعت اسلامی سے علیحدہ ہونا بہت ناگوار تھا ، اس کی ایک گواہی جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی عبدالرشید عراقی ان الفاظ میں دیتے ہیں :
’’مولانا امین احسن اصلاحی کم گو،فعال،سنجیدہ، مگر سرگرم اورنبض شناس تھے۔ان کی پیشانی کی شکنیں ہمہ وقت معنی خیز نتائج کی متلاشی ہوتی تھیں۔وہ 17 سال جماعت اسلامی سے وابستہ رہے اور ہر نازک موقع پر جماعت کی عظمت ووقار کے لیے سینہ سپر رہے۔ان کی اصابت راے کا یہ عالم تھا کہ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اور ارکان جماعت اسلامی ان کے مشوروں کی قدر کرتے تھے۔سنجیدگی کے ساتھ بے باکی اور صاف گوئی مولانا کاامتیاز تھا۔پروفیسرحکیم عنایت اللہ نسیم سوہدری مرحوم نے، جو جماعت اسلامی سے کئی سال تک وابستہ رہے اور ماچھی گوٹھ کے اجتماع کے بعد جماعت اسلامی سے علیحدہ ہوئے،مجھ سے کئی بار اس بات کا تذکرہ کیا کہ: جب مولانا مودودی نے امارت سے اپنا استعفا پیش کیا تو مولانا امین احسن اصلاحی ایک دم غصے میں آگئے اور مولانا مودودی سے فرمایا:’ہم آپ کو بھاگنے نہیں دیں گے۔ یہ پھولوں کی سیج نہیں ہے، کانٹوں کی مالا ہے۔ ہم آپ کو گریبان سے پکڑیں گے۔اگر اس راہ پرآپ چل نہیں سکتے تھے تو جماعت کی بنیاد کیوں رکھی تھی؟‘‘ (سہ ماہی تدبر،اپریل1998 ء، 89)