سنت سے متعلق غامدی صاحب کے موقف پر سوال ؟

مزید پوسٹس

شئیر کریں

Subscribe to Newsletter

سنت سے متعلق غامدی صاحب کے موقف پر سوال ؟

اہل علم جانتے ہیں کہ “سنت ہونا” از خود کسی فعل کا حکم شرعی نہیں، بلکہ حکم شرعی فرضیت، وجوب، ندب، اباحت، کراہت و حرمت ہیں۔ غامدی صاحب کے تصور سنت پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سنت سے ثابت فعل کا حکم شرعی یہ کیسے متعین کرتے ہیں کہ آیا وہ واجب ہے یا مستحب وغیرہ؟ ان سے یہ سوال اس تناظر میں ہوا کہ قربانی کو آپ سنت سے ثابت مستحب حکم مانتے ہیں جبکہ احناف اسے واجب کہتے ہیں۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سنت سے فعل کا مستحب ہونا معلوم ہوتا ہے، اس سے سوا اس کا حکم (کہ مثلاً وہ واجب یا فرض ہے) یہ علم کسی اضافی دلیل سے ہوتا ہے اور اس کے لئے وہ دلائل کی تحقیق کرتے ہیں، چونکہ انہیں قربانی کے وجوب کی دلیل نہیں مل سکی اس لئے یہ مستحب ہے۔ تاہم اس جواب میں چند مشکلات ہیں:۔

الف) قربانی کا مستحب ہونا، یہ حکم امت کے تواتر سے ثابت نہیں۔ مطلب یہ بنا کہ غامدی صاحب ایک ایسے حکم شرعی کو سنت کہہ رہے ہیں جو غیر متواتر ہے۔ کیا اس سے یہ نتیجہ پیدا نہیں ہوتا کہ سنت (جس کے بارے میں ان کا مفروضہ ہے کہ وہ قرآن کی طرح منتقل ہوئی) اس سے ثابت ہونے والے حکم کو سمجھنے میں مسلمانوں کا ایک پورا گروہ غلطی کھا سکتا ہے، جیسے مثلاً احناف نے وجوب قربانی کے مسئلے میں کھائی؟

ب) جسے یہ سنت کہتے ہیں اگر وہ عملی تواتر سے منتقل ہوئی ہے تو اس کے تحقق کے لئے ضروری ہے کہ اس سے ثابت حکم شرعی اسی تواتر سے منتقل ہونا چاہیے، یعنی نبی علیہ السلام نے اسے فلاں نوعیت میں جاری فرمایا۔ تاہم اگر حکم کی نوعیت قرآن کی آیت یا حدیث وغیرہ جیسی دلیل میں تحقیق سے معلوم ہوتی ہے تو مطلب یہ بنا کہ سنت سے ثابت حکم مستقل بالذات نہیں بلکہ یہ دیگر دلائل پر موقوف ہے۔ چنانچہ اگر وجوب “اصل حکم (استحباب)” پر اضافی دلیل سے معلوم ہوتا ہے تو پھر ماننا ہوگا کہ وجوب کا حکم اصلاً اجرائے فعل سے متعلق نہیں بلکہ اس اضافی دلیل سے متعلق ہے۔ مطلب یہ بنا کہ جسے یہ سنت کہتے ہیں اس سے ہمیں صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی علیہ السلام نے اس فعل کو جاری فرمایا، لیکن کس نوعیت میں جاری فرمایا یہ سنت سے معلوم نہیں ہوتا۔

ج) کوئی بھی اضافی دلیل نہ ملنے پر سنت سے ثابت حکم کو استحباب تک محدود رکھنا اس مفروضے پر مبنی ہے کہ “الاصل فی السنة الندب”۔ اس مفروضے کی کیا دلیل ہے؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک فعل کی دلالت محض ندب تک محدود ہے (ایسی صورت میں چند مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں)؟ کیا یہ مفروضہ صرف سنت سے ثابت احکام تک محدود ہے؟

الغرض سنت سے ثابت افعال کی نوعیت متعین کرنے کے باب میں ان کے ہاں ایسے کئی ابہامات ملتے ہیں۔

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

🚫

Room Not Available

This room is already booked for the selected dates.