محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے قرآن مجید کے بجائے قرآن مجید کی تعلیمات کا نچوڑ پیش کرنا چاہا تو “میزان” لکھی۔ اس تصنیف میں کوشش کی ھے کہ قرآن مجید کی صرف ضروری اور متعلقہ تعلیمات پیش کی جائے اور حشو و زوائد سے اعراض کیا جائے۔ جہاں ضرورت محسوس کی وہاں بتا دیا ہے کہ ان ان احکام کا مسلمان مخاطب نہیں ہے۔
“دین” منزل من اللہ اخبار،احکام اور اعمال پر مشتمل ہے۔”میزان” کی خاص بات یہ ھے کہ قران پاک کے منزل اخبار سے خاص سروکار نہیں رکھا گیا۔ کتاب چند احکام اور ان کی ذیلی تفصیلات جو مجتہد ہیں، بیان کرنے تک محدود ھے اور “منزل اخبار” کے متعلق اس میں یہ موقف اختیار کیا گیا ھے کہ وہ انبیاء کی سرگذشت انذار ھے۔ “سرگذشت انذار” درحقیقت وہی بیانیہ ہے جسے قرآن مجید نے “اساطیر الاولین” کہا گیا ھے۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید کا ابلاغ فرض تھا، امتی پر بھی اسی طرح فرض ھے۔ علماء اور عوام نے جب سے اپنے نبی کی اطاعت ترک کی ھے، ابلاغ نبوت کی اپنی راہ خود بنائی ھے اور قرآن مجید کے کُلی ابلاغ کے بجائے حسب ذوق تعلیمات کا انتزاع کیا اور اس کا ابلاغ خود پر لازم ٹھہرا لیا ھے۔ نتیجہ ظاہر ہے، امت فرقوں میں بٹ گئی اور ہر فرقے کے لوگ اپنی اپنی “میزان” لیۓ پھر رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ غامدی صاحب بھی اسی کلب کے ایک ممبر ہیں۔

غامدی منہج کی خرابی
محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے قرآن مجید کے بجائے قرآن مجید کی تعلیمات کا نچوڑ پیش کرنا چاہا تو


