Have We Ever Reflected?

Have we ever thought that a hundred years from now, we will have no existence in this world? This world, […]

خیال و خامه

اے کاش کبھی سنتے معنی کی خبر لائی الفاظ کے پیچوں سے انساں کی شناسائی کیا رنگ دکھائے گی خرمن […]

تاریخ کے ملبے پر کھڑی امت

(گم شده عظمت، خاموش حال، تاریک مستقبل) تباہی کی راکھ سے اٹھنے والی دنیا نے دوسری عالمی جنگ کے بعد […]

قطعی الدلالۃ

 (تمہارے پروردگار کی طرف سے یہی حق ہے، لہٰذا تم میں سے جس کا جی چاہے ایمان لائے اور انکار پر اصرار کریں تو اسی بنا پر انھیں یہ کہہ کر مہلت کا چیلنج دے دیتا ہے کہ یہ ’العلم‘ ہے جو تمھارے پروردگار کی طرف سے آگیا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہر چیز محض کذب و افترا یا ظن و گمان ہے۔ اور حق کے مقابلے میں ظن کو کوئی حیثیت نہیں رکھتا: 

معارف نبوی

-1- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جس بیماری سے […]

قرآنیات

ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اللہ کا طریقہ یہی ہے۔ اس لیے یہ نہیں مانتے تو انھیں چھوڑو اور تم اچھی طرح سمجھ لو کہ) اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرنے والوں کے اس عمل کی مثال اُس دانے کی ہے جس سے سات بالیں نکلیں، اس طرح کہ ہر بال میں سو دانے ہوں۔ اللہ (اپنی حکمت کے مطابق ) جس کے لیے چاہتا ہے ، اسی طرح بڑھا دیتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑی وسعت والا ہے ، وہ ہر چیز سے واقف ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، پھر جو کچھ خرچ کیا ہے، اُس کے پیچھے …