.

فہرستِ مندرجات

شریعت میں حلال و حرام کے احکام

اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے جو دین پیش کیا ہے ، اُس کا مقصد انسانی نفوس کی پاکیزگی ہے۔ چنانچہ شریعت کے تمام احکام اس پاکیزگی کو حاصل کرنے کے لیے دیے گئے ہیں۔ یہ چار (4) نوعیت کے احکام ہیں اور عبادات، تطہیر بدن، تطهیر خورونوش اور تطہیر اخلاق پر مشتمل ہیں۔ ان میں جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ، وہ تطہیر اخلاق اور تطہیر خور و نوش کے دائروں سے متعلق ہیں۔ یہ وہ آلائشیں ہیں، جو انسانوں کے اعمال و خصائل اور اکل و شرب کو آلودہ کرنے والی ہیں۔ انھی کے لیے حرام کی اصطلاح مستعمل ہے۔ ان سے روکنے کا مقصد نفوس کو ان کی آلودگی سے محفوظ کر کے اُس جنت کا اہل بنانا ہے، جو پاک بازوں کے لیے خاص ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ اگر انسان بڑے ممنوعات کے ارتکاب، یعنی کبیرہ گناہوں سے خود کو بچالیں تو اللہ تعالیٰ چھوٹے ممنوعات کے ارتکاب ، یعنی صغیرہ گناہوں کو اپنی رحمت سے معاف کر دے گا اور انھیں جنت کی صورت میں عزت و شرف کا مقام عطا فرمائے گا:

إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَابِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيَاتِكُمْ وَ تُدْخِلُكُمْ مُّدْ خَلَا كَرِيمًا.

ان گناہوں سے بچو، اس لیے کہ تمھیں جن چیزوں سے منع کیا جا رہا ہے، اُن کے بڑے بڑے گناہوں سے اگر تم بچتے رہے تو تمھاری چھوٹی برائیوں کو ہم تمھارے حساب سے ختم کر دیں گے اور تمھیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔“

(31:4 :النساء)

امام امین احسن اصلاحی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

اس آیت میں یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ خدائی گرفت سے بچنے اور اُس کی جنت میں داخل ہونے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ اپنے آپ کو بڑی فراخ دلی سے الاؤنس دیتے چلو، بلکہ اُس کا راستہ یہ ہے کہ جن چیزوں سے اُس نے روکا ہے ، ان کے کبائر سے پر ہیز رکھو۔ اگر کبائر سے پر ہیز رکھو گے تو صغائر کو وہ اپنے فضل و رحمت سے خود دور فرمادے گا، ورنہ کبائر و صغائر ، سب تمھارے اعمال نامے میں درج ہوں گے اور سب کا تمھیں حساب دینا ہو گا“۔

(تدبر قرآن 2 /287)

تطہیر اخلاق کے لیے قرآن مجید نے پانچ (5) چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ چیزیں فواحش، حق تلفی، ناحق زیادتی، شرک اور بدعت ہیں۔ جہاں تک تطہیر خور و نوش کا تعلق ہے تو اس مقصد سے طیبات کی حلت اور خبائث کی حرمت کا اصول قائم کیا ہے۔ یعنی ان کی کوئی جامع و مانع فہرست پیش کرنے کے بجاے عقل و فطرت کی رہنمائی کو کافی سمجھا ہے، کیونکہ انسان ان کی رہنمائی میں کسی تردد کے بغیر یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ کون سی چیز طیب اور کون سی خبیث ہے۔ ان میں سے چار (4) چیزوں کے بارے میں، البتہ خود فیصلہ کر کے اُنھیں خبائث کے دائرے میں شامل کر دیا ہے۔ یہ چیزیں مردار ، خون، سور کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ ہیں۔ ان کی تعیین کا سبب یہ ہے کہ ان کے بارے میں یہ اشتباہ پیدا ہو سکتا ہے کہ انھیں طیب سمجھ کر کھا لیا جائے یا خبیث سمجھ کر چھوڑ دیا جائے۔

خلاصہ بحث یہ ہے کہ قرآن مجید نے کل نو (9) چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے۔ ان میں سے پانچ (5) کا تعلق اخلاقیات سے اور چار (4) کا خور و نوش سے ہے۔ اِن دونوں نوعیت کی حرمتوں کا 6 تعین کرتے ہوئے انا کا کلمہ حصر استعمال کیا گیا ہے، جس کے معنی صرف محض اور فقط کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ شریعت نے فقط انھی چیزوں کو حرام ٹھہر آیا ہے ، ان کے علاوہ کسی اور چیز کو حرام قرار نہیں دیا۔ اس حصر کالازمی تقاضا یہ ہے

اولا، یہ تسلیم کیا جائے کہ محرمات شریعت یہی نو (9) ہیں۔ ان میں نہ کوئی کمی ہو سکتی ہے اور نہ کوئی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ثانیا، قرآن و حدیث میں درج دیگر حرمتوں کو تطہیر اخلاق اور تطہیر خورونوش کے احکام سے منسلک کیا جائے۔ اخلاقی جرائم فواحش، حق تلفی، ناحق زیادتی ، شرک اور بدعت سے متعلق ہوں اور کھانے پینے کے ممنوعات کو خبائث کے ذیل میں شمار کیا جائے۔

شریعت میں حلال و حرام کے احکام

زیادہ پڑھے جانے والے مضامین