قادیانی کے پیچھے نماز کا مسئلہ: دو اہم پہلو

مزید پوسٹس

شئیر کریں

Subscribe to Newsletter

قادیانی کے پیچھے نماز کا مسئلہ: دو اہم پہلو

1 : سائل نے غامدی صاحب سے صرف قادیانی کے پیچھے نماز کا حکم نہیں پوچھا تھا بلکہ کراچی کے ایک صاحب تھے ان سے متعلق بھی یہی سوال پوچھا ہے، ان کراچی والے صاحب کا کہنا تھا کہ حضرت موسی، حضرت عیسی و حضرت محمد علیہم السلام وغیرہ معین تاریخی انسانی شخصیات نہیں تھیں بلکہ یہ مجرد قسم کے تمثیلی کرادر تھے اور وہ شخص اس اعتقاد کو بھی اسلام کہتا تھا۔ غامدی صاحب نے جواب دیتے ہوئے انبیا پر ایمان کے باب میں اسے بھی تاویل کے کھاتے میں اکاموڈیٹ کرلیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس قسم کی سب باتوں کے کسی معین شخص کے دعوی اسلام کے منافی نہ ہونے کے باوجود ان کے نزدیک ضروریات اسلام متعین و قطعی طور پر معلوم کیسے ہیں! ایک طرف قرآن ایسا قطعی ہے کہ اس کے الفاظ متکلم کے ہاں مراد معنی کے شہرستان تک پہنچنا پوری طرح واضح کردیتے ہیں اور دوسری طرف اس کے معنی میں ایسا غموض کہ محض کسی شخص کی جانب سے الفاظ کی صورت زبانی اقرار ہر حال میں معنی کی نفی پر حاوی رہتا ہے اور ہمیں یہ علم نہیں ہوسکتا کہ اس کی جانب سے معنی کا یہ اقرار سچ ہے یا جھوٹ! دلائل لفظیہ کی دلالت پر اس سے بڑھ کر سوفسطائیت کیا ہوگی؟

2 : غامدی صاحب نے کسی قادیانی کو امام بنانے کے سوال پر کہا ہے کہ اگر کسی نے نماز میں بدعت شامل نہیں کردی تو اس کے پیچھے نماز پڑھ لینا چاھئے ورنہ نہیں۔ ہم نہیں سمجھ پائے کہ اس مسئلے میں آخر بدعت شامل نہ کرنے کی شرط انہوں نے اپنے یہاں کس اصول پر لگائی ہے؟ مثلاً اگر کوئی شخص کہے کہ نماز مشرق کی سمت منہ کرکے ادا کی جاتی ہے (اور تاویل کے لئے مثلاً آیت وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ پڑھے) تو اسے امام کیوں نہیں بنایا جاسکتا؟ اگر وہ کہیں کہ اس نے نماز کی متفق علیہ شرط کا انکار کردیا ہے تو جو شخص نبی علیہ السلام کے بعد کسی کو نبی کہہ کر اسے نبی نہ ماننے والوں کی تکفیر کررہا ہے، کیا اس نے متفق علیہ بات کا انکار نہیں کردیا؟ کیا نماز کی امامت کے لئے ایمان والا ہونا شرط نہیں، تو کیا اس شخص کی یہ رائے بدعت نہیں (یعنی وہ یہ کہتا ہے کہ نماز عند اللہ اس کی قبول ہے جو یہ خاص عقیدہ رکھے)؟ جب انہیں یہ توجہ دلائی جائے کہ یہ لوگ تو یہی موقف رکھتے ہیں، تو اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی ہم غلطی واضح کریں گے لیکن ان سے نماز الگ نہیں کریں گے۔ لیکن اسی اصول ہر آپ نماز میں بدعت شامل کرنے والے کو کیوں ٹریٹ نہیں کررہے کہ اسکی غلطی تو واضح کریں تاہم اس کے پیچھے نماز جاری رکھیں؟ پھر یہ کیسا موقف ہے کہ نماز میں بدعت تو امام بنانے میں مانع ہے لیکن کفر نہیں ہے؟

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

🚫

Room Not Available

This room is already booked for the selected dates.