جزیرہ نما عرب میں غیر مسلمین کی رہائش: غامدی صاحب کے موقف پر سوال

مزید پوسٹس

شئیر کریں

Subscribe to Newsletter

جزیرہ نما عرب میں غیر مسلمین کی رہائش: غامدی صاحب کے موقف پر سوال

ڈاکٹر زاہد مغل

کتاب مقامات کے مضمون “خدا کے فیصلے” میں غامدی صاحب اتمام حجت کے اپنے قانون کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ “رسولوں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اگر اُن کو اور اُن کے ساتھیوں کو کسی خطۂ ارض میں اقتدار حاصل ہو جائے تو”، پھر ان مخاطبین کی بابت خدا کے کچھ فیصلے ہیں:
“اِس فیصلے کی ایک فرع یہ ہے کہ فلسطین اوراُس کے گردو نواح میں کنعان کا علاقہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے اور جزیرہ نماے عرب کا علاقہ بنی اسمٰعیل کے لیے خاص کر دیا ہے تاکہ دنیا کی سب قومیں اُن کے ساتھ اُس کی معیت کا مشاہدہ کریں اورہدایت پائیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل کو اِسی بنا پر حکم دیا گیا کہ اپنی میراث کے اِس علاقے کو اُس کے باشندو ں سے خالی کرالیں، اُس میں کسی کافرو مشرک کو زندہ نہ چھوڑیں اور نہ اُس کی سرحدوں سے متصل کسی علاقے میں کافروں اور مشرکوں کی کوئی حکومت قائم رہنے دیں، الاّ یہ کہ وہ اُن کے باج گزار بن جائیں”
جزیرہ نما عرب کے علاقوں کو ان لوگوں سے خالی کرانے کے حکم کی علت نبی علیہ السلام کے مخاطبین کا کفر و شرک ہے جن پر اتمام حجت ہوچکا تھا اور صحابہ نے بھی اسی قانون کے تحت یہ اقدام کئے۔ اس کے لئے جن آیات سے وہ استدلال کرتے ہیں ان کا تعلق بھی ان کے قانون اتمام حجت نیز ان مشرکین سے ہے، نیز وہ لکھتے ہیں:
“فتح مکہ کے بعد جزیرہ نماے عرب میں مشرکین کے تمام معابد اِسی کے تحت ختم کیے گئے۔’لایجتمع دینان في جزیرۃ العرب کی ہدایت بھی اِسی کے تحت ہے۔ چنانچہ سرزمین عرب میں اِسی بنا پر نہ غیر اللہ کی عبادت کے لیے کوئی معبد تعمیر کیا جاسکتا ہے اور نہ کسی کافر و مشرک کو رہنے بسنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔”
یعنی یہ حدیث بھی اسی قانون کے تحت انہی کفار و مشرکین سے متعلق ہے جن کا اتمام حجت کے ضمن میں اصلاً ذکر ہورہا ہے۔
غامدی صاحب اس کے ساتھ یہ بھی مانتے ہیں کہ یہ ممانعت آج کے غیر مسلمین جیسے کہ ہندو و وعیسائی وغیرہ پر بھی لاگو ہے۔ تاہم ان کے موقف کی رو سے آج کے غیر مسلمین کفار و مشرکین نہیں۔ چنانچہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو حکم اتمام حجت کے تحت مشرکین سے متعلق تھا، غیر مسلمین پر اس کے پھیلاؤ کی ان کے ہاں دلیل کیا ہے؟
اگر وہ کہیں یہ پھیلاؤ کسی حدیث سے ہوگیا، تو قرآنی حکم کے دائرہ کار سے باہر حدیث سے اس قسم کا اضافہ ان کے موقف میں جائز نہیں (درج بالا حدیث تو ان کے الفاظ کے مطابق کفار و مشرکین سے متعلق ہے)۔ اگر وہ کہیں کہ یہ پھیلاؤ قیاس کے اصول پر کیا گیا ہے تو اس قیاس کے لئے قرآنی اصل کہاں ہے، ان کے نزدیک حکم کا مدار مشرک و کافر ہونا ہے جبکہ آج ان کا اطلاق کسی پر درست نہیں۔ نیز دیگر بہت سارے معاملات جیسے مرتد کے قتل یا کافر کی میراث وغیرہ میں یہ قیاس کیوں نہیں کیا گیا اور انہیں کس دلیل سے صرف مشرکین و کفار تک محدود رکھا گیا؟ کہیں تعمیم اور کہیں تخصیص کس اصول پر کی گئی؟

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

🚫

Room Not Available

This room is already booked for the selected dates.