یہ تاثر دینا کہ جناب غامدی صاحب نے تصوف کو اپنے منفرد و علمی قسم کے اصول دین کی بنیاد پر متوازی دین قرار دیا ہے، یہ ایک نامکمل بلکہ غیر دلچسپ بات ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ دعوی صوفی لٹریچر کی غلط تفہیم کی بنیاد پر کیا ہے، نہ تو ان کا تصور توحید درست ہے اور نہ ہی ان کا تصور نبوت قرآن و سنت سے ہم آھنگ ہے، اوپر سے متعلقہ مباحث پر گرفت کے بغیر عبارات کو ان کے سیاق سے ہٹا کر ظاہر کلام سے توحش ذدہ ہوکر فتوے لگانے کا منہج۔ ہر معاملے میں بس یہ کہہ دینے سے کہ “دیکھو میرا یا فلاں کا تصور علم الگ ہے” یا “میرا تصور عقل الگ ہے” وغیرہ، اس سے کوئی دلچسپ و بامعنی بات پیدا نہیں ہوجاتی۔ کانٹ ذدگان کو یہ بات ہم نے پہلے بھی سمجھانے کی کوشش کی تھی اور اب پھر کرتے ہیں کہ گدھے کا نام گھوڑا رکھ کر یہ کہتے رہنا کہ دراصل میرا تصور گھوڑا الگ ہے اور تمہارا الگ اور اسے فصل نزاع سمجھ لینا، یہ کوئی علمی گفتگو نہیں ہے۔ گھوڑے سے متعلق ایسے ذاتی تصورات کے ٹٹو کو گھر پر باندھ کر رکھنا چاہئے جبکہ آپ میں اس پر کوئی بامعنی دلیل قائم کرنے اور اس پر پیدا ہونے والے بنیادی سوالات کا جواب دینے کی جرات نہ ہو۔

غامدی صاحب کی غلط تفہیمِ تصوف
یہ تاثر دینا کہ جناب غامدی صاحب نے تصوف کو اپنے منفرد و علمی قسم کے اصول دین کی بنیاد


