تخلیق خالق کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ اُس کی رحمت کا ایک ظہور ہے۔خالق کے لیے ’رحمت‘ کی حیثیت، گویا وہی ہے جو ایک ماں کے لیے اُس کی ممتا کی ہوا کرتی ہے۔ ایک بچہ اگر ماں کی ممتا کا حوالہ دے کر اُس سے کچھ مانگے تو ماں اپنی مادری شفقت کی بناپر اُسے نظر انداز نہیں کرسکتی۔
بلاتشبیہ، خالق کا حال بھی یہی ہے۔ ایک بندہ جب عجزوبندگی کے حقیقی احساسات کے ساتھ اپنے خالق ومالک سے اُس کی رحمت کا واسطہ دے کرسوال کرتا ہے تو خدا کی رحمت اِس کا تحمل نہیں کرسکتی کہ وہ اُسے قبولیت عطا نہ فرمائے،خدا محض اپنی رحمت سے ایسی پکار کو ضرور قبولیت دیتا ہے۔ تاہم یہ قبولیت، نعوذ باللہ، خالق کی مجبوری نہیں، بلکہ یہ صرف اُس کی لامحدود رحمت کا تقاضا ہے۔
اِسی حقیقت کو ایک قولِ رسول میں اِس طرح بیان کیا گیا ہے:
عن سلمان الفارسي، عن النبي صلی اللّٰہُ علیہ وسلم، قال: ’’إنّ اللّٰہَ حَیيٌ کریمٌ یَسْتَحْیي إذَا رَفَعَ الرّجلُ إلیہ یدَیہ، أن یَرُدَّہما صِفْرًا خَاءِبَتَینِ‘‘.
(ترمذی، رقم 3556۔ابو داؤد، رقم 1488) ”سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک، اللہ انتہائی حیادار اور انتہائی کرم فرما ہے۔ اُسے اِس بات سے حیا آتی ہے کہ جب کوئی آدمی اُس کے سامنے دعا کرتے ہوئے اپنا دست ِ سوال دراز کرےتو وہ اُس کے ہاتھوں کو خالی اور نامراد واپس کر دے۔“
اِس طرح کی ایک سچی دعا، گویا وہ ’اسم اعظم‘ ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اُس کے واسطے سے کوئی شخص خدا کو پکارتا ہے تو وہ ضرور اُس کی پکار کو سنتا اور قبول فرماتا ہے (اسم اللّٰہ الأعظم، الذي إذا سُئل بہ أعطي، وإذا دُعي بہ أجاب. ابن ماجہ، رقم 3858۔ ابوداؤد، رقم 1495)۔ اِس سلسلے میں یہاں چند نبوی ارشادات ملاحظہ فرمائیں:
عن أبي أمامۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’إن للّٰہ ملکًا موکلاً بمن یقول: یا أرحم الراحمین. فمن قالہا ثلاثًا، قال الملک: إنّ أرحم الراحمین قد أقبل علیک فاسأل‘‘.
(مستدرک الحاکم، رقم 2040) ’’سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ’یا أرحمَ الراحمین‘ کہتے ہوئے خدا کو پکارے، اُس پر خدا کا ایک خاص فرشتہ مقررہوتاہے۔ چنانچہ جب بندہ تین بار اِسی طرح ’یا أرحمَ الراحمین‘ کہہ کر دعا کرے تو یہ فرشتہ اُس سے مخاطب ہوکر کہتاہے کہ ارحم الراحمین تیری طرف متوجہ ہوگیا، پس تو اب مانگ (جو تجھے مانگنا ہے)۔‘‘
عن أنس بن مالک رضي اللّٰہ عنہ قال: مر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم برجل وہو یقول: یا أرحم الراحمین، فقال لہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’سَلْ فقد نظرَ اللّٰہُ إلیک‘‘.
