ساری غامدیت اقبال کے اس شعر کے سامنے ڈھیر ہو گئی:
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
غامدی صاحب کے داماد اور ان کے بعد ان کی تحریک کے سب سے بڑے نمائندے حسن الیاس صاحب کی طرف سے علامہ اقبال کے شعر “بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق ” کی غلط تعبیر کہ حضرت ابراہیم آتش نمرود میں خود کہاں کودے تھے بلکہ انھیں تو پھینکا گیا تھا، محض فہم کی لغزش ہے اور نہ ہی شعری ڈکشن کو سمجھنے کا مسئلہ۔ دراصل یہ کوئی اتفاقی لغزش نہیں بلکہ غامدی تصور حقیقت کا اظہار ہے۔
یہ فہم علامہ اقبال کے اس شعر ہی کو ڈس کریڈٹ نہیں کرتا بلکہ حضرت ابراہیم کے جذبہ عشق کو بھی ڈس کریڈٹ کر دیتا ہے۔
حسن الیاس جس انداز فکر کے نمائندے ہیں اس میں آگ میں خود کود جانے کی کوئی چوائس ہے ہی نہیں۔ ان عقل پرستوں کے لیے یہ ایک حماقت ہے۔ لہذا وہ یہ تصور کر ہی نہیں سکتے کہ کوئی شخص خود بھی ایسے حالات پیدا کرسکتا ہے کہ اسے آگ میں پھینک دیا جائے۔ یہ آتش نمرود میں کود جانے والے عشق کے مکتبے سے نہیں بلکہ محو تماشائے لب بام عقل کے مکتبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جگہ ہوتے تو نمرود سے مفاہمت و مصالحت کا کوئی نہ کوئی رستہ نکال ہی لیتے۔ لہذا جو شے ان کے اور محمد علی مرزا ٹائپ لوگوں کے تصور حقیقت میں سرے سے ہے ہی نہیں اس کا ہم ان سے تقاضا ہی کیوں کریں۔
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بت کدہ تصورات



