غامدی صاحب کی کتاب ” برھان” خود انکے بقول ان تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے جن میں معاصر مذہبی علماء اور مفکرین کے افکار پر نقد کیا ہے۔ ان مضامین میں حدود، تعزیرات اور دیت کی شرعی مقدار، جمہوریت کا اسلامی جواز، سیاسی اسلام پر تنقید، اسلامی انقلاب کا ان کے بقول “مسنون طریقہ کار”، تصوف اور بعض تفسیری مباحث شامل ہیں۔غامدی صاحب کی دیگر کتابوں کی طرح اس کتاب کی بھی خاص بات یہ ہے کہ اس کے بیشتر مضامین تنزیل من رب العالمین سے کوئ سروکار نہیں رکھتے، لیکن ان کے اپنے خیال میں کتاب و سنت سے مستفاد ہیں۔ غامدی صاحب کے ناقدین دین کو بجاۓ دین کی منتخب تعلیمات کو اپنے اپنے فرقہ وارانہ نقطہ ہاۓ نظر سے پیش کرتے ہیں اور غامدی صاحب اپنے گروہی و فرقہ وارانہ نقطہ نظر سے ان پر تنقید کرتے ہیں یا جہاں شایان شان سمجھتے ہیں جواب دیتے ہیں۔ غامدی صاحب کے ناقدین خود کو تنزیل من رب العالمین تک محدود رکھتے ہیں اور نہ غامدی صاحب اس محدودیت کو قبول کرنے کے روا دار ہیں۔ متجددین ہوں چاہے روایت پرست ہوں اپنے اپنے مکاتب ہاۓ فکر کے نقطہ نظر سے ایسی گروہی فکر پیش کرنے میں لگے ہوۓ ہیں جس کا “دین” مبداء ہے اور نہ معاد ہے۔ مجتہد امور کا “تنزیل من رب العالمین” سے کوئی علاقہ نہیں اور اگر ہے تو اتنا کہ وہ ان کی فکری اٹھان کا ارشمیدس پوائنٹ ہے اور بس
برہان میں ایک مقالہ دیت پر ہے۔ دیت کی کئی معینہ مقدار مقرر کرنا، دین ہے اور نہ معینہ مقدار مقرر نہ کرنا، دین ہے۔ سیاسی اسلام اور اسلامی انقلاب کے مباحث دین ہے اور نہ اسکی مخالفت میں لکھے جانے والے مضامین دین ہیں۔ اسلامی انقلاب کا یہ طریقہ مسنون ہے اور نہ وہ طریقہ مسنون ہے ۔تصوف دین ہے ور نہ اسکی مخالفت دین ہے۔ جمہوریت، خلافت، آمریت اور بادشاہت دین ہے اور نہ ان کی مخالفت دین ہے۔ قرآن کی آیات نہ ایک زاویہ نظر سے تفسیر کرنا دین ہے اور نہ دوسرے زاویہ نظر سے کرنا دین کی کوئی خدمت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ “برھان” میِں بانی المورد کے ناقدین کے نقطہء نظر جس طرح دین نہیں ہیں اسی طرح خود بانی المورد کا اپنا نقطہ نظر بھی دین نہیں ہے۔
دین کتاب و سنت میں مقید و محدد ہے۔ کتاب اللہ ظاہری شکل و صورت میں بالکل میزان اور برھان جیسی کتاب ہے۔ آخر علماء کرام اور دانشوران عظام کو یہ وہم کیوں لاحق ہو جاتا ہے کہ کتاب اللہ کے بعد اگر ہماری برہان اور میزان نہ پڑھیں گے تو مسلمان گمراہ ہو جائیں گے ؟
نبوت کماھی پر قناعت کرو تو سمجھ آۓ

اقبال کا ایک شعر اور غامدیت
ساری غامدیت اقبال کے اس شعر کے سامنے ڈھیر ہو گئی: بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشقعقل ہے