(مستدرک الحاکم، رقم 2039) ”سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے۔وہ ’یا أرحمَ الراحمین‘کہہ کر خدا سے دعا کررہاتھا۔ آپ نے اُس کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا: مانگ، اِس وقت خدا کی نظر عنایت تیری جانب متوجہ ہے۔“
اِسی طرح ایک طویل روایت کے مطابق، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ سے دعا کرتے ہوئے یہ کہے کہ اے اللہ، میں تجھ سے اُس حق کے واسطے سے مانگتا ہوں جو مانگنے والوں کا تجھ پر ہے تو خدا اِس دعا کو سن کر اپنی پوری ہستی کے ساتھ اُس کی طرف متوجہ ہوجاتاہے: ’اللّٰہُمَّ إنّي أسْألکَ بِحَقِّ السّاءِلِینَ عَلَیْک،… أقبَلَ اللّٰہُ عَلَیْہِ بِوَجْہِہ.‘ (سنن ابن ماجہ، رقم 778۔ مسند احمد، رقم 11156)۔
ما بعد دورِ رسالت میں پیدا ہونے والے فکری اور ’مذہبی‘ شاکلے کا بڑا حصہ خالص فن پرستانہ تقلید پر قائم کیاگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِس اجنبی اور ’غیرمسنون‘ نفسیات کے تحت بعض افراد اگرچہ اِس طرح کی روایات کو عموماً نادرست بتاتے ہیں، تاہم، دیگر اہل علم کے نزدیک یہ روایات درست ہیں۔
چنانچہ حافظ الدمیاطی اور حافظ ابن حجر العسقلانی نے اِس روایت کو ’حسن‘ کہا ہے، اور حافظ ابن خزیمہ، وغیرہ نے اِس کو ’صحیح‘ قرار دیا ہے (المتجر الرابح، الحافظ الدمیاطی472۔ امالی الاذکار، الحافظ ابن حجر العسقلانی1/272۔ ابن خزیمۃ، بہ حوالہ: مصباح الزجاجۃ، الحافظ البوصیری 1 / 99)۔
اِس روایت میں ”حق رحمت“سے مراد وہی چیز ہے جس کواِس تحریر میں ”واسطۂ رحمت“ کہا گیا ہے۔ یہ انسانی زبان میں خدا کی رحمت کو پکارنا اور اُسے اپنی طرف متوجہ کرنے کا ایک عاجزانہ انداز ہے۔اِس طرح کی فطری اور لطیف باتوں کو خالص قانونی اور روایتی اندازمیں دیکھ کر اُسے ”وسیلہ“ جیسے ’اعتقادی‘ اور روایتی مباحث سے خلط ملط کرنا درست نہیں۔
اِس قسم کی موشگافی (hair splitting)اور رَبیائی(Rabbinic) قیل و قال اوراُس ’اِصرو اَغلال‘ (الاعراف 7 :157) سے ہمیشہ اہل ایمان کومکمل طورپراجتناب کرنا چاہیے، جو عملاً ما بعد رسالت تکییفات (conditioning) کے نتیجے میں اب ہمارے بیش تر ’مذہبی‘ افراد کا شیوہ بن چکاہے۔اِس روش کو حرام بتاتے ہوئے اللہ اور رسول نے ہمیں سختی کے ساتھ اِس سے منع فرمایاتھا:
عن أبي سعید الخدري، وأنس بن مالک، عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، قال: ’’سیکون في أمتي اختلافٌ وفرقۃٌ، قوم یُحسنون القیل، ویسیؤن الفعل … ہم شر الخلق والخلیقۃ‘‘.
(ابوداؤد، رقم 4765) ”سیدنا ابو سعید خدری اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں تفرقہ و اختلاف پیدا ہو گا۔ اُس وقت کچھ ایسے لوگ اٹھیں گے جو (بے معنی) قیل و قال میں اچھے اور عمل میں انتہائی برے ہوں گے۔ اِس قسم کے افراد تمام لوگوں اور تمام مخلوقات میں بدترین خلائق قرار پائیں گے۔“
عن المغیرۃ بن شعبۃ قال: قال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’إن اللّٰہ حرّم علیکم عقوقَ الأمہاتِ، ووأدَ البناتِ، ومنعاً وہاتِ، وکرِہ لکم قِیْلَ وَقال، وکثرۃِ السؤال، وإضاعۃِ المال‘‘.
(بخاری، رقم 2408۔ مسلم، رقم4483) ”مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے تم پر ماں باپ کی نافرمانی، لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا، حقوق کی عدم ادائیگی اور ناحق مال دبا لینے کو حرام قرار دیا ہے۔ نیز اللہ نے فضول گوئی، کثرت ِ سوال اور اضاعت ِمال کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔“