ڈاکٹر زاہد مغل
جب کہتے ہیں کہ ضروریات دین متعین امور کا نام ہے تو اس سے مجمل قسم کے امور جیسے توحید، رسالت وغیرہ مراد نہیں ہوتے بلکہ ان مجمل عنوانات کے تحت چند بالکل معین تصورات و معنی ہوتے ہیں۔ اگر کوئی ان معین معنی کی نفی کرنے والے معنی پر وہ مجمل لیبلز لگا دے، تو وہ ان معین معنی کی تصدیق کرنے والا نہیں کہلانے لگے گا بلکہ اسے جھوٹا کہا جاتا ہے اور یہی علم کا تقاضا ہے۔ اسی طرح یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ اس شخص کی اس نفی کو برقرار رکھتے ہوئے کسی طرح تاویل کرکے اسے اثبات بھی بنا دو۔ تاویل سچ و جھوٹ اور اثبات و نفی جمع کرنے کا نام نہیں ہے۔ یار لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ اگر کسی نے مجمل لیبل اختیار کرلیا ہے (کہ میں توحید کو مانتا ہوں، انبیا کو مانتا ہوں، ختم نبوت کو مانتا ہوں وغیرہ)، تو یہ خود بخود ان معین معنی کی تصدیق کے ہم معنی ہے جن کی تصدیق اصلاً مطلوب ہے، نیز اگرچہ وہ ان لیبلز کے نام پر ان معین معنی کی تکذیب ہی کیوں نہ کررہا ہو وہ مجمل لیبلز اسے مسلمان کہلانے کے لئے کفایت کریں گے۔
نبی علیہ السلام پر ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کے بعد ایسا کوئی نہیں جو اللہ کے حکم کا مکلف بنائے والا ہو (یعنی جس کی اتباع واجب نہ ماننے سے عند اللہ ابدی عقاب کا حکم ثابت ہو)۔ اس قضئے کو آپ قضیہ “الف ب ہے” (A) کہیں۔ اس کے مقابلے میں جب کوئی کہتا ہے کہ آپ علیہ السلام کے بعد ایک ایسا شخص ہے جو لوگوں کو اس طرح مکلف بنانے والا ہے، تو یہ قضیہ “الف ب ہے” کی نفی (Not-A) ہے۔ ایسی کوئی تاویل نہیں ہے جو بیک وقت ان دونوں (یعنی A اور Not-A) کو جمع کردے، الا یہ کہ کوئی جمع بین النقیضین کے پاگل پن کا قائل ہو۔ ایسا شخص پورے اسلام کو ڈھا دے گا۔ تاویل بظاہر دو متضاد جملوں میں سے کم از کم کسی ایک جملے کو اس کے ظاہری معنی سے ھٹا کر اس طرح پڑھنا ہے کہ بغیر تضاد دونوں باتیں بیک وقت اثبات سے متصف ہوجائیں (یعنی A اور Not-A کی نسبت ختم ہوجائے)۔ چنانچہ اس مثال میں تاویل کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ دوسری بات کہنے والا اپنے قول کو ایسا معنی پہنانے پر راضی ہوجائے جس کے بعد اس سے یہ معنی ختم ہوجائے کہ نبی علیہ السلام کے بعد کوئی خدا کے حکم کا مکلف بنانے والا ہے تاکہ یہ پہلے جملے کی تصدیق سے نہ ٹکرائے۔ پھر تاویل کا فائدہ اسے ملتا ہے جو خود اپنے قول و فعل سے اس کا تقاضا کررہا ہو۔ لیکن اگر ایک شخص جج کے سامنے کھڑا ہوکر خود اقبال جرم کررہا ہو اور جج کسی وکیل کو کہہ رہا ہو کہ تم اس کی بے گناہی کا کوئی ثبوت لے آؤ تو یہ غیر علمی و غیر سنجیدہ گفتگو ہے۔ چنانچہ جسے آپ تاویل کا فائدہ دلوانا چاہتے ہیں، خود اس سے تو پوچھ لیجئے کہ وہ مرزا صاحب کو مکلف بنانے والے موقف میں تاویل کے ذریعے اس کے اثبات کو نفی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں؟ ورنہ یہ مدعی سست گواہ چست کا معاملہ ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کو تاویل و نفی کا فرق معلوم نہیں۔ یار لوگوں کا تقاضا یہ ہے کہ اس دوسرے شخص کے موقف کو اس کی فیس ویلیو پر رکھتے ہوئے تم اس کی کوئی تاویل کرلو (وہ بھی تب کہ جب وہ خود اس تاویل کی نفی کررہا ہو)! جناب علمی زبان میں اسے تاویل نہیں جمع بین النقیضین کا مطالبہ کہتے ہیں، یہ سچ و جھوٹ اور تصدیق (affirmation) و نفی (negation) کو جمع کرنے کا تقاضا ہے، یہ پاگل بننے کا تقاضا ہے۔
اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ آپ لوگ ضروریات دین کے باب میں سوفسطائیت پھیلا رہے ہیں کیونکہ آپ سچ و جھوٹ کے علم کا فرق ختم کررہے ہیں نیز آپ کے مطابق ایک شخص نے اگر مجمل لیبل اختیار کرلیا ہے تو اس کے بعد آپ کے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں رہتا کہ یہ معین معنی کی تصدیق کررہا ہے یا تکذیب۔ یاد رکھنا چاہئے کہ دین میں اصلاً مجمل نہیں، معین تصورات کی تصدیق مقصود ہے، ورنہ توحید کے مجمل اقرار کے نام پر دسیوں باتیں بنائی جاسکتی ہیں۔ ان میں سے جو توحید کے اس خاص معنی (A) کی نفی (Not-A) ہوں انہیں صرف اس لئے توحید نہیں مانا جاسکتا کہ کسی نے اس پر توحید کا لیبل لگا دیا ہے۔



