مولانا حمید الدین فراہی نے ’نظمِ قرآن‘ کا جو تصور دیا اور جس میں مزید تفصیلات کا رنگ بھر کر مولانا امین احسن اصلاحی نے اس کی روشنی میں قرآن کریم کی مفصل تفسیر ’تدبرِ قرآن‘ کے عنوان سے لکھی، اس نے صرف قرآن کریم کے فہم کے مناہج پر ہی اثرات مرتب نہیں کیے، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو بھی ایک بالکل ہی مختلف زاویے سے دیکھنے کی دعوت دی ہے۔ جناب جاوید احمد غامدی جو خود کو مکتبِ فراہی سے منسوب کرتے ہیں، قرآن کریم کو ’پیغمبر کی سرگزشتِ انذار‘ کہتے ہیں۔ انھوں نے ’اتمامِ حجت‘ کے اپنے مخصوص نظریے کی بنیاد پر بہت سارے احکام کو رسول اللہ ﷺ کے اولین اور براہِ راست مخاطبین تک محدود کردیا ہے۔ ان احکام میں صرف جہاد و قتال اور مرتد کی سزا جیسے مسائل ہی نہیں، بلکہ غیر مسلموں سے نکاح اور مسلمانوں کی وراثت سے ان کی محرومی جیسے امور بھی شامل ہیں۔
2011ء میں ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی، اسلام آباد، میں استاذِ گرامی ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری مرحوم نے ’سیرت نگاری پر جدید رجحانات‘ کے عنوان سے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں راقم نے ”فراہی مکتبِ فکر کی سیرت نگاری“ پر مقالہ پیش کیا تھا اور اس میں خصوصاً درج ذیل تین پہلوؤں کی نشان دہی کی تھی: نظمِ قرآن کا تصور، نبی اور رسول کی منصبی حیثیت میں فرق اور قرآن اور روایات کا آپس میں تعلق۔
نظمِ قرآن کے تصور کا ایک اہم نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یہ مکتبِ فکر قرآن کریم کی سورتوں کے زمانۂ نزول کے تعین میں بنیادی طور پر سورتوں کے اندرونی شواہد کی طرف دیکھتا ہے اور ان کے علاوہ سورتوں کی ترتیب سے بھی استدلال کرتا ہے۔ مثلاً سورہ فرقان سے سورہ احزاب تک سورتوں کو یہ مکتبِ فکر ایک ’گروپ‘ سمجھتا ہے اور قرار دیتا ہے کہ اس گروپ کی ساری سورتیں مکی ہیں، سوائے آخری سورہ احزاب کے جو مدنی ہے؛ نیز یہ کہ گروپ کے اندر مضمون کا تدریجی ارتقا ہوتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاتا ہے کہ گروپ کے اندر سورتیں نزول کی ترتیب کے مطابق رکھی گئی ہیں، مثلاً سورہ فرقان پہلے نازل ہوئی، پھر سورہ شعرآء، پھر سورہ نمل وغیرہ۔ اسی طرح نبی اور رسول میں یہ مکتبِ فکر جو فرق کرتا ہے، اس کے نتیجے میں رسول اللہ ﷺ کے غزوات کو آپ کے براہِ راست مکذبین کے لیے ’عذابِ الٰہی‘ کی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے، جبکہ آپ کے بعد کی جنگوں کے متعلق ایسا نہیں کہا جاسکتا۔
قرآن کریم اور روایات کے تعلق پر میں نے مذکورہ مقالے میں تین پہلوؤں سے بات کی تھی: ایک، یہ مکتبِ فکر حدیث اور سنت میں فرق کرتا ہے؛ دوسرا، یہ مکتبِ فکر اس کا قائل ہے کہ حدیث کی روشنی میں قرآن کی تاویل کرنے کے بجائے قرآن کا جو مفہوم اس مکتبِ فکر نے متعین کیا ہے، اس کی روشنی میں حدیث کی تاویل کی جائے، اگر ممکن ہو، ورنہ اس کے متعلق خاموشی اختیار کی جائے، اور بعض اوقات انکار کیا جائے؛ تیسرا، یہ مکتبِ فکر شانِ نزول کی روایات اور سیرت کی روایات کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔
