.

فہرستِ مندرجات

ترجمہ و تحقیق: جاوید احمد غامدی / محمد حسن الیاس

ـــــ1 ــــــ
نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سیدھے راستے کی مثال دی ہے کہ اُس کے دونوں طرف دو دیواریں کھنچی ہوئی ہیں۔ دونوں میں دروازے کھلے ہیں جن پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔راستے کی ابتدا میں ایک پکارنے والا پکار رہا ہے کہ لوگو، سب اندر آ جاؤ اور راہ چھوڑ کر کراہ نہ چلو۔ اور راستے کے اوپر بھی ایک منادی ہے۔ چنانچہ کوئی شخص اگر دروازوں کا پردہ کچھ بھی اٹھانا چاہتا ہے تو وہ پکار کر کہتا ہے: خبردار،پردہ نہ اٹھانا، اِس لیے کہ اٹھاؤ گے تو اندر چلے جاؤ گے۔ سو یہ راستہ اسلام ہے، دیواریں اللہ کے حدود ہیں، کھلے ہوئے دروازے اُس کی قائم کردہ حرمتیں ہیں، راستے کی ابتدا میں پکارنے والی، وہ خدا کی کتاب ہے،اوراوپر سے پکارنے والا منادی خدا کا وہ واعظ ہے جو ہر مسلمان کے دل میں ہے۔ (مسند احمد،رقم 17634)
ــــــ 2 ــــــ
نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور بدی کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: نیکی حسن اخلاق کا نا م ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹک پیدا کر دے اور تم یہ پسند نہ کرو کہ دوسرے لوگ اُسے جانیں۔ (مسلم، رقم 4638)
ــــــ 3 ــــــ
قیس سے روایت ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ خطبے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: لوگو، تم اِس آیت کی تلاوت کرتے ہوکہ ’’ایمان والو، تم اپنی فکر کرو، تم راہ ہدایت پر ہو تو جنھوں نے گم راہی اختیار کر لی ہے، وہ تمھارا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔ تم سب کو اللہ ہی کی طرف پلٹنا ہے، پھر وہ تمھیں بتا دے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو‘‘۔ فرمایا: لوگ اِس آیت کو غلط جگہ پر رکھ کر اِس کا مدعا بیان کرتے ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب لوگ ظالموں کو دیکھیں اور اُن کا ہاتھ نہ پکڑیں اور منکرات کو دیکھیں اور اُن کے ازالے کی کوشش نہ کریں تو اندیشہ ہے کہ اللہ سب کو سزا کے لیے پکڑ لے گا۔ (مسند احمد،رقم30)

ترجمہ و تحقیق: جاوید احمد غامدی / محمد حسن الیاس

زیادہ پڑھے جانے والے مضامین