جب قادیانی امام نماز میں غیر المغضوب علیہم پڑھتا ہے تو اس سے اس کی مراد میں وه مسلمان داخل ہوتے ہیں جو کہ مرزا غلام قادیانی کی نبوت کے منکر ہیں اور قادیانی فتوی یہی ہے کہ غیر قادیانی (مسلمان) کے پیچھے نماز ممنوع ہے.
مرزا بشیر (خلیفہ ثانی مرزا غلام قادیانی)، کہتے ہیں
“پھر ایک اور مسئلہ ہے جس کے متعلق بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اس کے متعلق بھی میں کچھ کہنا چاہتا ہوں اور یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام قادیانی) نے سختی سے تاکید فرمائی ہے کہ کسی احمدی کو غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیے. باہر سے لوگ اس کے متعلق بار بار پوچھتے ہیں میں کہتا ہوں تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے اتنی دفعہ ہی میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں جائز نہیں جائز نہیں. میں اس کے متعلق خود کر ہی کيا سکتا ہوں. میں بھی تو اسی کا فرمانبردار ہوں جس کے تم سب ہو. پھر میں کیا کر سکتا ہوں اور میرا کیا اختیار ہے. ہاں میرا یہ فرض ہے کہ میں اپ لوگوں کو حضرت مسیح موعود کا یہ حکم بار بار سناتا رہوں خود مانوں اور تم سے منواؤں…
یہ کون سی عقل مندی ہے کہ خدا کے حضور پیش ہونے کے لیے ایک ایسے آدمی کو اپنے آگے کھڑا کیا جائے جو مغضوب ہو. یہ کوئی مشکل بات نہیں آسانی سے سمجھ میں آ سکتی ہے . اس لیے ان لوگوں کو اپنا امام نہیں بنانا چاہیے جنہوں نے حضرت مسیح موعود کو قبول نہیں کیا کیونکہ وہ خدا تعالی کے حضور مغضوب ٹھہر چکے ہیں اور ہمیں اس وقت تک کسی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیے جب تک وہ بیعت میں داخل نہ ہو جائے اور ہم میں شامل نہ ہو. خدا تعالی کے مامور ایک بڑی چیز ہوتے ہیں جو ان کو قبول نہیں کرتا وہ خدا کی نظر میں مقبول نہیں ہو سکتا. اس میں شک نہیں کہ بعض غیر احمدی ایسے ہوں گے جو سچے دل سے حضرت مسیح موعود کو صادق نہیں مانتے اس لیے قبول نہیں کرتے لیکن ہم بھی مجبور ہیں کہ ایسے لوگوں کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ خواہ کسی وجہ سے سہی وہ حق منکر ہیں. ..
ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک خدا تعالی کے ایک نبی کے منکر ہیں. یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے”(انوار خلافت، ص 91 وما بعدها)
لیکن غامدی صاحب کی وسعت فكرى و قلبی كے تحت قادیانی امام کے پیچھے نماز جائز ہے!.



