مقرر : مولانا طارق مسعود
تلخیص : زید حسن
جسمانی معراج کے انکار پر غامدی صاحب کا استدلال ” وما جعلنا الرؤیا التی” کے لفظ رویا سے ہے ۔
حالانکہ یہاں لفظ رویا میں خواب اور رویت بمعنی منظر دونوں کا احتمال ہے اور واقعے کے جسمانی یا روحانی ہونے پر قرآن کا بیان جہاں سے شروع ہو رہا ہے وہی معراجِ جسمانی کی طرف مشیر ہے اور لفظ رویا کا معنی متعین کر رہا ہے۔
قرآن کہتا ہے : “سبحن الذی اسریٰ بعبدہ ” الی اخرہ
سبحن کے لفظ کا اور خاص کر اس صفتِ خدا کا اضافہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی اگر معاملہ جائے نقد نہ ہوتا ۔ اور تنقید جسمانی معراج پر ہی ممکن ہے ۔ خواب میں معراج ہو جانا نقد کی جگہ نہیں ہے ۔ اس لئے خدا نے ابتداء ہی میں بتا دیا کہ خدا اس پر قدرت رکھتا ہے ۔
بشکریہ
Massage TV
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویڈیو درج ذیل لنک سے ملاحظہ فرمائیں

دینِ اسلام ہی واحد حق ہے
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کے دامادِ عزیز مذہب “شرک” کےلیے ان حقوق کی بات کررہے ہیں جو ایک


