مقرر : مفتی یاسر ندیم الواجدی
تلخیص : زید حسن
غامدی ازم کو ہم الحاد اور لبرل ازم کا پیش خیمہ سمجھتے ہیں جسکی وجہ سے موضوعِ بحث بناتے ہیں ورنہ فرقہ وارانہ مباحث ہمارا موضوع نہیں ہیں ۔
غامدیت بھی اگرچہ ایک فرقہ ہی ہے کیونکہ انکے اصول بالکل الگ اور مختلف ہیں ۔
اس نشست میں پیشِ نظر غامدی صاحب کے تصور ” اتمامِ حجت ” کا بیان ہے جس کی تفریعات میں سے ایک کسی کی تکفیر کرنا ہے ۔
غامدی صاحب کے بقول قادیانیوں کی یا کسی بھی شخص کی تکفیر اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ خود کفر کا اقرار نہ کر لے یا اس پر اتمامِ حجت نہ ہو جائے جو کہ رسول کے بعد ممکن نہیں حالانکہ
۔ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو کسری کا حضور ﷺ کا خط پھاڑ دینا اسکی طرف سے پوری قوم کی نمائندگی تصور کرتے ہوئے صحابہ نے آپ ﷺ کے بعد اس قوم سے جنگ لڑی ۔ یہ تو ممکن نہیں کہ حضورﷺ کا پیغام فارس کے تمام افراد تک کا حقہ پہنچا ہو ۔
۔ یہ تصور عقلا بھی درست نہیں ہے ۔ کیا کوئی زانی یا چور اس وقت تک چور یا زانی نہیں کہلائے گا جب تک کہ وہ از خود چوری یا زنا کا اقرار نہ کرے ؟
۔ سورۃ ممتحنہ کی ابتدائی آیات جن میں پوری امت سے خطاب ہے یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ تکفیر کے لئے رسول ﷺ کا موجود ہونا یا انکا کسی کی تکفیر کرنا ضروری نہیں ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویڈیو درج ذیل لنک سے ملاحظہ فرمائیں



