.

فہرستِ مندرجات

قرآنیات

البيان

مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ۝ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى ۙ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۝ قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى ۗ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ ۝ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖ لَا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ ۝

ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اللہ کا طریقہ یہی ہے۔ اس لیے یہ نہیں مانتے تو انھیں چھوڑو اور تم اچھی طرح سمجھ لو کہ) اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرنے والوں کے اس عمل کی مثال اُس دانے کی ہے جس سے سات بالیں نکلیں، اس طرح کہ ہر بال میں سو دانے ہوں۔ اللہ (اپنی حکمت کے مطابق ) جس کے لیے چاہتا ہے ، اسی طرح بڑھا دیتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑی وسعت والا ہے ، وہ ہر چیز سے واقف ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، پھر جو کچھ خرچ کیا ہے، اُس کے پیچھے نہ احسان جتاتے ہیں، نہ دل آزاری کرتے ہیں، اُن کے لیے اُن کے پروردگار کے ہاں اُن کا اجر ہے اور اُن کے لیے نہ وہاں کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ کبھی غم زدہ ہوں گے۔ ایک اچھا بول اور ناگواری کا موقع ہو تو ) ذراسی چشم پوشی اس خیرات سے بہتر ہے جس کے ساتھ اذیت لگی ہوئی ہو۔ اور (تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) اس طرح کی خیرات سے اللہ بے نیاز ہے، (اس رویے پر وہ تمھیں محروم کر دیتا، لیکن اُس کا معاملہ یہ ہے کہ) اس کے ساتھ وہ بڑا بردبار بھی ہے۔ ایمان والو ، احسان جتا کر اور دوسروں کی دل آزاری کر کے اپنی خیرات کو اُن لوگوں کی طرح ضائع نہ کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور وہ نہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ قیامت کے دن کو مانتے ہیں۔ سو ان کی مثال ایسی ہے کہ ایک چٹان ہو جس پر کچھ مٹی ہو ، پھر اس پر زور کا مینہ پڑے اور اُس کو بالکل چٹان کی چٹان چھوڑ جائے۔ (قیامت کے دن) اُن کی کمائی میں سے کچھ بھی اُن کے ہاتھ نہ آئے گا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے ناشکرے لوگوں کو اللہ کبھی راہ یاب نہیں کرتا۔ 264

وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ ۖ فَإِنْ لَمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ۝

اللہ کی خوشنودی چاہنے کے لیے اور اپنے آپ کو حق پر قائم رکھنے کی غرض سے اپنا مال خرچ کرنے والوں کی مثال اُس باغ کی ہے جو بلند اور ہموار زمین پر واقع ہو۔ اُس پر زور کی بارش ہو جائے تو اپنا پھل دونا لائے اور زور کی بارش نہ ہو تو پھوار بھی کافی ہو جائے۔ ( یہ مثال سامنے رکھو) اور ( مطمئن رہو کہ ) جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ 265

أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۙ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَأَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ ۖ فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ ۝

کیا تم میں کوئی یہ پسند کرے گا کہ اُس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں۔ اُس میں اُس کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں اور وہ بوڑھا ہو جائے اور اُس کے بچے ابھی ناتواں ہوں اور باغ پر سموم کا بگولا پھر جائے اور وہ جل کر خاک ہو جائے۔ (احسان جتا کر اور دوسروں کی دل آزاری کر کے اپنا انفاق برباد کر لینے والوں کی حالت قیامت میں یہی ہو گی۔ اللہ اسی طرح اپنی آیتیں تمھارے لیے واضح کرتا ہے تا کہ تم غور کرو۔ 266

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ ۝

ایمان والو، اپنی پاکیزہ کمائی میں سے خرچ کرو اور اُس میں سے بھی جو ہم نے تمھارے لیے زمین سے نکالا ہے، اور کوئی بری چیز تو اُس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنے کا خیال بھی نہ کرو۔ تم اس طرح کی چیزوں میں سے خرچ کرتے ہو ، لیکن اپنا حال یہ ہے کہ اُس کی قیمت گھٹا نہ لو تو اسے لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور جان رکھو کہ تمھاری اس خیرات سے اللہ بے نیاز ہے، وہ ستودہ صفات ہے۔ 267

الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ ۖ وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلًا ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ۝ يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ ۝

شیطان تمھیں تنگ دستی سے ڈراتا اور (خرچ کے لیے ) بے حیائی کی راہ سمجھاتا ہے اور اللہ اپنی طرف سے تمھارے ساتھ مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت اور بڑا علم رکھنے والا ہے۔ وہ (اپنے قانون کے مطابق) جس کو چاہتا ہے ، اس وعدے کا فہم عطا کر دیتا ہے ، اور جسے یہ فہم دیا گیا، اُسے تو در حقیقت خیر کثیر کا ایک خزانہ دے دیا گیا۔ لیکن (اس طرح کی باتوں سے ) یاد دہانی صرف دانش مند ہی حاصل کرتے ہیں۔ 268-269

وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ ۗ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ ۝ إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۖ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ ۚ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيِّئَاتِكُمْ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ۝

اس بات کو سمجھ لو) اور ( مطمئن رہو کہ ) جو خرچ بھی تم کرو گے یا جو نذر بھی تم مانو گے ، اس کا صلہ لازماً پاؤ گے کا صلہ لازماً پاؤ گے (اللہ کی اس ہدایت سے منہ موڑ) کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کا (للہ کے ہاں) کوئی مدد گار نہ ہو گا۔ 270

إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۖ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ ۚ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيِّئَاتِكُمْ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ۝

تم اپنی خیرات علانیہ دو تو یہ بھی کیا اچھی بات ہے اور اُسے چھپاؤ اور غریبوں کو دے دو تو یہ تمھارے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ (اللہ تم کو اس کا صلہ دے گا) اور تمھارے بہت سے گناہ تم سے جھاڑ دے گا اور حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔ 271

[ باقی]

قرآنیات

زیادہ پڑھے جانے والے مضامین