غامدی منہج کی خرابی

مزید پوسٹس

شئیر کریں

Subscribe to Newsletter

غامدی منہج کی خرابی

محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے قرآن مجید کے بجائے قرآن مجید کی تعلیمات کا نچوڑ پیش کرنا چاہا تو “میزان” لکھی۔ اس تصنیف میں کوشش کی ھے کہ قرآن مجید کی صرف ضروری اور متعلقہ تعلیمات پیش کی جائے اور حشو و زوائد سے اعراض کیا جائے۔ جہاں ضرورت محسوس کی وہاں بتا دیا ہے کہ ان ان احکام کا مسلمان مخاطب نہیں ہے۔
“دین” منزل من اللہ اخبار،احکام اور اعمال پر مشتمل ہے۔”میزان” کی خاص بات یہ ھے کہ قران پاک کے منزل اخبار سے خاص سروکار نہیں رکھا گیا۔ کتاب چند احکام اور ان کی ذیلی تفصیلات جو مجتہد ہیں، بیان کرنے تک محدود ھے اور “منزل اخبار” کے متعلق اس میں یہ موقف اختیار کیا گیا ھے کہ وہ انبیاء کی سرگذشت انذار ھے۔ “سرگذشت انذار” درحقیقت وہی بیانیہ ہے جسے قرآن مجید نے “اساطیر الاولین” کہا گیا ھے۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید کا ابلاغ فرض تھا، امتی پر بھی اسی طرح فرض ھے۔ علماء اور عوام نے جب سے اپنے نبی کی اطاعت ترک کی ھے، ابلاغ نبوت کی اپنی راہ خود بنائی ھے اور قرآن مجید کے کُلی ابلاغ کے بجائے حسب ذوق تعلیمات کا انتزاع کیا اور اس کا ابلاغ خود پر لازم ٹھہرا لیا ھے۔ نتیجہ ظاہر ہے، امت فرقوں میں بٹ گئی اور ہر فرقے کے لوگ اپنی اپنی “میزان” لیۓ پھر رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ غامدی صاحب بھی اسی کلب کے ایک ممبر ہیں۔

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

🚫

Room Not Available

This room is already booked for the selected dates.