تکفیر کے باب میں غامدی موقف میں تضاد

مزید پوسٹس

شئیر کریں

Subscribe to Newsletter

تکفیر کے باب میں غامدی موقف میں تضاد

ڈاکٹر زاہد مغل

تکفیر کے باب میں غامدی صاحب نے جو موقف اپنایا ہے، اسے اگر اصولی زبان میں ڈھال لیں تو وہ یہ بنتا ہے:
الف) ضروریات دین و اسلام متعین و قطعی طور پر معلوم ہیں۔ غامدی صاحب کو یہ مقدمہ قبول ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ کسی شخص کے اس اقرار کو ہم جھٹلا نہیں سکتے کہ وہ ان کی تصدیق کرنے والا ہے۔ اب دو کیسز لیجئے:
ب) مائیکل زبان سے ضروریات دین کا انکار کررہا ہے (یعنی وہ ان کی تصدیق کا مدعی نہیں اور یہ نہیں کہہ رہا کہ اس کا مقدمہ اسلام ہے۔ مثلاً وہ اپنے منہ سے کہہ رہا ہے کہ میں وجود باری کو نہیں مانتا وغیرہ اور کہتا ہے کہ میں مسلمان نہیں ملحد ہوں وغیرہ)۔ غامدی صاحب کے موقف میں یہ کیس آسان ہے کہ وہ اسے غیر مسلم کہیں گے، لیکن یہ کیس متعلق نہیں۔
ج) اس کے برعکس اویس ضروریات دین کا زبان سے اقرار یعنی ان کی تصدیق کررہا ہے لیکن ساتھ ہی (مثلاً تاویل وغیرہ کی بنا پر) کوئی منافی تصدیق عقیدہ بھی رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا کیس ہے جہاں اس شخص کی تصدیق کو جھٹلانا (یا منافی تصدیق کہنا) ممکن ہو؟ یعنی تحقیق مناط کے ذریعے یہ طے کرنا ممکن ہے کہ اویس کی یہ تصدیق جھوٹی ہے؟
• اگر وہ کہیں کہ بعض کیسز میں یہ ممکن ہے تو مطلب یہ ہوا کہ تاویل کی بہرحال کچھ حدود ہیں جس کے بعد کسی کی تصدیق کو جھٹلانا ممکن ہے اور جہاں کسی شخص کے دعوی اسلام کو رد کردیا جائے گا۔
• اور اگر وہ کہیں کہ ایسا کسی کیس میں ممکن نہیں تو مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مثلاً خدا متعدد ہیں اور یہی میری تحقیق میں اسلام ہے تو یہ شخص بھی ان کے نزدیک دنیاوی احکام میں مسلمان ہے اس لئے کہ کسی کے ایسے اقرار کو جھٹلانا محال ہے۔
پہلی صورت میں یہ تکفیر کے باب میں ان کے موقف کے خلاف ہے کیونکہ اسی کو تکفیر کا امکان قبول کرنا کہتے ہیں، یعنی کسی شخص کو اپنی تصدیق میں جھوٹا کہنا (اگر غامدی صاحب اور ان کے احباب کو لفظ تکفیر سے چڑ ہو تو اس سے نفس معاملہ بدل نہیں جاتا)۔ دوسری صورت سوفسطائیت (skepticism) ہے جس کے بعد ضروریات دین و اسلام متعین و قطعی طور پر معلوم ہونے کا مقدمہ جاتا رہتا ہے، یعنی اگر تصدیق کو جھٹلانے کا کوئی معیار نہ ہو تو ضروریات دین کا قطعی ہونا بھی بے معنی ہو جاتا ہے، یہ صورت دراصل معانی کے انہدام (semantic collapse) کو لازم ہے۔ اگر ضروریات دین متعین اور قطعی طور پر معلوم ہیں تو کسی معین شخص کی جانب سے ان کی نفی کی ایسی صورتیں بھی لازماً متعین ہوں گی جن میں کسی کے اقرار کو معتبر نہ مانا جا سکے۔ لیکن یہ تسلیم کرنا تکفیر کے امکان کو ماننا ہے، خواہ اس کو کسی اور نام سے تعبیر کیا جائے۔
خلاصہ یہ کہ یہ ایک تضاد ہے کہ ضروریات دین و اسلام تو متعین و قطعی طور پر معلوم ہیں لیکن کسی معین شخص نے ان کی تکذیب کردی ہے یہ معلوم ہونے کا کوئی علمی طریقہ نہیں (سوائے اس سے کہ وہ خود یہ کہہ دے کہ میں فلاں چیز کی تصدیق نہیں کررہا، لیکن یہ کیس زیر بحث نہیں)۔ یہ موقف دراصل ضروریات دین ہی کو ظنی کہنے کے مترادف ہے۔ پس یا ضروریات اسلام قطعی طور پر متعین و معلوم ہیں اور یا ان کے اقرار کے دعوے کی تکذیب کی کوئی صورت متعین نہیں، لیکن یہ دونوں باتیں ایک ساتھ درست نہیں ہوسکتیں (you cannot have your lunch and eat it too)۔ اس موقف میں مزید خبط اس پہلو سے بھی موجود ہے کہ غامدی صاحب کے مطابق قرآن قطعی الدلالت ہے اور وہ جو کہنا چاہتا ہے اس کے الفاظ پوری طرح کہہ دیتے ہیں! اس کے بعد یہ کہنے کا کیا مطلب رہا کہ کسی معین شخص پر قرآن کی کسی بات کو قطعی طور پر جھٹلانے کا حکم لگانا درست نہیں؟
اگر ان کی طرف سے یہ کہا جائے کہ بعض کیسز میں کسی کو اپنے اس دعوے میں جھوٹا قرار دینے کا علم تو انہیں ہوجاتا ہے لیکن یہ علم اسے مسلمانوں کے ان حقوق سے محروم نہیں قرار دیتا جو تصدیق میں سچا ہونے والوں کو حاصل ہوتے ہیں، تو ایسی بات کا تضاد بالکل واضح ہے: یہ سچ و جھوٹ کے احکام کو جمع کرنا ہے۔

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

🚫

Room Not Available

This room is already booked for the selected dates.