.

فہرستِ مندرجات

صحابہ سے متعلق ائمۂ اہل بیت کے آثار

حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے متعلق سیدنا علی کے آثار
(11)

(2)
عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ قَالَ: ضَرَبَ عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ هَذَا الْمِنْبَرَ فَقَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللّٰهَ وَذَكَرَهُ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ يَذْكُرَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ أُنَاسًا يُفَضِّلُونِي عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِي ذَلِكَ لَعَاقَبْتُ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْعُقُوبَةَ قَبْلَ التَّقَدُّمِ، فَمَنْ قَالَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ مُفْتَرٍ، عَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُفْتَرِي، إِنَّ خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، وَإِنَّا أَحْدَثْنَا بَعْدَهُمْ أَحْدَاثًا يَقْضِي اللّٰهُ فِيهَا مَا أَحَبَّ، ثُمَّ قَالَ: أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَّا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْمًا مَّا، وَأَبْغِضْ بَغِيضَكَ هَوْنًا مَّا عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْمًا مَّا.
(فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 460)
’’ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ علقمہ بن قیس نے اس منبر پر ہاتھ مارا اور کہا: ہمیں علی نے اسی منبر پر خطبہ دیا، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور جو چاہا ذکر کیا۔ پھر فرمایا: سنو! مجھے اطلاع ملی ہے کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر اور عمر پر فضیلت دیتے ہیں۔ اگر میں اس معاملے میں پہلے کچھ کہہ چکا ہوتا تو (ایسا کہنے والوں کو) سزا دیتا، لیکن میں پہلے آگاہ کیے بغیر سزا دینا پسند نہیں کرتا۔ پس جو ایسا کہتا ہے، وہ جھوٹا ہے، اس پر وہی وبال ہے جو کسی جھوٹے پر ہوتا ہے۔ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہترین انسان ابوبکر ہیں، اور پھر عمر۔ اور ان کے بعد ہم نئے طریقوں پر چل پڑے ہیں جن کے متعلق اللہ جو چاہے گا، فیصلہ فرمائے گا۔ پھر فرمایا: اپنے پسندیدہ شخص سے اعتدال کے ساتھ محبت کرو، ممکن ہے کہ وہ کسی دن تمھارے لیے ناپسندیدہ بن جائے، اور اپنے ناپسندیدہ شخص کو بھی اعتدال کے ساتھ ناپسند کرو، ممکن ہے کہ وہ کسی دن تمھارا پسندیدہ شخص بن جائے۔ “

لغوی تشریح
هَوْنًا مَّا: ’ھون‘ کا مطلب نرمی ہوتا ہے۔ یہاں مراد محبت اور نفرت میں اعتدال اور میانہ روی ہے۔ ’هَوْنًا مَّا‘ میں ’ما‘ ابہامیہ ہے جو اسم نکرہ کی صفت کے طور پر آتی اور عموم میں وسعت پیدا کر دیتی ہے ۔ ’أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَّا‘ کا مطلب ہوگا: اپنے پسندیدہ شخص کے ساتھ محبت میں اعتدال رکھو۔ ’ أحْبِبْ حَبيبَكَ هَوْنًا مَّا، أَي حُبًّا مُقْتَصِدًا لَا إفْراطَ فِيهِ‘(تاج العروس292/36) ۔

