قادیانی اور غامدی موقف

مزید پوسٹس

شئیر کریں

Subscribe to Newsletter

قادیانی اور غامدی موقف

مراد علی

قومی اسمبلی کی قادیانی ڈیبیٹ میں سب سے پہلی طویل بحث قادیانیوں کے اس موقف پر ہوئی کہ ریاست یا کوئی فرد کسی کو غیر مسلم قرار نہیں دے سکتا۔
غامدی صاحب کا موقف بھی یہی ہے، فرق یہ ہے کہ قادیانی اتمامِ حجت وغیرہ کے بجائے اسے ایک انسانی حق سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی خود کو مسلمان کہتا ہو تو کسی کو حق نہیں کہ اسے غیر مسلم قرار دے۔
یحیی بختیار سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر کوئی نماز، زکوٰۃ اور حج وغیرہ جیسے ارکان اسلام کی فرضیت کا انکار کردے تو اسے غیر مسلم قرار دیا جاسکتا ہے؟
مرزا ناصر اس سوال کا واضح جواب دینے کے بجائے بات کو گھماتے ہیں، اس گھماؤ پھراؤ پر درجنوں صفحات کی بحث ہے۔
مرزا ناصر مذہبی پیشوا کے طور پر گھمانے کا ہنر جانتا ہے اور بات میں ٹوسٹ پیدا کرنا بھی۔
لیکن ایک اچھے قانون دان کے سامنے ہیر پھیر کب زیادہ دیر چل سکتا ہے!
یحیی بختیار ایسے سوالات فریم کرتے ہیں کہ اس سے فرار کا کوئی راستہ ممکن نہیں ہوتا، اس عمل میں وقت اگرچہ زیادہ صرف ہوا، لیکن یحیی بخیتار بالآخر کامیاب ہو ہی جاتے ہیں (وہ قومی اسمبلی کے ارکان اور بالخصوص علما کو بار بار یہی کہتے ہیں کہ جلد بازی سے کام نہ لیں)۔
فقہ اور قانون کے سامنے حرفیت پسندی ہمیشہ ماند پڑ گئی ہے۔ غامدی صاحب بھی بنیادی طور پر حرفیت پسند ہیں اور انھیں کبھی اس قسم کے سوالات کا براہ راست سامنا نہیں ہوا ورنہ ایک اچھا قانون دان بہت کم وقت میں انھیں ان کے مخالف فکری نتائج تک پہنچا سکتا ہے۔

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

🚫

Room Not Available

This room is already booked for the selected dates.