ناقد : کاشف علی
تلخیص : زید حسن
غامدی صاحب سے جزئیات پر بات نہیں ہو سکتی ۔ دین کی دو تعبیرات ہیں ۔ ایک تعبیر کے مطابق اسلام سیاسی سسٹم دیتا ہے ۔ لیکن غامدی صاحب دوسری تعبیر کے نمائندہ ہیں کہ اسلام کوئی سسٹم نہیں دیتا ۔ دونوں تعبیرات کے مطابق نیچے کی جزئیات مختلف ہو جاتی ہیں ۔ جہاں سسٹم مانا جاتا ہے وہاں سود بھی حرام ہو گا ، پردہ بھی لازم ہو گا ۔ لیکن اگر سسٹم کا انکار کر دیا جائے تو پھر ڈیموکریٹک سسٹم ہے ۔ جس کی جو مرضی ہو وہ کرتا چلا جائے ۔
دیکھا جائے تو سسٹم ہر ادارے کے لئے ضروری ہے ۔ غامدی صاحب نے اپنا ادارہ بنایا ہے تو کیا اسکا کوئی سسٹم نہیں ؟
جہاں تک اتمامِ حجت اور سنت کے متعلق انکے نظریات ہیں ۔ وہ خود ساختہ ہیں ۔
ان نظریات کی بابت انکے اپنے تصورات میں تیقن نہیں ۔ اسلئے انکے ہاں ان نظریات کی بابت تصور بدلتا رہتا ہے ۔ ضیاء اور نواز شریف کے دور میں غامدی صاحب اسلامی نظام کے قائل تھے جسکا اظہار انہوں نے اشراق میں کیا ہے ۔ اور مشرف کے دور میں اپنے پہلے موقف کی خود ہی تردید کر دی ۔ اور سنت کی تو کسی تعداد پر انہیں یقین ہی نہیں ہے ۔
اس قدر بے یقین فرد سے دین کو لینا صرف خطرہ ہی ہے ۔
ویڈیو دیکھنے کے لئے لنک کو کلک کریں ۔