شرح ووضاحت
سیدنا ابوبکر پر کسی کو فضیلت دینے کو قابل تعزیر امر قرار دینے کا فیصلہ بنیادی طور پر سیدنا عمر کا تھا۔ ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر کو اطلاع ملی کہ ایک شخص نے ان کو سیدنا ابوبکر سے افضل قرار دیا ہے تو اپنے درے کے ساتھ اس کی تادیب کی اور فرمایا:
أبو بكر كان خير الناس بعد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم في كذا وكذا، ثم قال عمر: من قال غير هذا أقمنا عليه ما نقيم على المفتري.
(السنۃ، عبد اللہ بن احمد، رقم 1246) ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد فلاں اور فلاں اوصاف میں سب سے بہتر انسان تھے۔ پھر فرمایا: جو اس کے خلاف کہے گا، ہم اس پر وہی حد جاری کریں گے جو بہتان تراش پر نافذ کی جاتی ہے۔“
شعبی کا بیان ہے کہ:
كان عمر يكتب إلى عماله: من فضلني على أبي بكر فاضربوه حد المفتري، أو قال أربعين سوطًا.
(انساب الاشراف، بلاذری 10/82) ’’عمر رضی اللہ عنہ اپنے گورنروں کو لکھتے تھے کہ جو کوئی مجھے ابوبکر پر فضیلت دے، اس پر بہتان کی سزا جاری کرو، یا (یہ الفاظ ہوتے تھے کہ اسے) چالیس کوڑے لگاؤ۔“
زیر بحث اثر سے واضح ہے کہ سیدنا علی نے بھی اس سزا کو برقرار رکھا۔