فراہی مکتبِ فکر کے اصولوں اور مولانا اصلاحی کی تفسیر میں ان اصولوں کے عملی اطلاق کی روشنی میں مولانا اصلاحی کے شاگرد جناب خالد مسعود نے ’حیاتِ رسولِ امی ﷺ‘ کے عنوان سے کتاب لکھی، تو اس میں ایک اور پہلو بھی سامنے آگیا۔ یہ پہلو مولانا اصلاحی کے ان محاضرات میں بھی موجود تھا جو انھوں نے ’مبادیِ تدبرِ حدیث‘ کے عنوان سے دیے تھے اور ان کا نسبتاً واضح اظہار مولانا اصلاحی کے ’دروسِ صحیح بخاری‘ اور ’دروسِ موطا امام مالک‘ میں بھی ہوا تھا، لیکن سیرت النبی ﷺ کے تناظر میں ان کا اطلاق جناب خالد مسعود کی اس کتاب میں ہی ہوا۔ یہ پہلو روایات کے متعلق مستشرقین اور منکرینِ حدیث کی تنقید سے متاثر ہونے کا ہے۔ اس کے نتیجے میں مصنف ان بہت سی روایات کا یا تو انکار کرتے ہیں یا ان کی تاویل کرتے ہیں جن میں انھیں ’بنو امیہ سے مخاصمت‘ کی جھلک دکھائی دیتی ہے، یا جہاں ان کو ایک مخصوص فرقے کے راویوں کا نظریہ کارفرما نظر آتا ہے۔ امام ابن شہاب زہری کی روایات کو وہ خصوصاً تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
جناب غامدی نے بھی ان پہلوؤں سے سیرت النبی ﷺ پر بات کی ہے اور وہ نسبتاً زیادہ صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ حدیث سے دین کا کوئی نیا حکم معلوم نہیں ہوتا ، نیز وہ حدیث کو تاریخ قرار دیتے ہیں۔ فراہی مکتبِ فکر کے کام میں ان کا اضافہ یہ ہے کہ وہ حدیث کے مشمولات کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: نبی کا علم ، نبی کی فقہ اور نبی کی سیرت۔
سیرت النبی ﷺ کے متعلق جو تصور غامدی صاحب کی تفسیر ’البیان‘ سے بنتا ہے، اس کی ایک اہم خصوصیت پر بات ضروری ہے۔ اپنی تفسیر کی آخری جلد میں وہ مولانا اصلاحی کی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ سورتوں کا آخری گروپ سورہ ملک سے شروع ہوکر سورہ ناس پر ختم ہوتا ہے۔ تاہم اس میں وہ یہ اضافہ کرتے ہیں کہ اس گروپ میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے تمام مراحل سامنے آجاتے ہیں۔ ان کے نزدیک سورہ ملک سے سورہ جن تک کی سورتیں دعوت کے بالکل پہلے مرحلے میں نازل ہوئیں جب رسول اللہ ﷺ قریش کی اشرافیہ کو مخاطب کرکے ان کو دین کی دعوت دے رہے تھے؛ سورہ مزمل سے سورہ الم نشرح تک سورتوں کو وہ ’انذارِ عام‘ کے مرحلے میں، جبکہ سورہ تین سے سورہ قریش تک سورتوں کو وہ ’اتمامِ حجت‘ کے مرحلے میں رکھتے ہیں؛ سورہ ماعون سے سورہ اخلاص تک سورتوں کے متعلق وہ قرار دیتے ہیں کہ یہ ’ہجرت و براءت‘ کے مرحلے میں نازل ہوئیں؛ اور آخری دو سورتوں کو وہ بعد از ہجرت نازل شدہ مانتے ہیں۔
اس تصور پر بہت سارے سوالات اٹھتے ہیں، لیکن سرِ دست ایک سوال ذکر کرتے ہیں۔ کیا سورہ ملک سے سورہ جن تک چھ سورتوں کے مشمولات کو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بالکل ابتدائی مرحلے کے مباحث مانا جاسکتا ہے؟ مثلاً سورہ ملک میں مخالفین پوچھتے ہیں کہ عذاب کب آئے گا؟ سورہ قلم میں رسول اللہ ﷺ کو مخالفین کی جانب سے مجنون کہنا (نعوذ باللہ) ذکر ہوا ہے۔ سورہ نوح میں مخالفین کے صفحۂ ہستی سے مٹانے کی دعا ہے۔ سورہ جن میں مخالفین کا رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں نماز سے روکنا مذکور ہے۔
تھیوڈور نولدیکے نے بھی اپنے تئیں قرآن کی سورتوں کی نزولی ترتیب مقرر کی تھی جس میں کچھ تبدیلیاں رچرڈ بیل نے کیں، پھر منٹگمری واٹ نے ان دونوں کی روشنی میں سیرت پر دو کتابیں (’محمد ﷺ مکہ میں‘ اور ’محمد ﷺ مدینہ میں‘) لکھیں۔ ان مستشرقین کے کام اور جناب غامدی کے کام میں یہ نکتہ مشترک ہے کہ ان میں سیرت و حدیث کے ذخیرے کو ناقابلِ التفات سمجھ کر قرآن کے ’اندرونی شواہد‘ کی بنیاد پر سیرت مرتب کرنے کی کوشش کی گئی ہے، حالانکہ یہ ’اندرونی شواہد‘ بسا اوقات ان مصنفین کے اپنے مفروضے ہوتے ہیں، ایسے مفروضے جو بہت ہی کمزور بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔

غامدی کا تصورِ سیرت
مولانا حمید الدین فراہی نے ’نظمِ قرآن‘ کا جو تصور دیا اور جس میں مزید تفصیلات کا رنگ بھر کر


