اے کاش کبھی سنتے معنی کی خبر لائی
الفاظ کے پیچوں سے انساں کی شناسائی
کیا رنگ دکھائے گی خرمن میں یہ چنگاری
ہر شخص ہے بستی میں خاموش تماشائی
اجڑے ہوئے خیموں کے خونابه مژگاں سے
آتی ہے تمدن کی تعمیر میں رعنائی
پھر شہر ملامت کے ہر کوچہ و منزل میں
مجروح تماشا ہے آشفتہ تنہائی
میرے لیے کافی ہے ویرانہ دل میرا
افلاک سے بڑھ کر ہے اس دشت کی پنہائی
اے کاش کبھی سنتے معنی کی خبر لائیالفاظ کے پیچوں سے انساں کی شناسائیکیا رنگ دکھائے گی خرمن میں یہ چنگاریہر شخص ہے بستی میں خاموش تماشائیاجڑے