تخریج اور اختلاف طرق
علقمہ بن قیس کے طریق سے یہ اثر درج ذیل مصادر میں نقل ہوا ہے :
السنۃ، عبد اللہ بن احمد، رقم 1394۔ السنۃ، ابن ابی عاصم، رقم 993۔ شرح مذاہب اہل السنۃ، ابن شاہین، رقم 198۔ فضائل ابی بکر الصدیق،عشاری، رقم 38۔ الحجۃ فی بیان المحجۃ ، اسماعیل التیمی الاصبہانی، رقم 327۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 44/‏365۔ المحلیٰ بالآثار، ابن حزم 12/252۔ الاعتقاد، بیہقی 361۔
’’الحجۃ فی بیان المحجۃ‘‘ کے طریق میں یہ وضاحت بھی ہے کہ اس مجلس میں سیدنا حسن موجود تھے۔
اثر کا یہ ٹکڑا مسند احمد میں بھی نقل ہوا ہے : ’إن خير الناس كان بعد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أبو بكر ثم عمر، ثم أحدثنا بعدهما أحداثًا يقضي اللّٰه فيها.‘ (رقم 1028)
علقمہ کے علاوہ عبد خیر، حکم بن حجل اور سوید بن غفلۃ نے بھی سیدنا علی کا یہ خطبہ روایت کیا ہے۔ حکم بن حجل کے طریق میں ہے:
سمعت عليًا يقول: بلغني أن أناسًا يفضلونني على أبي بكر وعمر، لا يفضلني أحد على أبي بكر وعمر إلا جلدته حد المفتري.
(فضائل الصحابۃ، احمد بن حنبل، رقم 310) ’’میں نے علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: مجھے اطلاع ملی ہے کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر اور عمر پر فضیلت دیتے ہیں۔ جو بھی مجھے ابوبکر اور عمر پر فضیلت دے گا، میں اسے بہتان کی پاداش میں کوڑے لگواؤں گا۔“
حکم بن حجل کا یہ اثر تاریخ دمشق، ابن عساکر (30/383)، الشریعۃ ،آجری (رقم 1764) اور المحلیٰ بالآثار، ابن حزم (12/252) میں بھی منقول ہے۔
عبد خیر اور سوید بن غفلہ کی روایات میں اس کی شان ورود کی تفصیل بھی بتائی گئی ہے:
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا علی کے حامیوں کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر کی تنقیص کر رہے تھے۔ میں نے سیدنا علی کے پاس جا کر اس کی اطلاع دی تو انھوں نے تعوذ پڑھتے ہوئے ان سے براءت کا اعلان کیا۔ پھر مسجد میں تشریف لائے اور منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا جس میں ان دونوں حضرات کا مقام ومرتبہ اور ان کے مناقب بیان کیے۔ پھر خطبے کے آخر میں فرمایا:
فمن لكم بمثلهما رحمة اللّٰه عليهما ورزقنا المضي على أثرهما، فمن لكم بمثلهما؟ فإن لا يُبلغُ مبلغَهما إلا باتباع أثرهما والحب لهما، فمن أحبني فليحبهما، ومن لم يحبهما فقد أبغضني وأنا منه بريء، ولو كنت تقدمت إليكم في أمرهما لعاقبتُ على هذا أشد العقوبة؛ ولكنه لا ينبغي لي أن أعاقب قبل التقدم، ألا فمن أتيتُ به يقول هذا بعد اليوم فإن عليه ما على المفتري، ألا وإن خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر وعمر، ثم اللّٰه أعلم بالخير أين هو، أقول قولي هذا ويغفر اللّٰه لي ولكم.
(الشریعۃ، آجری، رقم 2396) ’’تمھیں ان جیسی ہستیاں کہاں ملیں گی؟ اللہ ان پر رحمت نازل کرے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ تمھیں ان دونوں جیسی ہستیاں کہاں ملیں گی؟ ان کے نقش قدم پر چلے بغیر اور ان سے محبت رکھے بغیر ان کے مرتبے تک کوئی نہیں پہنچ سکتا ۔ پس جو مجھ سے محبت کرتا ہے، اسے چاہیے کہ ان دونوں سے بھی محبت رکھے اور جو ان دونوں سے محبت نہیں رکھتا، وہ مجھ سے بھی متنفر ہے اور میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ اگر میں اس معاملے میں پہلے آگاہی دے چکا ہوتا تو اس پر سخت سزا دیتا، لیکن متنبہ کرنے سے پہلے سزا دینا میرے لیے روا نہیں۔ آگاہ رہو، آج کے بعد جو شخص بھی میرے پاس لایا جائے گا، جس نے یہ بات کہی ہو، اس کو وہی سزا ملے گی جو بہتان لگانے والے کو ملتی ہے۔ سنو! اس امت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص ابوبکر اور عمر ہیں، اور اس کے بعد اللہ بہتر جانتا ہے کہ خیر کہاں ہے۔ میں اپنی بات ختم کرتا ہوں، اللہ مجھے اور تمھیں معاف فرمائے۔“
