ڈاکٹر زاہد مغل
مستشرقین کے کام کے نتیجے میں انیسویں اور بیسویں صدی میں سنت کی حجیت پر بالعموم تین قسم کے رویے پیدا ہوئے:
1) ایک گروہ کا رویہ یہ تھا کہ دین چونکہ صرف قطعی امور کا نام ہوسکتا ہے، اس لئے روایات سے ملنے والے امور دین نہیں کہ یہ سب ظنی ہیں۔ اس گروہ میں سے کسی نے سنت کی تاریخی سند پر اعتراض کیا، کسی نے درایت کا نام اختیار کیا تو کسی نے دیگر باتیں بنائیں۔ اس گروہ کو اہل قرآن یا قرآنسٹ وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اس گروہ کے بعض لوگوں کی تکفیر ہوئی اس لئے کہ انہوں نے سنت سے ثابت تمام امور، بشمول پنجگانہ نماز، کو ناقابل اعتبار قرار دیا۔ اخبار متواترہ چونکہ علم یعنی قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں لیکن یہ گروہ اس سے ثابت خاص معنی کا انکار کرتا یا ان کے منافی تاویل کرتا تھا، لہذا یہ مشکلات کا شکار رہا۔
2) دوسرے گروہ کا موقف بھی یہ ہے کہ دین اصلاً صرف قطعی امور کا نام ہوسکتا ہے، تاہم پہلے کے برخلاف یہ گروہ اخبار متواترۃ کی علمی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ انہوں نے سنت و حدیث کا فرق یوں کیا کہ سنت متواتر اعمال کا نام ہے جو قرآن کی طرح پہنچی ہے جبکہ اخبار احاد سنت نہیں۔ ان اخبار کو اس گروہ کے مختلف افراد نے مختلف طرز پر اصل دین (قرآن و سنت) کی ایسی تشریح باور کرانے کی کوشش کی جس کے بغیر بھی دین کا فہم مکمل رہے۔ انہیں بھی اصلاً وہی شبہ لاحق تھا جو پہلے گروہ کو لاحق تھا کہ اگر احکام دینیہ میں ظن کا عمل دخل ہو تو یہ بڑی خرابی کی بات ہے۔ مولانا فراہی، مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا امین احسن اصلاحی وغیرہ اور غامدی صاحب اس گروہ کی نمائندگی کرتے ہیں (اگرچہ ان کے مناہج کی بعض داخلی خصوصیات بھی ہوں)۔
3) تیسرا گروہ روایتی علما کا ہے جو سنت کا دفاع پیچھے سے چلی آنے والی کسی فقہی روایت وغیرہ کی طرز پر کرتا ہے۔
دوسرا اور تیسرا گروہ اگرچہ پہلے گروہ کا جواب دے رہا تھا، تاہم یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ دوسرے گروہ کی بحث روایتی موقف کا تسلسل نہیں بلکہ اس کی تشکیل کی بنیادیں مابعد استشراق مباحث میں ہیں، اگرچہ پرانے علوم سے شناسائی کی بنا پر یہ بعض پرانے مباحث و عبارات کو حوالہ بنانے کی بھی کوشش کرتا ہے۔



