قرآن قطعی الدلالۃ ہے۔ چنانچہ اس کے مخاطبین جب اس کے کسی دعوے کو نہیں مانتے تو پوری شان کے ساتھ کہتا ہے کہ
﴾اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ ﴿
(تمہارے پروردگار کی طرف سے یہی حق ہے، لہٰذا تم میں سے جس کا جی چاہے ایمان لائے اور انکار پر اصرار کریں تو اسی بنا پر انھیں یہ کہہ کر مہلت کا چیلنج دے دیتا ہے کہ یہ ’العلم‘ ہے جو تمھارے پروردگار کی طرف سے آگیا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہر چیز محض کذب و افترا یا ظن و گمان ہے۔ اور حق کے مقابلے میں ظن کو کوئی حیثیت نہیں رکھتا:
اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا﴾۔﴿
اُس کی یہی حیثیت آج بھی ہے، اس لیے کہ اُس کے الفاظ جس تواتر کے ساتھ نقل ہوئے ہیں، ان کے مفاہیم بھی اُسی طرح نقل کیے گئے ہیں۔ قرآن کے علما جس چیز میں اختلاف کرتے ہیں، وہ الفاظ کے مفاہیم نہیں، بلکہ کسی خاص موقع و محل کے لیے ان مفاہیم میں سے کسی مفہوم کا
-آل عمران 3: 60
-آل عمران 3: 61-63، النجم 53: 28
انتخاب ہے۔ یہ مفاہیم کتابوں میں ثبت ہوتے ہیں، انھیں علما، فقہا، اور باخبر مفسرین نے جگہ جگہ بیان کیا ہے۔ یہ مسلمانوں کے مدرسوں، خانقاہوں اور علم و ادب کی مجالس میں پڑھے پڑھائے اور سمجھے سمجھائے گئے ہیں۔ زمانہ رسالت سے لے کر آج تک یہ سلسلہ اسی تواتر کے ساتھ جاری ہے، اس میں کبھی کوئی انقطاع نہیں ہوا۔ یہی معاملہ اُس کی زبان کے قواعد و اسالیب کا ہے۔ انھیں بھی اسی تواتر کے ساتھ نقل کیا گیا اور پڑھا پڑھایا گیا ہے۔ اس میں شاذ اگر کوئی استثنا بیان کیا جاتا ہے تو اپنی دلالت سے بہت بعید المتواتر اس کو بھی درجہ یقین میں لے آتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کے متعلق یہ بات آج بھی پوری اطمینان کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ انسان اس کے الفاظ کی رہنمائی قبول کر لے تو وہ قطعیت کے ساتھ اُسے ٹھیک اُسی مفہوم تک پہنچا دیتے ہیں جس کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔
زبان کی نقل و روایت اور لغت و معانی کے باہمی ربط سے متعلق جو مسائل لوگوں کے لیے اس باب میں مزلۂ قدم ثابت ہوئے ہیں، اُن میں سے بعض کی غلطی ہم اپنی کتاب ’’میزان‘‘ کے مقدمے میں واضح کر چکے ہیں اور بعض پر کبھی تبصرے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ سو، عرفانی نظریات حیات و کائنات کی سنگین حقیقتوں کے مقابلے میں جس طرح اُس سے پہلے قصے پاری نے ہمیں اپنی سوفسطائیت جیسی غیرفطری بات بھی غیرتصدیق شدہ بنا بتائی ہے، اُس کی تردید و تغلیط میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح بعض نے علم کلام کی یہ بات بھی ناقابل توجہ ٹھہرائی ہے کہ عام قطعی الدلالۃ نہیں ہوتا اور قرآن کی زیادہ تر آیتیں چونکہ اسی طرح کے الفاظ پر مشتمل ہیں، لہٰذا قرآن بھی قطعی الدلالۃ نہیں۔ سو، اِنّ اﷲ علم غیوب سمجھتے ہیں کہ یہ بات کتنی ظلم اور علم و دانش سے کتنی بعید ہے جس کے کہنے والے اﷲ کی وضع لغت اور وضعِ استعماعی کا فرق بھی نہیں جانتے۔
ایک اعتراض البتہ مستحق ہے کہ اُس سے تعرض کیا جائے۔ بعض علما کہتے ہیں کہ قرآن کی بعض آیات کے سمجھنے میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے، اس لیے وہ محلِ الوجوہ ہیں اور کوئی محتمل الوجوہ کلام قطعی الدلالۃ نہیں ہو سکتا۔ قطعی الدلالۃ اُسی کلام کو کہیں گے جس کی تاویل میں کوئی اختلاف نہ ہو۔
اس اعتراض میں اتنی بات بالکل صحیح ہے کہ کوئی محتمل الوجوہ کلام قطعی الدلالۃ نہیں ہو سکتا، لیکن کیا ہر وہ کلام جس کی تاویل میں اختلافات ہوں، محتمل الوجوہ ہو جاتا ہے؟ ہمارا جواب ہے کہ ہرگز نہیں۔ محتمل الوجوہ ہونا کلام کی صفت ہے، اُسی عارض نہیں ہوتی۔ آپ کسی کلام کو محتمل الوجوہ قرار دینا چاہتے ہیں تو ثابت کیجیے کہ اُس کی تاویل میں جو اختلافات بیان کیے جا رہے ہیں، وہ ہمیشہ سے قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے۔ علم و استدلال کس 1 حال میں اُس کے وجود سے اُنھیں منقطع نہ کر سکیں گے۔ ایک شخص کسی کلام کو سُنتا یا پڑھتا ہے اور اُس کے کسی لفظ، کسی محاورے یا کسی تالیف کے معنیٰ غلط سمجھ لیتا ہے۔ دوسرا لغت کے درست اور نظم کلام کے اُس ایک مفہوم کو بیان کر دیتا ہے۔ تیسرا ہر جملے کو مُنْفَرِد خیال کرتا ہے اور سیاق و سباق اور نظم کلام کی پروا کیے بغیر اُس کا ایک مدعا بیان کرتا ہے۔ کیا یہ سب وجوہ کلام میں اُن معانی کی بنا پر اُسے محتمل الوجوہ کہلائے گا؟ قرآن کی تاویل میں جتنے اختلافات ہوئے ہیں، سب کی نوعیت یہی ہے۔ چنانچہ اُس کی کوئی ایک آیت بھی ایسی نہیں ہے جس کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ اصلاً محتمل الوجوہ ہے اور سلف سے خلف تک تمام علما مختلف رہے ہیں کہ اس میں یہ ایک سے زیادہ معنی کا احتمال ماننا ضروری ہے۔ اس کے برخلاف صورت حال یہ ہے کہ جتنے اقوال کسی آیت کے بارے میں نقل ہوئے ہیں، اُن میں سے بعض اعتبار کیے گئے اور بعض چھوڑ دیے گئے ہیں۔ پھر جو چھوڑ دیے گئے ہیں، اُنھیں دوسرے اہلِ علم نے اعتبار کیا ہے اور جو اعتبار کیے گئے ہیں، اُنھیں چھوڑ دیا ہے۔ علما کس ترک و اختیار کی وجوہ بھی بیان کرتے ہیں۔ کہیں بتایا جاتا ہے کہ لغت اُس معنیٰ کی تائید نہیں کرتی جو کسی قول میں اعتبار کیے گئے تھے، کہیں تالیف کو سمجھنے کی غلطی واضح کی جاتی ہے، کہیں دروبست کو نظر انداز کرنے کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے اور کہیں سیاق و سباق اور نظم کلام سے استدلال کیا جاتا ہے۔ فقہ و کلام اور تفسیر کی کتابیں ان مباحث سے بھری پڑی ہیں۔ ابن جریر لوگوں کے اقوال نقل کرنے میں سب سے زیادہ فیاض ہیں، لیکن تفسیر کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ جگہ جگہ مختلف اقوال پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ ابن کثیر اُنھی کا خلاصہ ہے، مگر یہ خلاصہ خود اصولِ 2 ترجیح کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ زمخشری، قرطبی، آلوسی، طباطبائی، ابو الاعلیٰ مودودی، سب کی تفسیریں اس کی شہادت دیتی ہیں۔ دنیا کی دسیوں زبانوں میں قرآن کے ترجمے ہوئے ہیں۔ اُنھیں دیکھ لیجیے کسی مترجم نے قرآن کی کسی ایک آیت کو بھی محتمل الوجوہ قرار دے کر اس 3 کا ترجمہ نہیں کیا، بلکہ ہر جگہ اپنی ترجیح قائم کی ہے اور اُسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ اُس کا منتہائے کمال امام فراہی کی تفسیر اور استاذ امام امین احسن اصلاحی کی ’’تدبر قرآن‘‘ ہے، جن میں ترجیحی انداز میں تفسیر لکھی گئی ہے۔ ہر جگہ ایک ہی قول کو ترجیح دی گئی ہے۔ اُس ترجیح سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے، مگر اختلاف خود اس بات کی دلیل ہو گا کہ اختلاف کرنے والا کلام کو محتمل الوجوہ نہیں مانتا، وہ اصرار کر رہا ہے کہ جو معنیٰ مجھے سمجھے ہیں، وہ فلاں اور فلاں وجوہ سے صحیح نہیں ہیں۔
لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ تاویل کے اختلافات اور کلام کے اختلافات میں فرق نہیں کرتے۔ یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ تاویل کے اختلافات قِلّتِ علم سے بھی پیدا ہو جاتے ہیں اور قِلّتِ تدبر سے بھی۔ پھر قِلّتِ تدبر کے بھی وجوہ ہیں۔ لوگوں کی ذہنی تربیت، اُن کی خواہشات، تعصبات، تجاہل پسندی، اشتعال بالذات اور اس نوعیت کی بہت سی چیزیں اس کا باعث بن جاتی ہیں۔ اِن میں سے کوئی بات بھی نہ ہو تو قرآن جیسی مقدس کتاب کے بارے میں تمنائے احتیاط و جرح سے گریز کا باعث بن جاتی ہے کہ معنیٰ کی ترجیح میں کوئی غلطی نہ ہو جائے۔ اِس کے برخلاف کلام کے اختلافات اُس کی پیدایش کے وقت سے اُس میں ودیعت ہوتے ہیں۔ پڑھنے والے اُس اُنھیں دریافت کر لے تو کبھی کلام سے الگ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ وہ جب بیان کیے جاتے ہیں تو ہر شخص ماننے کے لیے مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ کلام کا بعینہٖ عیب ہے، اسے دور کرنا ممکن نہیں۔
قرآن مجید اس عیب سے بالکل مبرا ہے۔ اس طرح کی کوئی چیز اس کے بارے میں ثابت نہیں کی جا سکتی۔ وَالْعِلْمُ، الْحَقُّ ہے، میزان اور فرقان ہے، عربی مبین میں نازل ہوا ہے،
لِّیُنْذِرَ بِهِ مَنْ اٰمَنَ بِهِ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ
۔ اُس کا دعویٰ ہے کہ خدا کی اُسی کتاب میں تضادات اور اختلافات نہیں ہوتے،
وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلٰفًا كَثِيْرًا۔
[2010]
النساء 4:82 ۔ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں وہ بہت کچھ اختلاف پاتے۔