عبد خیر کا بیان ہے :
بلغ عليًا أن ناسًا تقاعدوا فتذاكروا، فكأنهم فضلوا عليا على أبي بكر وعمر، وذاك أنهم قالوا: إن أبا بكر وعمر لم يكن في زمانهم فتنة، وأن عليًا وقع في الفتنة فكان فيها صليبًا، حتى هم الناس. فبلغ عليًا ما قالوا، فصعد المنبر، فحمد اللّٰه وأثنى عليه، ثم قال: بلغني أن ناسًا فضلوني على أبي بكر وعمر، وإني لم أقدم، ولو قدمت لعاقبت، ولا ينبغي لوالٍ أن يعاقب حتى يتقدم. ألا، من فضلني على أبي بكر وعمر بعد مقامي هذا فعليه ما على المفتري. ألا، إن خير الناس أو أفضل بعد نبيها صلی اللّٰہ علیہ وسلم من هذه الأمة أبو بكر، ثم عمر، واللّٰه أعلم بالثالث. أحبب حبيبك هونًا ما، عسى أن يكون بغيضك يومًا، وأبغض بغيضك هونًا ما، عسى أن يكون حبيبك يومًا.
(تاریخ دمشق 30/369) ’’ علی رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ کچھ لوگ بیٹھ کر آپس میں گفتگو کر رہے تھے، اور انھوں نے گویا سیدنا ابوبکر اور عمر پر سیدنا علی کو برتری دینا چاہی، کیونکہ وہ کہہ رہے تھے کہ ابوبکر اور عمر کے زمانے میں کوئی فتنہ نہیں تھا، جب کہ علی رضی اللہ عنہ کو فتنے کی صورت حال کا سامنا رہا، جس میں وہ ثابت قدم رہے۔ (یہ بات ایسے انداز میں ہوئی کہ) لوگ (شاید نامناسب تبصروں پر) آمادہ ہونے لگے۔ جب یہ بات علی رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو وہ منبر پر آئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: مجھے اطلاع ملی ہے کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر اور عمر پر فضیلت دیتے ہیں۔ میں نے اس معاملے میں پہلے سے کوئی تنبیہ نہیں کی، اور اگر کی ہوتی تو (ایسا کہنے والوں کو) سزا دیتا، لیکن حاکم کے لیے سزا دینا اس وقت تک مناسب نہیں جب تک وہ پہلے لوگوں کو آگاہ نہ کر دے۔ سنو! جو کوئی مجھے ابوبکر اور عمر پر فضیلت دے، وہ جھوٹا ہے اور اس پر بہتان کی حد جاری ہوگی۔ سنو! اس امت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص ابوبکر ہیں، پھر عمر، اور تیسرے کے بارے میں اللہ بہتر جانتا ہے۔ اپنے پسندیدہ شخص سے اعتدال کے ساتھ محبت کرو، ممکن ہے کہ وہ کسی دن تمھارے لیے ناپسندیدہ بن جائے، اور اپنے ناپسندیدہ شخص کو بھی اعتدال کے ساتھ ناپسند کرو، ممکن ہے کہ وہ کسی دن تمھارا پسندیدہ شخص بن جائے۔ “
(3)
عَنْ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: خَطَبَ رَجُلٌ يَوْمَ الْبَصْرَةِ حِينَ ظَهَرَ عَلِيٌّ، فَقَالَ عَلِيٌّ: هَذَا الْخَطِيبُ الشَّحْشَحُ، سَبَقَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ، وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، وَثَلَّثَ عُمَرُ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ بَعْدَهُمْ يَصْنَعُ اللّٰهُ فِيهَا مَا شَاءَ. (مسند احمد، رقم 1225)
’’عمرو بن سفیان کہتے ہیں کہ جب سیدنا علی کو بصرہ پر فتح حاصل ہوئی تو ایک شخص نے خطبہ دیا۔ سیدنا علی نے کہا کہ یہ بڑا زبان آور خطیب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے تشریف لے گئے، پھر ان کے بعد ابوبکر اور پھر ان کے بعد تیسرے نمبر پر عمر رخصت ہوئے۔ پھر ان کے بعد ایک آزمایش نے ہم کو روند ڈالا، جس کا نتیجہ اللہ جو چاہے گا، ظاہر کرے گا۔“
لغوی تشریح
الشَّحْشَحُ: گفتگو میں ماہر، زبان آور۔
صَلَّى: ’صلا‘ سے مشتق ہے، جو پشت کو یاکولہوں کے نچلے حصے کو کہتے ہیں۔ محاورۃً‌ ’صَلَّى‘ کا مطلب ہوتا ہے: قطار میں یا مسابقت میں دوسرے نمبر پر ہونا۔
خَبَطَتْنَا: ’خبط‘ لاٹھی کے ساتھ درخت سے پتے جھاڑنے کو کہتے ہیں۔ اسی سے یہ زوردار ضرب لگانے یا پاؤں سے کسی چیز کو روند ڈالنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ ’خَبَطَه يَخْبِطُه: ضَرَبَه شديدًا، وكذا البعيرُ بِيدهِ الأرضَ، كتَخَبَّطَهُ واخْتَبَطَه ووَطِئَه شديدًا‘. (القاموس المحیط 857)

