.

فہرستِ مندرجات

قرآن کا پیغام آج کے انسان کے نام

[یہ مضمون ڈاکٹر شہزاد سلیم کے ایک لیکچر سے اخذ کردہ نکات پر مشتمل ہے، جسے میں نے چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے تحریری شکل دی ہے۔ مصنف]

1۔ انسان دوستی اور عالمی بھائی چارہ
قرآن مجید دورِ جدید کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمیں انسان دوستی اپنانی چاہیے۔
سورۂ حجرات (49: 13) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اُس نے سب انسانوں کو ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا، تاکہ ہم ایک دوسرے کو پہچان سکیں۔ یہاں اللہ نے پوری انسانیت کو مخاطب کیا ہے، صرف اہل ایمان کو نہیں تاکہ ہم سب جان لیں کہ ہم آدم و حوا کی اولاد، ایک خاندان ہیں۔ اگرچہ قوموں میں بٹے ہوئے ہیں، لیکن ہمارے دل قریب ہونے چاہییں۔
گویا قرآن ہمیں عالمی بھائی چارے کا سبق دیتا ہے۔ جیسے خاندان میں اختلاف ہو بھی جائے تو اچھے لوگ کوشش کر کے اُسے سلجھا لیتے ہیں، اسی طرح دنیا میں اگر کہیں کوئی آفت یا مصیبت آ جائے تو ہمارا دل بھی ایسا ہی تڑپنا چاہیے، جیسے اپنے گھر والوں کے لیے تڑپتا ہے۔ یہ آج کے دور میں قرآن کا بڑا پیغام ہے: انسان دوستی اور خیر خواہی۔

2۔ ضمیر کی روشنی میں زندگی گزارنا
قرآن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی اپنے ضمیر کی روشنی میں گزارنی چاہیے۔
قرآن کہتا ہے کہ انسان خود اپنی ذات پر خوب گواہ ہے، چاہے کتنے ہی عذر تراش لے (القیامہ 75 :14-15)، اور یہ بھی کہ اللہ نے ہمیں نیکی اور بدی کی پہچان دے دی ہے (الشمس 91 :8)۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں صحیح اور غلط سمجھنے کے لیے کسی اور کی گواہی کی ضرورت نہیں، ہمارا اپنا ضمیر سب سے بڑا منصف ہے۔ اسی لیے زندگی میں سچائی کو معیار بنانا چاہیے، اور اس کی پروا نہیں کرنی چاہیے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ جیسے عدالت میں لوگ حلف اٹھاتے ہیں کہ ’’میں سچ کہوں گا اور سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا‘‘، ویسے ہی ہماری پوری زندگی سچائی اور ضمیر کی آواز پر ہونی چاہیے، ہمیں حق پر قائم رہنا چاہیے۔

3۔ عدل اور انصاف کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا
قرآن کہتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی انصاف (عدل) کے اصولوں پر استوار کرنی چاہیے۔ قرآن انصاف پر بہت زور دیتا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اس کی گواہی دو، چاہے یہ ہمارے اپنے خلاف ہو، یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف (النساء4: 135)۔ پھر مزید کہتا ہے کہ دشمنوں کے ساتھ بھی انصاف سے پیش آؤ، اور کسی کی دشمنی تمھیں عدل سے نہ ہٹا دے (المائدہ 5: 8)۔
جب اللہ کا کلام یہ کہتا ہے کہ دشمن سے بھی انصاف کیا جائے تو دل کو اور زیادہ یقین آتا ہے کہ یہ واقعی خدا کی کتاب ہے، جو ہر حال میں عدل سکھاتی ہے۔

4۔ قانون کی پاس داری کرنا
قرآن کہتا ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اُن لوگوں کی بھی جو تم پر اختیار رکھتے ہیں (النساء 4: 59)۔
یعنی ہمیں ریاست کے بنائے ہوئے قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔ اختلاف کرنا الگ بات ہے، مگر جب تک قانون موجود ہے، اُس کی پابندی ضروری ہے۔ اگر کوئی قانون غلط ہے تو اُسے جمہوری طریقے سے پارلیمنٹ میں بدلا جا سکتا ہے، البتہ جو قانون اللہ کے حکم کے خلاف ہو تو ظاہر ہے کہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم اس پر عمل نہیں کریں گے۔
بدقسمتی سے ہم اشارے توڑنے، غلط جگہ سے سڑک پار کرنے اور گھر بیٹھ کر لائسنس بنوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں، جب کہ ترقی یافتہ قومیں قانون کی پاس داری ہی سے آگے بڑھتی ہیں۔ قانون کا احترام کرنا، یہی مہذب معاشروں کی بنیاد ہے۔

5۔ اللہ کے بندے بننا اور زندگی کو بامقصد بنانا
قرآن کہتا ہے کہ اصل میں ہم سب اللہ کے بندے ہیں۔
اللہ فرماتا ہے کہ اُس نے جن و انس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا (الذاریات 51 :56)۔ اس بندگی کا ایک درجہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور انھیں معاشرے کی بھلائی کے لیے استعمال کریں۔ اللہ نے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خاص خوبی رکھی ہوتی ہے، ہمیں اُسے تلاش کر کے نکھارنا چاہیے اور جہاں تک ہو سکے اُسے اپنی زندگی کا مقصد بنانا چاہیے۔
ہماری زندگی ایسی بامقصد ہو کہ جب ہم اس دنیا سے رخصت ہوں تو صرف جسمانی طور پر جائیں، لوگوں کے دلوں سے نہ جائیں۔ لوگ کہیں کہ یہ وہ شخص تھا جس نے انسانیت یا دین کے لیے کچھ چھوڑا، کچھ کر کے دکھایا۔