شرح و وضاحت
قرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ خطیب نے اپنے خطبے میں سیدنا علی یا ان کے ساتھیوں کی کامیابی کا فخر آمیز انداز میں ذکر کیا ہوگا، جس پر سیدنا علی کو تنبیہ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ مراد یہ تھی کہ یہ خوشی منانے یا ناز کرنے کا موقع نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلے دونوں خلفا کا زمانہ تو سلامتی اور اجتماعیت کے ساتھ گزر گیا، لیکن ہم ایک آزمایش سے دوچار ہیں، جس کا نتیجہ ابھی پردۂ غیب میں ہے اور نہیں معلوم کہ ہمارے لیے ا س سے نکلنے کی راہ کیا ہوگی۔

تخریج اور اختلاف طرق
عمرو بن سفیان کے علاوہ یہ اثر عبد خیر، قیس بن سعد الخارفی، عبد اللہ بن سلمہ اور عمرو بن قیس کے طرق سے درج ذیل مصادر میں بھی مروی ہے:
مسند احمد، رقم 881، 1000۔ المستدرک علی الصحیحین، رقم 4400۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم 1655۔ طبقات المحدثین باصبہان، ابی الشیخ، رقم 859۔ حلیۃ الاولیاء، ابی نعیم، رقم 6599۔ الشریعۃ، آجری، رقم 1772۔ السنۃ، عبد اللہ بن احمد، رقم 1198، 1205۔ فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 227، 228۔ الطبقات الکبریٰ، ابن سعد، رقم 6066۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 30/377، 378۔ الفتن، نعیم بن حماد، رقم 186۔ الاغراب، نسائی، رقم 219۔ السنۃ، ابن ابی عاصم، رقم 1209۔ التاریخ الکبیر، بخاری، رقم 779۔ الاحادیث المختارۃ، مقدسی، رقم 707۔ الابانۃ الکبریٰ، ابن بطۃ، رقم 104۔ الاعتقاد، بیہقی، 361۔ تلخیص المتشابہ فی الرسم، خطیب البغدادی 1/ 353۔ تاریخ بغداد، خطیب البغدادی 15/ 60۔ انساب الاشراف، بلاذری 2/154، 10/ 67۔
بعض طرق میں آخری جملے کے الفاظ: ’يَصْنَعُ اللّٰهُ فِيهَا مَا شَاءَ‘ کی جگہ ’يَعْفُو اللّٰهُ عَمَّنْ يَشَاءُ‘ مروی ہیں۔
(4)
عَنِ الضَّحَّاكِ، ثنا النَّزَّالُ بْنُ سَبْرَةَ، قَالَ: وَافَقنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ طَيِّبَ النَّفْسِ وَهُوَ يَمْزَحُ، فَقُلْنَا: حَدّثنَا عَنْ أَصْحَابِكَ، قَالَ: كُلُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ أَصْحَابِي، فَقُلْنَا: حَدّثنَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: ذَاكَ امْرَؤٌ سَمَّاهُ اللّٰهُ صِدِّيقًا عَلَى لِسَانِ جِبْرِيلَ وَمُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِمَا.
(المستدرک علی الصحیحین، رقم 4380)
’’نزال بن سبرۃ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اچھے موڈ میں پایا اور وہ مزاح کر رہے تھے۔ ہم نے کہا کہ ہمیں اپنے ساتھیوں کے متعلق بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اصحاب میرے ساتھی تھے۔ ہم نے کہا کہ ہمیں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق بتائیے، سیدنا علی نے کہا: وہ تو ایسے شخص تھے جنھیں اللہ نے جبریل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے صدیق کا لقب دیا تھا۔“

شرح ووضاحت
صِدِّيق، ’صدق‘ سے مبالغے کا صیغہ ہے، جس کا مفہوم سچائی اور راستی میں درجۂ کمال پر فائز ہونا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں اس کی تعبیر یوں کی گئی ہے کہ ’وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللّٰهِ صِدِّيقًا ‘ (صحیح مسلم، رقم 4827)، یعنی کچھ لوگ اس قدر سچائی کے متلاشی اور اس پر کاربند رہتے ہیں کہ ان کے لیے اللہ کے ہاں صدیق کا درجہ لکھ دیا جاتا ہے۔ اس مفہوم میں اس صفت کا ذکر قرآن مجید میں انبیا کے لیے بھی ہوا ہے (مریم 19 :41، 56) اور انبیا کی تصدیق اور نصرت میں پیش پیش رہنے والوں کے لیے بھی (النساء 4: 69۔ الحدید 57: 19) ۔
سیدنا ابوبکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اولین ایمان لانے والوں میں سے تھے۔ آپ نے ان کی حق پرستی کا ذکر ایک موقع پر یوں فرمایا :
إني قلت: يا أيها الناس، إني رسول اللّٰه إليكم جميعًا، فقلتم: كذبت، وقال أبو بكر: صدقت.
(بخاری، رقم 4640) ’’میں نے کہا کہ اے لوگو، میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں تو تم نے کہا کہ تم جھوٹ کہتے ہو، اور ابوبکر نےکہا کہ آپ سچ کہتے ہیں۔“
بعض مواقع پر آپ نے سیدنا ابوبکر کے لیے ’صدیق‘ کا لقب بھی استعمال فرمایا (بخاری، رقم 3516 )۔ جبریل علیہ السلام کی زبان سے آپ کو صدیق کا لقب دیے جانے کا پس منظر روایات میں یہ بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر معراج کے مشاہدات کے بعد جبریل علیہ السلام کے سامنے اپنا یہ خدشہ بیان کیا کہ اہل مکہ یہ واقعات سننے پر آپ کی تکذیب کریں گے۔ اس پر جبریل علیہ السلام نے کہا:
يصدقك أبو بكر وهو الصديق.
(الطبقات الکبریٰ، ابن سعد، رقم 492) ’’ابوبکر آپ کی تصدیق کریں گے، اور وہ صدیق ہیں۔“

تخریج اور اختلاف طرق
نزال بن سبرۃ کے طریق سے سیدنا علی کا یہ اثر درج ذیل مصادر میں بھی مروی ہے:
شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ، لالکائی، رقم 2003 ۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 30/75۔ الشریعۃ، آجری، رقم 1192۔ اسد الغابۃ، ابن الاثیر 3/220۔
امام حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے، تاہم امام ذہبی نے نشان دہی کی ہے کہ اس کی سند میں ہلال بن العلاء، منکر الحدیث ہے (مختصر تلخیص الذہبی، ابن الملقن رقم 486، 3/1143)۔
نزال بن سبرۃ کے علاوہ یہ اثر متعدد مصادر میں ابو یحییٰ حکیم بن سعد کے طریق سے بھی نقل ہوا ہے (المستدرک، رقم 4379۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم 14۔ الآحاد والمثانی، ابن ابی عاصم، رقم 6۔ معرفۃ الصحابۃ، ابی نعیم، رقم 59۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 30/75)۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:
سمع عليًا يحلف: لأنزل اللّٰه تعالى اسم أبي بكر رضي اللّٰه عنه من السماء صديقًا.
(المستدرک، رقم 4379) ’’حکیم بن سعد نے سیدنا علی کو قسم کھا کر یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لقب، صدیق نازل کیا ہے۔“
اس کی سند میں محمد بن سلیمان العبدی نامی راوی ہے، جسے محدثین مجہول قرار دیتے ہیں۔ البتہ ابن مندہ اور ابن عساکر نے اس کا ایک متابع، ابو اسحاق السبیعی کے طریق سے بھی نقل کیا ہے (مجالس من امالی ابی عبد اللہ بن مندہ، رقم 387۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 30/75)۔
(5)
عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ يَقُولُ: كُنْتُ رَجُلًا إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللّٰهُ مِنْهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي، وَإِذَا حَدَّثَنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ عَبْدٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا، فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ إِلَّا غَفَرَ اللّٰهُ لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ : ”وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ“ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
(سنن ابی داؤد، رقم 1335)
’’اسماء بن الحکم الفزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں ایک ایسا شخص تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود کوئی حدیث سنتا تو اللہ تعالیٰ اس سے مجھے جو فائدہ پہنچانا چاہتے، پہنچا دیتے تھے اور جب آپ کے اصحاب میں سے کوئی مجھے حدیث بیان کرتا تو میں اس سے قسم لیتا تھا۔ جب وہ قسم کھاتا تو میں اس کی بات قبول کر لیتا تھا۔ اور ابوبکر نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی — اور ابوبکر نے سچ کہا، (یعنی ان سے مجھے قسم لینے کی ضرورت نہیں تھی)— کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو کوئی آدمی بھی کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، پھر اچھے طریقے سے وضو کر کے کھڑا ہوتا ہے اور دو رکعت نماز ادا کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی معافی مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دیتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’وَ الَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ ذَکَرُوا اللّٰہَ‘ (اور وہ لوگ جو کسی بے حیائی کے کام میں مبتلا ہوں یا اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی کے طلب گار ہوتے ہیں) ۔‘‘