6۔ شکر کو اپنی آزمایشوں کا علاج بنانا
قرآن ہمیں موجود آزمایشوں سے نمٹنے کا طریقہ بتاتا ہے اور وہ ہے شکر کے ذریعے سے اپنی پریشانیوں کا علاج کرنا۔
قرآن کہتا ہے کہ اگر ہم شکر کریں گے تو اپنے ہی لیے شکر کریں گے (النمل 27 :40)۔
اور مزید یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی نعمتیں اتنی ہیں کہ اگر ہم انھیں گننا چاہیں تو گن نہیں پائیں گے (ابراہیم 14: 34)۔
ذرا سوچیں، ہم کیسے سانس لے رہے ہیں، جب کہ ایسے بھی لوگ ہیں جو اچھی طرح سانس بھی نہیں لے سکتے۔ دنیا کی 30 فی صد سے زائد آبادی ایسی ہے جو خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، انھیں بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں۔
جب بھی کوئی پریشانی آئے، شکر کے ذریعے سے اس کا مقابلہ کرنا چاہیے، اور اپنے عمل سے گویا اللہ کو بتانا چاہیے:
اے اللہ، جو کچھ آپ نے ہمیں دیا ہے، وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو آپ ہم سے لے چکے ہیں۔

7۔ بے لوثی اختیار کرنا
ہمیں زندگی میں بے لوث (selfless) ہو جانا چاہیے۔ قرآن میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ مومنین کی صفات سے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں (الحشر 59 :9)۔
اپنی زندگی کا کچھ حصہ دوسروں کے لیے وقف کر دینا چاہیے۔ وہ ہمارا وقت ہو سکتا ہے، سرمایہ ہو سکتا ہے یا کوئی صلاحیت۔ ہمیں اپنی ضرورتوں کو تھوڑا محدود کرنا چاہیے اور ایسے لوگوں کو دیکھنا چاہیے جو واقعی ضرورت مند ہیں۔
یاد آتا ہے کہ اردو کے معروف افسانے ’’اوور کوٹ‘‘ میں ایک شخص ہمیشہ اچھا کوٹ اور نفیس پتلون پہنے رہتا تھا، لیکن جب وہ مر گیا تو اس کے نیچے سے پرانے اور پھٹے ہوئے کپڑے نکلے۔ یہ دنیا بھی کچھ ایسی ہی ہے — کئی لوگ بہ ظاہر خوش حال نظر آتے ہیں، مگر اندر سے فاقہ کشی میں مبتلا ہوتے ہیں۔
بے لوثی کی ایک مثال فائر فائٹرز ہیں، اگر ہم ان کی سچی کہانیاں پڑھیں تو پتا چلتا ہے کہ بعض مواقع پر یہ دوسروں کو بچانے کے لیے اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں۔ اسی طرح ماں کی مثال ہے، جو اپنی پوری زندگی اپنے بچوں کے لیے وقف کر دیتی ہے، اگر اس کے ساتھ کہیں زیادتی یا ناانصافی بھی ہو رہی ہو تو اس کے باوجود مسکراتی رہتی ہے۔
ہم اپنی زندگی میں بے لوثی اپنانے کے بعد، موت کے بعد بھی بے لوثی کا راستہ اپنا سکتے ہیں، وہ ایسے کہ ہم اپنے اعضا کسی ضرورت مند کو عطیہ کرنے کی وصیت کر جائیں۔
اپنے گھر والوں کو پہلے ہی بتا دیں کہ جب ہم اس دنیا سے رخصت ہوں تو ہمارے فلاں فلاں اعضا عطیہ کر دیے جائیں۔ سوچیں، کتنا خوب ہوگا کہ ہماری آنکھوں کے ذریعے سے کسی اور کی آنکھوں کو روشنی مل جائے اور وہ دیکھنے کے قابل ہو جائے۔ یہ ایسا نیکی کا کام ہے جو ہماری زندگی کے بعد بھی کئی زندگیوں میں اُمید اور خوشی بھر دے گا۔
آخری بات
ہم سب کی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ ہم سب سے اچھے انسان بنیں، کیونکہ جب تک ہم سب سے اچھے انسان نہیں بنتے، ہم سب سے اچھے مسلمان بھی نہیں بن سکتے۔
اس کا طریقہ یہی ہے کہ ہم مسلسل اپنا محاسبہ کرتے رہیں۔ لوگوں کے بہت سے جنون ہوتے ہیں، لیکن ہمارا سب سے بڑا جنون یہی ہونا چاہیے کہ ہم ہر دن اپنے آپ کو پہلے سے بہتر انسان بنا سکیں۔
پھر ہمیں چاہیے کہ قرآن مجید کو اپنی زندگی بنائیں، اسے سمجھ کر پڑھیں۔ جب ہمارا قرآن مجید اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوگا تو برائی کا ہم پر اثر کم ہوگا اور مجموعی طور پر ہم نیکی کے راستے پر گام زن رہیں گے۔ یہی راستہ اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

قرآن کا پیغام آج کے انسان کے نام

زیادہ پڑھے جانے والے مضامین