شرح و وضاحت
اخبار آحاد کی توثیق کے لیے مختلف صحابہ اپنے علم وفہم اور ذوق کے مطابق مختلف طریقے اختیار کرتے تھے۔ مثلاً‌ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر اہم معاملات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرنے والے راوی سے دوسرا گواہ طلب کرتے تھے (بخاری، رقم 6543۔ مسند احمد، رقم 17670)۔سیدنا علی کے مذکورہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ عموماً‌ راوی سے حلف لینے کا طریقہ اختیار کرتے تھے، تاہم سیدنا ابوبکر کی صداقت ودیانت پر اعتماد کی وجہ سے انھوں نے ان سے حلف کا مطالبہ نہیں کیا۔

تخریج اور اختلاف طرق
یہ اثر درج ذیل مصادر میں بھی نقل کیا گیا ہے:
سنن ترمذی، رقم 408۔ سنن ابن ماجہ، رقم 1390۔ مسند احمد، رقم 2۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم 9878۔ مسند الطیالسی، رقم 1۔ مسند الحمیدی، رقم 1۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم 590۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 7529۔
(6)
عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ إِذَا ذُكِرَ عِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: السَّبَّاقَ تَذْكُرُونَ، السَّبَّاقَ تَذْكُرُونَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا اسْتَبَقْنَا إِلَى خَيْرٍ قَطُّ إِلَّا سَبَقَنَا إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ. (المعجم الاوسط، طبرانی، رقم 7300)
’’صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کے سامنے جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا جاتا تو وہ کہتے تھے: تم لوگ ایک انتہائی سبقت لے جانے والی ہستی کا ذکر کر رہے ہو، تم ایک انتہائی سبقت لے جانے والی ہستی کا ذکر کر رہے ہو۔ اللہ کی قسم، ہم نیکی کے جس کام کی طرف بھی بڑھنے کا ارادہ کرتے، ابوبکر ہم سے پہلے اسے انجام دے دیتے تھے۔“

شرح و وضاحت
سیدنا ابوبکر کے اس وصف کا ذکر معروف روایات میں سیدنا عمر کے حوالے سے ہوا ہے جنھوں نے متعدد مواقع پر سیدنا ابوبکر کی اس فضیلت کا اعتراف کیا۔ ایک موقع پر وہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ان کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات تحسین کی اطلاع دینے گئے تو ان سے پہلے سیدنا ابوبکر ان کو بتا چکے تھے۔ اس پر انھوں نے کہا :
وما استبقنا إلى خير، إلا سبقني إليه أبو بكر. (مسند احمد، رقم 4033)
’’ہم جس بھی نیکی میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں، ابوبکر ہمیشہ اس میں مجھ سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔“
اسی طرح ایک موقع پر وہ اپنےگھر کا نصف سازوسامان صدقہ کرنے کے لیے لائے اور انھیں معلوم ہوا کہ سیدنا ابوبکر اپنے گھر کا سارا ساز وسامان لے کر آئے ہیں تو انھوں نے یہی جملہ کہا (مسند الفاروق، ابن کثیر، رقم 802)۔ رومیوں کے خلاف جنگ کے لیے لشکر کی روانگی کے موقع پر بھی سیدنا عمر نے سیدنا ابوبکر کے اس وصف کا ذکر کیا (جامع الاحادیث، جلال الدین السیوطی، رقم 27855)۔

تخریج اور اختلاف طرق
سیدنا علی کا یہ اثر بہ ظاہر صلہ بن زفر کے طریق سے ہی مروی ہے۔ طبرانی کے علاوہ اسے العصامی اور محب الدین الطبری نے ابن السمان کی ’’الموافقۃ‘‘ کے حوالے سے بھی نقل کیا ہے (سمط النجوم العوالی فی انباء الاوائل والتوالی، عصامی 2/‏439 ۔ الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، طبری 1/175)۔
]باقی[

صحابہ سے متعلق ائمۂ اہل بیت کے آثار

زیادہ پڑھے جانے والے مضامین